ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت میچ نہ ہونے سے بھارت کو کتنا نقصان ہوگا؟
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کے بعد بھارتی براڈ کاسٹرز کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ پاک بھارت کرکٹ میچ کو دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ قرار دیا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک بھارت میچ نہ ہونے کی صورت میں بھارتی براڈ کاسٹرز کو تقریباً 500 ملین ڈالرز (تقریباً 140 ارب پاکستانی روپے) تک کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس تخمینے میں نشریاتی حقوق، اشتہاری نرخ، اسپانسرشپ سرگرمیاں، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔
پاکستان کو گروپ اے میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ایونٹ کے کچھ میچز بھارت میں کھیلے جائیں گے جب کہ پاکستان اپنے تمام گروپ میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔ پاکستان 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف مہم کا آغاز کرے گا، 10 فروری کو امریکا جب کہ 18 فروری کو نمیبیا کے مدمقابل آئے گا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاک بھارت میچ کے دوران 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت عموماً 25 لاکھ سے 40 لاکھ بھارتی روپے (76 لاکھ سے 1 کروڑ 22 لاکھ پاکستانی روپے) تک پہنچ جاتی ہے، جو دیگر اہم ناک آؤٹ میچز کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس میچ سے اشتہارات کی مد میں تقریباً 3 ارب بھارتی روپے (9.2 ارب پاکستانی روپے) آمدن متوقع تھی جب کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو فوری طور پر تقریباً 2 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نقصان کی صورت میں براڈکاسٹر اپنا نقصان آئی سی سی سے پورا کرتا ہے جس کے بعد صرف پاکستان اور بھارت کے ریوینیو میں ہی کٹوتی نہیں ہوگی بلکہ دیگر فُل اور ایسوسی ایٹ بورڈز کی ادائیگیوں میں آئی سی سی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
واضح رہےکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے و الے ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران سکیورٹی خدشات کی بناء پر اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بنگلا دیش کے اس مؤقف کی حمایت کی تھی۔
تاہم آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا حصہ بنا دیا۔ آئی سی سی کی بھارت نواز پالیسیوں اور بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے آؤٹ کرنے پر پاکستان نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔












