گرین لینڈ امریکا کی ضرورت ہے، کوئی ملک اس کی حفاظت نہیں کر سکتا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی ضرورت ہے اور اس کی حفاظت دنیا کی کسی بھی قوم یا گروپ آف نیشن کے بس کی بات نہیں اور یہ صرف امریکا ہی کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایکشن لیا گیا تو گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم میزائل سسٹم ہوگا اور برف کے اس ٹکڑے پر میزائل اڑتے نظر آئیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامکس فورم (ڈبلیوای ایف) سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی حوالوں کے ساتھ بتایا کہ جنگ عظیم دوئم میں ڈنمارک صرف چھ گھنٹے میں جرمنی کے سامنے ہار گیا تھا، لیکن بعد میں امریکا نے گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حفاظت کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے اپنی فورسز گرین لینڈ بھیجیں، ہم نے گرین لینڈ کو بچایا، جرمنی، جاپان اور اٹلی کو جنگ میں شکست دے کر ہم نے ڈنمارک کو گرین لینڈ واپس دے دیا۔ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہم کتنے بے وقوف تھے، اب وہ کتنے ناشکرے ہیں، اب ان کے پاس صرف دو آپشن ہیں یہ ’ہا‘ں کہیں یا ’نہ‘۔
صدر ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے گرین لینڈ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ کسی بھی قوم یا گروپ آف نیشن کے بس کی بات نہیں، صرف امریکا ہی اسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اتنا طاقت ور ہے کہ لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے، وینزویلا کو ہی دیکھ لیں۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ امریکا آج اپنی فوج، بیٹل شپس اور میزائل سسٹمز میں ماضی سے 100 فیصد زیادہ طاقت ور ہے اور اگر ضرورت پڑی تو گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم میزائل سسٹم قائم کرے گا اور اگر ہم نے ایکشن لیا تو برف کے اس ٹکڑے پر میزائل اڑ رہے ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے پاکستان سمیت 8 جنگیں رکوایں، وہ گرین لینڈ کے لیے طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ آئندہ بیان دینے سے پہلے یاد رکھو کہ کینیڈا امریکا کی وجہ سے ہے، اسرائیل کا آئرن ڈوم ہماری ٹیکنالوجی ہے، نیٹو اور یورپی نیشن کو کھربوں ڈالرز دیے۔
صدر ٹرمپ نے خطاب میں مزید کہا کہ ہم ایف 47 بنا رہے ہیں، یہ بی ٹو بمبر کی طرح اسٹیلتھ ہوگا، یہ ایران اور دیگر ممالک پر خاموشی سے پرواز کرسکتا ہے۔ ایران پر حملہ نہ کرتے تو 2 ماہ میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، پیوٹن اور زلینسکی ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے نیٹو کی ضرورتوں کو کئی برسوں تک خیال رکھا، ہم نے یوکرین کے معاملے پر نیٹو کی مدد کی، ہماری مدد نہ ہوتی تو پیوٹن پورا یوکرین لے جاتا، ہم نہیں چاہتے کہ تیسری عالمی جنگ ہو۔
اپنے خطاب کے دوران امریکی صدرنے فرانس کے صدر پر بھی طنز کیا کہ میکرون نے کل بڑے خوب صورت سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔ یہ کیا ہورہا ہے؟ ہمیں کسی ملک سے یہ کہلوانے میں 3 منٹ لگتے ہیں کہ ’نہیں نہیں میں یہ کررہا ہوں‘۔
ورلڈ اقتصادی فورم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے برباد ہونے کے قریب تھا، لیکن اب ملکی برآمدات 150 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور فیکٹری کنسٹرکشن میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تاریخی تجارتی معاہدوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں چین پر سبقت حاصل کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت پلانٹس سے امریکا اپنی توانائی کو دگنا کرے گا۔
انھوں نے گرین انرجی کو ایک بڑا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورپ کو عظیم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم یورپ میں ہر جگہ ونڈ ملز ہیں لیکن یہ ’لوزر‘ ہیں، میری ماں اسکاٹ اور والد 100 فیصد جرمن تھے۔















