ایران میں مظاہرے تھم گئے، خطے میں تناؤ برقرار

امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
شائع 14 جنوری 2026 08:53am
علامتی تصویر
علامتی تصویر

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے اور مختلف شہروں میں حالات بتدریج معمول کی طرف آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق بین الاقوامی فون کالز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ سiکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ کی بندش کا فیصلہ کیا گیا تھا، جبکہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ایک امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ مواد مبینہ طور پر بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی امریکی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر طرح سے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ دفاعی اور سiکیورٹی تیاری جون 2025 میں ہونے والے امریکی فضائی حملوں کے وقت سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین دانشمندانہ راستہ اختیار کریں گے اور حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے آغاز کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ بند کرنا پڑا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر عامر سعید ایراوانی نے سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران میں سیاسی عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایرانی سفیر نے یہ بھی لکھا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے بیان کے مطابق امریکا ایران میں فوجی مداخلت کے لیے مختلف بہانے تلاش کر رہا ہے اور امریکی پالیسیوں کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پابندیوں، دھمکیوں اور اندرونی انتشار کو جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کا یہ منصوبہ ماضی کی طرح ایک بار پھر ناکام ہوگا۔

ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران پر ممکنہ حملے کی تیاریوں میں تیزی کر دی ہے اور پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے سامنے مختلف آپشنز رکھ دیے ہیں۔ امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔

ایک اسرائیلی اخبار نے ایران میں مظاہروں کے دوران دو ہزار اموات کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

موجودہ حالات کے پیش نظر ایران کی جامعات میں امتحانات ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایران میں اگرچہ احتجاج کا سلسلہ رک گیا ہے، لیکن داخلی اور خارجی سطح پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Donald Trump

US sanctions

Iran

Iran Protest

President Donald Trump

Iran US talks

iran inflation

Iran Unrest

Iran Protests

U.S. President Donald Trump

Iran Crisis

Iran Revolution

US Preparing to Attack Iran

Iranian government

Iran Support

Iran Proxies

Iran Economic Crisis