بلوچستان کے حقوق کی تحریک اسمگلنگ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے: خواجہ آصف

اسمگلنگ کی روک تھام کے بعد اب یہ گروہ صوبے میں بدامنی پھیلا رہے ہیں: خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب
اپ ڈیٹ 02 فروری 2026 07:58pm

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حقوق کے نام پر جاری تحریک کا جھوٹا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔ جرائم پیشہ افراد تیل کی اسمگلنگ سے یومیہ چار ارب روپے کما رہے تھے تاہم حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کے بعد یہی عناصر اب صوبے میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔

پیر کے روز قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے نام پر سرگرم تحریک بنیادی طور پر اسمگلرز کے کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحریک خود کو قوم پرست تحریک کہتی ہے مگر اب یہ جرائم پیشہ افراد اور اسمگلروں کی تحریک بن چکی ہے اور وہی اس کی فنڈنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں بیوروکریسی، قبائلی قیادت اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ نیٹ ورک صرف تیل کی اسمگلنگ سے روزانہ 4 ارب روپے کماتا ہے۔ ایران سے اجازت نامے کے تحت 40 روپے فی لیٹر تیل خرید کر 200 روپے لیٹر پر فروخت کیا جاتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور پاک افواج ان گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں، جس سے ان کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں بدامنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی اسمگلنگ روکنے پر یہ نیٹ ورک بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 40 فیصد علاقہ ہے جہاں ہر 35 کلومیٹر پر ایک شخص آباد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں نگرانی اور پٹرولنگ گنجان آباد علاقوں کے مقابلے میں انتہائی مشکل کام ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔

وزیرِ دفاع نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان یا دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت جانے والا سامان دوبارہ پاکستان لا کر مقامی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا تھا۔

انہوں کہا کہ حکومت نے اس غیر قانونی عمل کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے، جس کے بعد چمن بارڈر سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھارت کے حمایت یافتہ عناصر بطور پراکسی سرگرم رہے ہیں جبکہ افغانستان کی سرزمین بھی صوبے میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور وہیں سے انہیں معاونت ملتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ لوگ دہشت گردوں یا اس نام نہاد تحریک سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ اس گروہ کی کوئی سیاسی یا قوم پرستانہ شناخت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 16 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں مارے گئے دہشت گرد اسی جرائم پیشہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے، ان کا انسانی حقوق یا قوم پرستی کا دعویٰ محض ایک جھوٹا بیانیہ تھا جو اب بے نقاب ہوچکا ہے۔