ایف بی آر رواں ماہ ہی سپر ٹیکس کی مکمل ریکوری کرے، آئی ایم ایف کی ہدایت
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ سپر ٹیکس کیس کے فیصلے پر ورچوئل بات چیت کی ہے، جس میں آئی ایم ایف نے رواں ماہ کے دوران سپر ٹیکس کی مکمل وصولی کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے سپر ٹیکس کیس کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی ہدایت کی کہ مقررہ ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کے لیے جلد از جلد ریکوری کی جائے۔
خیال رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق تمام اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے ٹیس کو برقرار رکھا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جون 2026 تک سپر ٹیکس کی مد میں تقریباً 3.75 کھرب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے، جس میں سے آئندہ چند دنوں میں تقریباً 3 کھرب روپے وصول کیے جانے کا امکان ہے۔
دسمبر 2025 تک ایف بی آر کی آمدنی میں 340 ارب روپے جمع ہو چکے ہیں اور جون تک مزید 40 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔
ایف بی آر کے حکام کے مطابق سپر ٹیکس کی وصولی کے بعد دسمبر تک ریونیو کا شارٹ فال مکمل ختم ہو جائے گا۔
ایف بی آر کے لیگل ونگ نے سپر ٹیکس کیس کی تیاری میں مکمل ورکنگ کی ہے، جس میں ممبر لیگل، چیف لیگل اور سیکرٹری لیگل عرفات رسول نے اہم کردار ادا کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پریشر تھا کہ سپر ٹیکس کی پینڈنسی فوری طور پر کلیئر کی جائے تاکہ ٹیکس اقدامات کے بجائے آمدنی میں اضافہ ممکن ہو۔
فنانس بل کے مطابق بڑی کمپنیوں پر سپر ٹیکس ایک سے 10 فیصد تک عائد ہے اور اب یہ منافع کی مقررہ شرح حاصل کرنے والی کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔
ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ شارٹ فال کو ختم کرنے کے لیے ٹیکس اقدامات کے بجائے ٹیکس آمدنی بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
















