چیف جسٹس ڈیپوٹیشن پر ایسے جج لائے جو بغیر گواہان کے فیصلے کر دیتے ہیں: جسٹس محسن اختر کیانی

ایک ہی وقوعہ کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا ٹرائل و فیصلہ کیسے کیا گیا؟ عدالت کا سوال
شائع 28 جنوری 2026 04:46pm

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ بار سے کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کر دیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم ذیشان مسیح کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ایک ہی وقوعہ کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا ٹرائل و فیصلہ کیسے کیا گیا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک ہی وقوعہ تھا، 2 ٹرائل الگ الگ کر دیے گئے، یہ قانونی سوال ہے، وکیل دوسرے ٹرائل سے شہادت دکھا رہے ہیں تو وہ عدالت کیسے دیکھ سکتی ہے؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وکلا چیف جسٹس سے مل کر بتائیں کہ جج صاحب نے یہ آرڈر کر دیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کون سے جج صاحب تھے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو جواب دیا کہ جج افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے ریمارکس دیے کہ بار سے کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کر دیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ وکیل کے مطابق جج صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فیصلہ کر دیا، قتل جیسے مقدمہ میں کوئی جج اس طرح جلدبازی کرے گا تو ظلم ہو گا، میں ممبر انسپکشن ٹیم کو کہتا ہوں، ججز کی بھی تھوڑی ٹریننگ کرائیں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں، ہم نے سیکھنا ہے، ہائیکورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سپروائز کرنے کا اختیار ہے، ہائیکورٹ نے دیکھنا ہے کہ نیچے کی عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا ہے۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کو معاونت کیلئے طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔