پی ٹی آئی کا جلسہ مزارِ قائد پر ہی ہوگا: حلیم عادل شیخ کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ آج کا جلسہ لازمی ہوگا اور مزار قائد پر ہوگا۔ انہوں کارکنان کو مزار قائد کے باہر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
حلیم عادل شیخ نے اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جلسہ کرنا پی ٹی آئی کا قانونی حق تھا اور اس کے لیے درخواست بھی دی گئی تھی، تاہم این او سی کے اجرا میں تاخیر کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کل شام پانچ بجے تک اجازت نامہ جاری نہیں ہوا تھا، اس دوران کارکنان کو باغ جناح سے بھی واپس بھیجا گیا اور کچھ افراد پر ڈنڈے برسائے گئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ مزار قائد کے پبلک گیٹ پر جلسے سے کوئی راستہ نہیں رکتا، رات کو باغ جناح کے گیٹ پر تالے لگائے گئے، ہمیں باغ جناح میں بھی نہیں جانے دیا گیا، کارکنان اور عہدیداروں پر ڈنڈے برسائے گئے، ان کی گرفتاریاں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھ بجے این او سی دے بھی دیتےتو اس دورانیے میں انتظامات مشکل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اجازت دی تھی تو ہمارے وینڈر کو کیوں مار کے بھگایا گیا؟ رات دیر گئے این او سی کے باوجود 12 بجے کے بعد شدید پولیس گردی کیوں کی گئی، یہ ایک مہمان وزیرِاعلیٰ کو حیدرآباد سے کراچی تک سات گھنٹے میں پہنچایا گیا، اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ روز جلسہ مزار قائد کے باہر کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں این او سی جاری ہونے کے بعد جلسہ باغ جناح میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور اب دوبارہ جلسہ مزار قائد پر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے جلسے کے لیے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں 26 شرائط رکھی گئی ہیں جن کے تحت جلسہ شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک منعقد کیا جا سکے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ پنڈال کی مکمل جانچ کے بعد اسے منتظمین کے حوالے کرے گا، جلسے کی پوری ویڈیو ریکارڈنگ کرنا اور اگلے روز متعلقہ اداروں کو جمع کروانا منتظمین کی ذمہ داری ہوگی۔
سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سڑکوں پر جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے تمام انتظامات منتظمین کی ذمہ داری ہوں گے۔
سندھ کے وزیرداخلہ ضیاء لنجار اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ حکومت باغِ جناح میں جلسے کے لیے تعاون کرے گی مگر کسی بھی صورت سڑک پر جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عوام کو تکلیف پہنچانے والے اقدامات کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی۔
وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بھی کہا کہ جلسے کے دوران قانون اور امن و امان کی مکمل ذمہ داری منتظمین پر ہوگی اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا ریاست کے خلاف تقاریر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا بھی منتظمین کی ذمہ داری ہوگی۔













