بنگلادیش کو کیا کچھ ملے گا؟ آئی سی سی نے مذاکرات کی تفصیلات جاری کر دیں

بنگلادیش کو 2031 تک ایک ایونٹ کی میزبانی دی جائے گی: آئی سی سی کا اعلان
اپ ڈیٹ 09 فروری 2026 11:29pm

پاکستان کی بنگلادیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کی گئی کوششیں رنگ لے آئیں۔ آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ ایونٹ میں شرکت نہ کرنے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا اور اسے مستقبل میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ساتھ مذاکرات کی باضابطہ تفصیلات جاری کردی ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مذاکرات کے دوران متعدد اہم امور زیرِ غور آئے، جن میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں عدم شرکت کا معاملہ بھی شامل تھا۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ایک باوقار فُل ممبر ملک قرار دیتے ہوئے اس کی کرکٹ کی شاندار تاریخ اور عالمی سطح پر کھیل کی ترقی میں اس کے اہم کردار کا اعادہ کیا۔

آئی سی سی نے واضح کیا کہ وہ بنگلہ دیش میں کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گا۔ آئی سی سی کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیشی ٹیم کی عدم شرکت کے ملکی کرکٹ پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔

آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کی شرائط کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پر کسی بھی قسم کی پابندی یا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بی سی بی کو آئی سی سی کے موجودہ ضوابط کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی سے رجوع کرنے کا حق حاصل رہے گا۔

مذاکرات میں یہ بھی طے پایا ہے کہ بنگلہ دیش 2028 سے 2031 کے درمیان آئی سی سی کے ایک ایونٹ کی میزبانی کرے گا، جو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2031 سے قبل منعقد ہوگا۔ تاہم اس کی میزبانی آئی سی سی کے طے شدہ طریقہ کار، ٹائم لائنز اور آپریشنل تقاضوں سے مشروط ہوگی۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو سنجوج گپتا نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل نہ ہونے پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی بی سی بی سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے پر توجہ مرکوز ہے، بنگلہ دیش کی کرکٹ کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔