دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتا ہوں، امریکی صدر

کوئی بھی عالمی قانون مجھے فوجی کارروائی سے نہیں روک سکتا، امریکی صدر
شائع 09 جنوری 2026 11:49am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتا ہوں۔ بطور کمانڈر اِن چیف ان کے اختیارات کو صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور سوچ محدود کرتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین یا دیگر ضوابط ان کے فوجی فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر طاقت کے استعمال سے متعلق اپنے سخت اور غیر روایتی نظریے کا کھل کر اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بطور کمانڈر اِن چیف ان کے اختیارات کو صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور سوچ محدود کرتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین یا دیگر ضوابط ان کے فوجی فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

اِنٹرویو میں جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی عالمی طاقت پر کوئی حد لاگو ہوتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا دماغ یہی واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کے خواہاں نہیں ہیں۔ تاہم جب ٹرمپ سے مزید سوال کیا گیا کہ کیا ان کی انتظامیہ کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گے کہ یہ پابندیاں امریکا پر کب اور کیسے لاگو ہوں گی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا کرتے ہیں۔

انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے پہلی بار انتہائی دو ٹوک انداز میں اس نظریے کا اظہار کیا کہ عالمی سیاست میں طاقت کا فیصلہ قوانین، معاہدوں اور روایات کے بجائے قومی قوت کو کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق فوجی، معاشی اور سیاسی طاقت کے تمام ذرائع استعمال کر کے امریکی برتری کو یقینی بنانا ان کی ترجیح ہے۔

دوسری جانب گرین لینڈ سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 1951 کے معاہدے کے تحت امریکی فوجی اڈے دوبارہ کھولنا کافی نہیں، بلکہ اس خطے کی ملکیت انتہائی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکیت ایسی صلاحیتیں فراہم کرتی ہے جو محض لیز یا معاہدے سے حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ کا حجم ٹیکساس سے تین گنا بڑا ہے جبکہ وہاں کی آبادی 60 ہزار سے بھی کم ہے، اور اس کا کنٹرول کسی نیٹو اتحادی کے پاس ہونا ان کے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔

صدر ٹرمپ کا یورپ سے متعلق انٹرویو میں کہنا تھا کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لیکن انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو روس اس وقت پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔

GREENLAND

President Donald Trump

U.S Army