22 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچنے پر تاجروں کا احتجاج، میئر کراچی ”نامنظور“ کے نعرے
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب 22 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے تو تاجروں کا میٹر گھوم گیا۔ تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی اور سوال کیا کہ 22 گھنٹے بعد کیوں آئے ہو، آپ بس ای چالان لے لو 10 ہزار روپے کا۔
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تقریباً 22 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے، جس پر تاجروں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور احتجاج کیا۔
تاجروں نے سوال اٹھایا کہ 22 گھنٹے بعد آنے کا کیا جواز ہے اور کہا کہ ہم ٹیکس دہندگان ہیں، ایسا رویہ قابل قبول نہیں۔ احتجاج کے دوران تاجروں نے کہا کہ 22 گھنٹے بعد آئے ہو بھائی، ایسا کہاں ہوتا ہے۔
بعض تاجروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ بس ای چالان لے لو 10 ہزار روپے کا۔ اس موقع پر ”نامنظور، نامنظور“ اور ”میئر کراچی نامنظور“ کے نعرے بھی لگائے گئے۔
تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات اور بروقت امداد سے محروم ہیں۔ احتجاج کے دوران بعض افراد کی جانب سے میئر کراچی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے سخت جملے بھی کہے گئے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ گل پلازہ میں 65 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ محصور افراد کو ہمت دے اور انہیں بحفاظت نکالا جائے۔
واقعے کے بعد گل پلازہ اور اطراف کے علاقے میں صورت حال کشیدہ رہی جب کہ تاجر اپنی شکایات اور تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔
یاد رہے کہ میئر کراچی سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے چکے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور مالی نقصان پر بھی دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے آگ بجھانے کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ شاپنگ مال میں رات گئے لگنے والی آگ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے، آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 58 افراد لاپتہ ہیں جب کہ آگ سے 30 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے 18 کی حالت نازک ہے۔












