ٹرمپ کا ’گولڈن ڈوم‘ کیا ہے اور اس کے لیے گرین لینڈ کیوں اہم ہے؟

گولڈن ڈوم پہلا ڈیفنس سسٹم ہے جو خلا سے بھی دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا
اپ ڈیٹ 24 جنوری 2026 06:08pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو دشمن کے ہر قسم کے حملوں سے بچانے کے لیے ایک نئے منصوبے پر کام کررہے ہیں جسے انہوں نے ’گولڈن ڈوم فار امریکا‘ کا نام دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گولڈن ڈوم کی تنصیب کے بعد امریکا روس، چین اور شمالی کوریا سمیت دشمن ممالک کے میزائیل حملوں سے محفوظ ہوجائے گا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال 27 جنوری کو اپنے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے اس منصوبے کو عوام کے سامنے پیش کیا تھا۔ وہ گولڈن ڈوم کو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دینے کے ساتھ اِس منصوبے کی کامیابی کے لیے گرین لینڈ کے حصول کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔

آخر امریکا کو گرین لینڈ میں اس قدر دلچسپی کیوں ہے اور صدر ٹرمپ اس جزیرے پر ہی ’گولڈن ڈوم سسٹم‘ نصب کرنے کی شدید خواہش کیوں رکھتے ہیں؟ اسے سمجھنے کے لیے پہلے گولڈن ڈوم اور اسکی تنصیب کے منصوبے کے بارے میں جان لیتے ہیں۔

گولڈن ڈوم کیا ہے؟

گولڈن ڈوم امریکا کا ایک انتہائی جدید اور ملٹی لیئر میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔ یہ سسٹم امریکا کو دشمن کے ہر قسم کے فضائی حملوں سے مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس نظام میں موجودہ میزائل ڈیفنس سسٹمز سمیت متعدد جدید ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا جائے گا۔

یہ نظام چار سطحوں ہر مشتمل ہوگا، جس میں زمین، سمندر اور خلا میں موجود سینسرز اور ریڈارز شامل ہوں گے جو میزائل کو داغے جانے سے لے کر ہدف تک پہنچنے تک کسی بھی مرحلے پر تباہ کر سکتے ہیں۔

یہ امریکا کا وسیع رینج کا حامل پہلا دفاعی نظام ہوگا جو خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر سکے گا۔

یہ نظام جدید لیزر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) سے لیس ہوگا جو امریکا کی جانب آنے والے کسی بھی میزائیل کی فوری معلومات اکھٹی کرنے اور اسے فضا میں ہی تباہ کرسکے گا۔

جیسے ہی کوئی میزائل امریکا کی جانب داغا جائے گا، خلا میں موجود امریکی سیٹلائٹس میزائیل کے انجن سے نکلنے والی حرارت کو فوراً محسوس کرتے ہوئے زمین پر موجود ریڈارز کو الرٹ بھیجیں گے تاکہ میزائل کی رفتار اور سمت کا درست تعین کیا جا سکے۔

میزائل کے فضا میں بلند ہوتے ہی یہ نظام متحرک ہو جائے گا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوری طور پر فیصلہ کرے گا کہ یہ میزائیل کہاں گرسکتا ہے اور اسے روکنے کے لیے کون سا ہتھیار سب سے موزوں ہے۔

یہ سسٹم میزائل کے اڑان بھرتے ہی اسے دشمن کی حدود میں ہی تباہ کرسکتا ہے۔ جس کے لیے خلا میں موجود ہتھیاروں یا زمین اور سمندر میں موجود دوسرے دفاعی سسٹمز کے ذریعے میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس سسٹم کی ایک خاصیت جدید لیزر ہتھیار ہیں جو روایتی میزائلوں کے برعکس زیادہ تیز رفتار ہوتے ہیں اور دشمن کے میزائل کے الیکٹرانکس یا ڈھانچے کو جلا کر اسے ناکارہ بنا دیتے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے اس ’جدید ترین نظام‘ کے لیے پلان تیار کر لیا ہے، اس کے تحت پہلی بار امریکی ہتھیار خلا میں بھی تعینات کیے جا سکیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک اس نظام کی تمام خصوصیات، خریداری کے منصوبوں، ٹائم لائن اور آپریشنل حکمتِ عملی سے متعلق مکمل تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

البتہ صدر ٹرمپ کا ہدف ہے کہ گولڈن ڈوم منصوبہ 2029 تک مکمل طور پر فعال ہو جائے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 175 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

بعض ماہرین کے مطابق گولڈن ڈوم پر آنے والی لاگت 800 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، یہ ایک ڈھال ہوگی جو دشمن کے کسی بھی میزائل کو امریکی سرزمین چھونے نہیں دے گی۔

گولڈن ڈوم کے لیے گرین لینڈ ہی کیوں؟

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اوراپنی اسٹرٹیجک جغرافیائی حیثیت کے باعث انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ جزیرہ جغرافیائی طور پر شمالی امریکا میں واقع ہے لیکن سیاسی طور پر یہ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ اور یورپ کا حصہ ہے۔

گرین لینڈ شمالی امریکا اور یورپ کے درمیان فضائی اور بحری راستوں کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ایک جانب امریکا، کینیڈا اور دوسری جانب آرکٹک ریجن اور روس واقع ہیں۔

گرین لینڈ کی اہمہت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اگر روس امریکا پر میزائیل داغے تو امریکا تک پہنچنے کے لیے سب سے مختصر راستہ گرین لینڈ کی حدود ہے۔

گولڈن ڈوم کی گرین لینڈ میں تنصیب کی صورت میں امریکا کی جانب بڑھنے والے میزائلوں کو امریکی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں تباہ کیا جاسکتا ہے۔

 Source: JANES
Source: JANES

گرین لیںڈ میں امریکا کا ایک فوجی اڈہ پہلے ہی موجود ہے۔ اس امریکی بیس کی تعمیر امریکا اور ڈنمارک کے درمیان 1951 میں ہونے والے ایک دفاعی معاہدے کے تحت شروع ہوئی جو 1953 میں مکمل ہوئی۔

پٹوفک اسپیس بیس میں نصب ریڈارز دشمن کے میزائلوں اور آبدوزوں کی نقل و حرکت کا ہزاروں کلومیٹر دور سے پتہ لگا سکتے ہیں، جس سے امریکا کو ممکنہ خطرے کی صورت میں ردعمل کے لیے وقت مل جاتا ہے۔ یہاں بیلسٹک میزائلوں کی قبل از وقت اطلاع دینے والا اسٹیشن 1961 میں قائم گیا تھا۔

گرین لینڈ آرکٹک کے علاقے کی نگرانی کے لیے بہترین مقام ہے۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان کا سمندری راستہ ’گیوپ گیپ‘ وہ مقام ہے جہاں سے روسی نیوی اٹلانٹک ریجن میں داخل ہوتی ہے اور امریکا اس خطے میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔

گولڈن ڈوم کی یہاں تنصیب کا مقصد بھی دشمن کے میزائلوں کو ان کے داغے جانے کے ابتدائی مرحلے میں ہی روکنا ہے۔ گرین لینڈ میں اس سسٹم کی تنصیب سے امریکا روس اور چین کے میزائلوں کو ان کی اپنی حدود کے قریب ہی نشانہ بنانے کی پوزیشن میں آجائے گا۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گولڈن ڈوم جیسا پیچیدہ نظام صرف اسی صورت میں اپنی پوری صلاحیت اور ’سو فیصد کارکردگی‘ کے ساتھ کام کر سکتا ہے جب گرین لینڈ اس کا حصہ ہو۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کرائے یا لیز پر حاصل کی گئی زمین کے بجائے گرین لینڈ کی ملکیت سے ہی امریکی دفاع کو زیادہ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک اسٹریٹیجک شیلڈ تصور کیا جا رہا ہے جس کے بغیر گولڈن ڈوم کا امریکی سرزمین کو مکمل تحفظ فراہم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔

بدھ کے روز نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم امریکا طاقت کے ذریعے اس جزیرے پر قبضہ نہیں کرے گا۔

البتہ گرین لینڈ اور ڈنمارک نے امریکا کو تاحال گولڈن ڈوم منصوبے کی تنصیب کے لیے تاحال اجازت نہیں دی ہے۔ دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ یہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کی خودمختاری پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی، تاہم سیکیورٹی اور معاشی ترقی جیسے دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

ڈنمارک نے امریکا کی مسلسل دھمکیوں کے بعد گرین لیںڈ پر فوجی مشقیں شروع کردی ہیں اور کسی بھی فوجی کارروائی کو نیٹو پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب چین نے گولڈن ڈوم سسٹم کے ذریعے امریکا پر خلا کو میدانِ جنگ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

چین کے مطابق یہ منصوبہ آؤٹر اسپیس ٹریٹی 1967 کی خلاف ورزی ہے۔ چین اور روس نے مئی 2025 میں ایک مشترکہ بیان میں بھی گولڈن ڈوم کو عالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔