سپریم کورٹ کا عمران خان کی آنکھ کا معائنہ اور بچوں سے بات کرانے کا حکم

توشہ خانہ ٹرائل کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ
اپ ڈیٹ 12 فروری 2026 11:45am

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی آنکھ کے معائنے کا حکم دیتے ہوئے توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمعرات کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر مناسب حکم جاری کرے گی۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان نے جیل میں اپنے حفاظتی اقدامات، کھانے پینے کی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں رپورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائیں اور استدعا کی کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے۔ تاہم عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کروانے کی درخواست مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔

اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ عمران خان کو کچھ کتابیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ مطالعہ جاری رکھ سکیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو اپنے بچوں سے فون پر بات کروانے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ یہ عمل بھی 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔ ا

ٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔