گل پلازہ آتشزدگی کی حتمی رپورٹ جاری، ہولناک واقعے کے مزید شواہد سامنے آگئے

رپورٹ میں 3 محکموں کی غفلت اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
شائع 29 جنوری 2026 09:19pm

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کی حتمی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں ہولناک آتشزدگی کے مزید اہم شواہد سامنے آئے ہیں جب کہ رپورٹ میں مختلف اداروں کی غفلت اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کی ایک بڑی وجہ منظورشدہ نقشے میں کی گئی غیر قانونی تبدیلیاں تھیں۔

جاری کردہ فیکٹ اینڈ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی کے معاملے میں 3 مختلف محکموں کی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فائربرگیڈ کو آگ لگنے کی اطلاع رات 10 بج کر 26 منٹ پر ملی تاہم آگ بجھانے کے عمل میں تاخیر کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 بج کر 55 منٹ پر آگ کو تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دیا گیا جب کہ واٹر بورڈ کا پہلا واٹر باوزر رات 11 بج کر 53 منٹ پر موقع پر پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق رات 12 بجے بلا تعطل پانی کی فراہمی شروع کی گئی۔

فیکٹ اینڈ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق فائربرگیڈ اور ریسکیو عملے کے پاس گرل کاٹنے کے لیے کٹر موجود نہیں تھے جب کہ سب سے زیادہ افراد میزنائن فلور پر موجود تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کٹر موجود ہوتا تو گرل کاٹ کر لوگوں کو بحفاظت نکالا جاسکتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ہنگامی صورت حال میں عمارت سے باہر نکلنے کا کوئی مؤثر راستہ موجود نہیں تھا حالانکہ منظور شدہ نقشے میں چھت پر باہر نکلنے کے لیے 6 راستے بنائے گئے تھے، آتشزدگی کی ایک وجہ منظورشدہ نقشے میں کی گئی تبدیلیاں تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹس کے دوران نشاندہی کے باوجود ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ کے ایم سی، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پلازہ کا متعدد بار آڈٹ کیا گیا تاہم بغیر حفاظتی اور ماحولیاتی تقاضے پورے کیے تبدیلیاں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق نقشے میں 1102 افراد کی گنجائش درج تھی، جسے بڑھا کر 1153 کردیا گیا جب کہ پلازہ میں موجود سیڑھیوں کی چوڑائی میں نمایاں کمی کی گئی۔ اسی طرح داخلی اور خارجی راستوں کی تعداد 18 سے کم ہوکر 13 رہ گئی۔

سانحہ گل پلازہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری

اس سے قبل سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کردی ہے، یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے تیار کی ہے۔

سانحہ گل پلازہ کی 21 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ منظرعام پر آگئی، انکوائری رپورٹ کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ فلاور اینڈ گفٹ شاپ سے لگی جب کہ رپورٹ میں کم عمربچوں کو دکان میں چھوڑنا سنگین غفلت قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دکان کا مالک نعمت اللہ اپنی دکان 11 سالہ بچے کے حوالے کرکے چلا گیا، ماچس جلانے سے منصوعی پھولوں میں آگ بھڑکی۔

انکوائری رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماچس جلانے سے منصوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی اور آتش گیرمواد کے باعث آگ نے تیزی سے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، یہ سارا واقعہ پڑوسی دکان کے ایک ورکر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، چوکیدار نے آگ کے 5 منٹ بعد بجلی بند کی جس کی وجہ سے پلازہ میں موجود 2500 افراد میں خوف وہراس پھیلا، غیرمحفوظ برقی نظام بھی آگ کی شدت بڑھنےکی وجہ بنا۔