’فرینڈ آف کورٹ‘ بیرسٹر سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات

سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ مقرر کردیا
شائع 10 فروری 2026 06:32pm

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر بیرسٹر سلمان صفدر کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی کرادی گئی ہے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے آج ملاقات کا روز ہے، جہاں بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات کی کرائی گئی جب کہ بشریٰ بی بی سے بھی ان کی فیملی کی ملاقات کرادی گئی ہے۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے ان کی بہنیں، بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، قاسم خان، نعیم حیدر پنچوتھہ، فتح اللہ برکی اور دیگر قائدین اڈیالہ جیل پہنچے، جنہیں ماربل فیکٹری ناکے پر روک دیا گیا۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر صرف بیرسٹر سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل جانے کی اجازت ملی، جو اڈیالہ جیل کے گیٹ 5 سے اندر داخل ہوئے جب کہ بشریٰ بی بی کی فیملی بھی اڈیالہ جیل گیٹ نمبر 5 سے اندر روانہ ہوئی۔

عمران خان اور بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات تقریبا 3 گھنٹے تک جاری رہی، ملاقات سابق وزیراعظم کے سیل میں سپریم کورٹ کے حکم پر کرائی گئی، ملاقات کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر جیل سے باہر آگئے۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کی صحت اچھی ہے، میری ساڑھے 3 گھنٹے ان سے ملاقات جاری رہی، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ملاقات کروائی گئی
باقی سب کچھ آپ کو رپورٹ میں ملے گا۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی تھی اور انہیں اس معاملے میں ’فرینڈ آف کورٹ‘ (عدالت کا نمائندہ) مقرر کیا تھا۔

منگل کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران واضح حکم دیا تھا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالت زار اور انہیں وہاں میسر سہولیات کا جائزہ لیں اور اس بارے میں ایک تفصیلی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی اس ملاقات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر انہیں جیل میں ملاقات کے دوران کسی بھی قسم کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے تو وہ براہ راست عدالت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے بھی بانی پی ٹی آئی سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں قید کے دوران 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ فراہم کر دی گئی ہے تاہم عدالت نے تازہ صورت حال جاننے کے لیے سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے بھی عدالت کے سامنے یہ شکایت رکھی تھی کہ انہیں ملاقات کے لیے رسائی نہیں مل رہی جس پر چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق سلمان صفدر آج ہی ملاقات کے لیے روانہ ہوں گے۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا تھا کہ ان پر ایک بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور وہ عدالت کی جانب سے تفویض کردہ ڈیوٹی کے تحت جیل جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات دن دو بجے ہوگی جس کے بعد وہ اپنی رپورٹ تیار کریں گے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کل سلمان صفدر کی رپورٹ دیکھنے کے بعد پرسوں اس کیس کی مزید سماعت کی جائے گی جس کے لیے کارروائی 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔