گل پلازہ کو سیل کرنے کا عمل شروع، 82 تاحال لاپتا، جاں بحق افراد کی تعداد 73 تک پہنچ گئی
کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے اور متاثرہ عمارت کو سیل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ نو سے دس روز کے دوران ملبے سے لاشوں اور انسانی باقیات کی تلاش کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم احتیاط کے طور پر ایک بار پھر سروے ٹیم عمارت کا جائزہ لے گی۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا تھا کہ سرچ آپریشن کے بعد عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا کیونکہ یہ شدید مخدوش ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی کسی شخص کا عزیز لاپتا ہے تو وہ فوری طور پر انتظامیہ سے رابطہ کرے۔
جاوید کھوسو کے مطابق 30 جاں بحق افراد کا ڈیٹا حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے اور جلد ہی ورثا میں چیک تقسیم کیے جائیں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سانحے میں اب تک 73 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، ان میں سے متعدد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی، جبکہ لاپتا افراد کی فہرست 82 تک پہنچ چکی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 13 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ کیا گیا، بار بار رابطے کے باوجود فیملیز ڈی این اے کے نمونے دینے نہیں آرہیں، عمارت سے مزید لاشیں ملنے کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 55 خاندانوں نے ڈی این اے نمونے جمع کرا دیے ہیں جبکہ باقی کو مقررہ وقت دیا گیا ہے تاکہ شناخت کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ اب تک مجموعی طور پر 23 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے جن میں 16 کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ عمارت کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فلور کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے جبکہ ایک محدود حصہ سرچ کے آخری مراحل میں تھا۔ شہریوں کو عمارت کے قریب جانے سے روکنے کے لیے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے اور مختلف مقامات پر ایچ کا نشان لگایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ حصہ غیر محفوظ ہے۔
دوسری جانب پولیس نے واقعے سے متعلق مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے اور اس کے بعد گواہوں اور عملے کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چھ سیکیورٹی گارڈز سمیت متعدد افراد کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں اور تحقیقات کے دوران اگر غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق عمارت سے ملنے والے ڈی وی آر کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ لگنے کے وقت دروازے کیوں بند تھے اور ایمرجنسی کے دوران باہر نکلنے کے راستے کیوں استعمال نہیں ہو سکے۔
سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جن میں تین خواتین شامل تھیں۔ اس موقع پر شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ متاثرہ خاندان کے دیگر دو افراد تاحال لاپتا ہیں۔ اسی طرح دیگر جاں بحق افراد کی نماز جنازہ بھی مختلف علاقوں میں ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔
سانحے کی تحقیقات کے لیے لاہور سے ایک ٹیکنیکل اور فارنزک ٹیم بھی کراچی پہنچی جس نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے مطابق تقریباً 80 سے 90 فیصد سرچنگ مکمل کی جا چکی ہے اور ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا عمل بھی جاری رہا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں گزشتہ ہفتے اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 1200 دکانیں جل کر خاک ہو گئیں اور درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واقعے کے بعد شہر بھر میں عمارتوں کی حفاظت اور فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جن کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔














