اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی، ماحول دوست اقدام یا نیا بحران؟
اسلام آباد میں 29 ہزار سے زائد پیپر مل بیری (جنگلی شہتوت) کے درخت کاٹ دیے گئے، جن میں پچاس سال پرانے درخت بھی شامل تھے۔ وزیراعظم نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سی ڈی اے سے تفصیلات مانگ لی ہیں۔ ڈی جی انوائرمنٹ سی ڈی اے عرفان عظیم نیازی کا کہنا ہے کہ پیپر مل بیری کے بدلے پھل دار اور چیڑ کے درخت لگائے جائیں گے۔
اسلام آباد میں پیپر مل بیری کے نام پر انسانی صحت کے لیے مفید اور ماحول دوست درختوں کی بڑی تعداد کاٹ دی گئی، جس میں پچاس سال پرانے درخت بھی شامل تھے۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے ) نے گزشتہ سال سے پیپر مل بیری کی کٹائی کے ٹھیکے دیے، اور شکرپڑیاں، ایف نائن پارک، سری نگر ہائی وے سمیت مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 29 ہزار سے زائد درخت کاٹے جا چکے ہیں۔
سی ڈی اے نے دعویٰ کیا کہ یہ کٹائی الرجی پیدا کرنے والے درختوں کے لیے کی گئی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا شجرکاری کی جانب گامزن ہے اور ہم مخالف سمت میں چل پڑے ہیں۔ کٹائی کے دوران دیگر انسانی دوست درخت بھی متاثر ہوئے ہیں۔ شہریوں اور ماحولیاتی حلقوں نے سی ڈی اے کے اس عمل پر سخت تنقید کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کی نشاندہی اور معاملے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سی ڈی اے سے معاملے کی تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ ہر کٹے ہوئے درخت کے بدلے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
بعدازاں، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی زیرِ صدارت اسلام آباد کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں الرجی پیدا کرنے والے پیپر مل بیری درختوں کی مرحلہ وار کٹائی پر بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ پیپر مل بیری کے بدلے مقامی، پھل دار اور چیڑ کے درخت لگائے جائیں گے۔ اجلاس میں ہر کٹے ہوئے درخت کے مقابلے میں مزید درخت لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
وفاقی وزیر نے اسلام آباد کے سبزے کو ہر صورت محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا دارالحکومت کے سبزے کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا- قوانین و قواعد کی مکمل پاسداری کے بغیر کوئی ماحولیاتی اقدام نہیں لیا جائے گا، ماحولیاتی قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے گی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی ماحولیاتی بہتری حکومت کی ترجیح ہے اوراسلام آباد کے شہریوں کی صحت حکومت کی ذمہ داری ہے، شجرکاری مہم میں تمام اداروں کا مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ، آئندہ اقدامات پر باہمی تعاون کا بھی فیصلہ کیا گیا۔















