سندھ حکومت کا تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر کے نیا گریڈنگ نظام نافذ

گریڈ سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
اپ ڈیٹ 20 جنوری 2026 12:20pm

سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں پرانے نمبر سسٹم کو ختم کر کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے لیے نئے گریڈنگ سسٹم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

وزیر جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو کے مطابق یہ قدم وفاقی پالیسیوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت لانا ہے۔

وزیر جامعات نے بتایا کہ نئے گریڈنگ نظام کے تحت طلبہ کی کارکردگی کو مختلف گریڈز میں تقسیم کیا جائے گا۔

پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

96 فیصد سے 100 فیصد نمبر لینے والے طلبہ اے ڈبل پلس گریڈ میں آئیں گے۔

91 فیصد سے 95 فیصد نمبر لینے والے طلبہ اے پلس گریڈ میں آئیں گے۔

86 فیصد سے 90 فیصد نمبر لینے والے طلبہ اے گریڈ کے اہل ہوں گے۔

81 فیصد سے 85 فیصد نمبر لینے والے طلبہ بی ڈبل پلس گریڈ میں آئیں گے۔

76 فیصد سے 80 فیصد نمبر لینے والے طلبہ بی پلس گریڈ میں آئیں گے۔

71 فیصد سے 75 فیصد نمبر لینے والے طلبہ بی گریڈ میں آئیں گے۔

61 فیصد سے 70 فیصد نمبر لینے والے طلبہ سی پلس گریڈ کے اہل ہوں گے۔

51 فیصد سے 60 فیصد نمبر لینے والے طلبہ سی گریڈ میں آئیں گے۔

40 فیصد سے 50 فیصد نمبر لینے والے طلبہ امر جنگ ہوگا اور یہ ڈی گریڈ میں شمار ہوں گے۔

40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ ناکام ہوں گے اور انہیں ”انڈر گریڈ“ دیا جائے گا۔ اور فیل طلبہ کو وہی پرچے دوبارہ دے کر اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے نظام کا مقصد طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا بہتر اندازہ لگانا اور صوبے میں تعلیمی معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق لانا ہے۔

محمد اسماعیل راہو نے بتایا کہ نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق مرحلہ وار کیا جائے گا اور رواں سال 9 ویں اور 11 ویں کلاس کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس کا آغاز ہوگا۔ سال 2027 تک دہم اور بارہویں کے امتحانات پر بھی یہ گریڈ سسٹم کا اطؒاق ہوگا۔

وزیر جامعات نے کہا کہ نظام کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔