ٹک ٹاک کا 13 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی کڑی نگرانی کا فیصلہ

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کی حفاظت کو بہتر بنانا اور یورپی قوانین کی تعمیل کرنا ہے.
شائع 16 جنوری 2026 02:52pm

ٹک ٹاک جلد ہی یورپ میں عمر کی جانچ کے لیے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے جا رہا ہے تاکہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس کی شناخت بہتر طریقے سے کی جا سکے۔

رائٹرز کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نظام ایک سال کے پائلٹ پروگرام کے بعد تیار کیا گیا ہے اور اس میں صارفین کی پروفائل معلومات، پوسٹ کردہ ویڈیوز اور رویے کے نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ 13 سال سے کم عمربچوں کے اکاؤنٹس کی شناخت بہتر طریقے سے کی جا سکے۔

ٹک ٹاک نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے ذریعے نشاندہی کیے گئے اکاؤنٹس کو فوراً خودکار طور پر بند نہیں کیا جائے گا بلکہ ماہر موڈریٹرز ان کا جائزہ لیں گے۔

کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ میں صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قوانین کی پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے۔

یورپی حکام نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ صارفین کی عمر کی تصدیق مؤثر اور محفوظ طریقے سے کریں۔ موجودہ طریقے بعض اوقات یا تو ناکافی ہوتے ہیں یا صارفین کی ذاتی معلومات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

اپیل کی صورت میں، ٹک ٹاک ’یوٹی‘ نامی ادارے کی فیشل ایج ایسٹیمیشن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، جبکہ اس کے ساتھ کریڈٹ کارڈ کی جانچ اور سرکاری شناختی دستاویزات بھی دیکھی جائیں گی۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر یورپی قوانین کے مطابق تیار کی گئی ہے، اور کمپنی نے بتایا کہ یورپی صارفین کو اس کے آغاز کے وقت آگاہ کیا جائے گا۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کی حفاظت کو بہتر بنانا اور یورپی قوانین کی تعمیل کرنا ہے، کیونکہ دنیا میں ابھی کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں جو صارف کی عمر کی تصدیق کرتے ہوئے پرائیویسی کو مکمل طور پر محفوظ رکھ سکے۔

اس سے پہلے برطانیہ میں پائلٹ پروگرام کے دوران ہزاروں ایسے اکاؤنٹس ختم کیے گئے تھے جو 13 سال سے کم عمر بچوں کے تھے۔ دیگر ممالک جیسے آسٹریلیا اور ڈنمارک نے بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مخصوص عمر کی حدیں مقرر کی ہیں۔

TECHNOLOGY

TikTok

social media

Regulations

digital platforms

Children Safety

Europe Regulators

Data Privacy

Age Verification