بھارت میں سوشل میڈیا پر گرفت سخت، ’3 گھنٹے‘ کا نیا قانون نافذ

نئے قواعد میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے بھی تبدیلی کی گئی ہے۔
شائع 11 فروری 2026 12:54pm

بھارت نے اعلان کیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں حکومت کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد غیر قانونی قرار دیے گئے مواد کو تین گھنٹوں کے اندر ہٹانے کی پابند ہوں گی۔ یہ مدت اس سے قبل 36 گھنٹے مقرر تھی۔ نئے قواعد 20 فروری سے نافذ العمل ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق یہ ترمیم 2021 کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) قوانین میں کی گئی ہے، جو پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اختلافات کا سبب بن چکے ہیں۔ نئے ضوابط کا اطلاق میٹا، گوگل، یوٹیوب اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر بھی ہوگا۔

یہ اقدام ہندوستان کو آن لائن مواد کے ضوابط کے حوالے سے دنیا کے سخت ترین ممالک کی صف میں مزید مستحکم کرتا ہے۔ نئے قواعد کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دباؤ بڑھ جائے گا کہ وہ ایک ایسی وسیع اور حساس ڈیجیٹل مارکیٹ میں، جہاں ایک ارب سے زائد انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں، حکومتی تقاضوں اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق خدشات کے درمیان محتاط توازن قائم کریں۔

حکومتی ہدایت نامے میں مواد ہٹانے کے لیے مقررہ مدت کم کرنے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔

قانونی ماہر آکاش کرمکار، جو بھارتی قانون فرم پیناگ اینڈ بابو سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ تین گھنٹے کی مدت میں مواد ہٹانا عملی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مختصر وقت میں ہر معاملے کا جائزہ لینا اور مناسب فیصلہ کرنا کمپنیوں کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن مواد کی نگرانی کو مؤثر بنانا اور ایسے مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے جو قومی سلامتی یا عوامی نظم و نسق سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرے۔

بھارت گزشتہ چند برسوں سے آن لائن اظہار اور ڈیجیٹل مواد کے ضابطے کو سخت کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔ اس دوران مختلف حکام کو مواد ہٹانے کے اختیارات بھی دیے گئے، جس پر ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سمیت بعض کمپنیوں کے ساتھ اس معاملے پر اختلافات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

میٹا نے اس تبدیلی پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ ایکس اور گوگل کی جانب سے بھی خبر جاری ہونے تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

عالمی سطح پر بھی حکومتیں سوشل میڈیا کمپنیوں سے مواد کی نگرانی اور فوری کارروائی کے تقاضے بڑھا رہی ہیں۔

بھارتی آئی ٹی قوانین میں حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے مواد کو ہٹانے کا حکم دے جو قومی سلامتی یا عوامی نظم و نسق کے خلاف سمجھا جائے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برسوں میں ہزاروں کی تعداد میں پوسٹ اور مختلف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ میٹا نے 2025 کی پہلی ششماہی میں حکومتی درخواست پر 28 ہزار سے زائد مواد کو حذف کیا۔

مزید برآں، نئے قواعد میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے یہ ضروری تھا کہ ایسا مواد سوشل میڈیا پر اتنا نمایاں دکھایا جائے کہ صارف فوراً پہچان سکے، لیکن اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔

نئی ترمیم میں اب صرف یہ لازمی ہے کہ اے آئی سے بنایا گیا مواد واضح طور پر لیبل کیا جائے، یعنی اس پر صاف لکھا ہو کہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے، لیکن اسے کسی خاص جگہ پر دکھانے کی پابندی نہیں ہے۔