حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیا
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے جمعرات کو قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے سے متعلق ریگولیشنز کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ آٹھ، نو ماہ سے زیرِ غور تھا اور حکومت اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور بعد ازاں کابینہ میں لے کر گئی۔ انہوں نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ کا نظام 2017 میں متعارف کرایا گیا اور نیپرا اب تک چار سے پانچ مرتبہ اس کی ریگولیشنز میں تبدیلی کر چکا ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ اس وقت ملک میں شمسی توانائی سے 20 سے 22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جس میں سے چھ سے سات ہزار میگا واٹ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے جب کہ کمرشل اور گھریلو صارفین تقریباً چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ مجموعی سولر پیداوار کا صرف آٹھ سے دس فیصد حصہ نیٹ میٹرنگ پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2024-25 میں مجموعی بجلی پیداوار کا 55 فیصد کلین انرجی پر مشتمل تھا اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک یہ شرح 90 فیصد تک پہنچا دی جائے۔ اس وقت چار لاکھ 66 ہزار صارفین نیٹ میٹرنگ پر موجود ہیں۔ نئی ریگولیشنز کے تحت خریداری قیمت 27 روپے فی یونٹ برقرار رکھی گئی ہے جب کہ حکومت کو دیگر ذرائع سے آٹھ روپے فی یونٹ تک بجلی دستیاب ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کا منافع 50 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ جائے گا اور سوال یہ ہے کہ کیا 100 روپے پر 37 روپے منافع ناکافی ہے؟ اویس لغاری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا ریگولیشنز کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے سولرنیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کو سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چار لاکھ 66 ہزار صارفین نے حکومت کی کلین انرجی پالیسی پر اعتماد کیا، کیا اب بجلی کے نقصانات کا بوجھ انہی پر ڈالا جائے گا؟ شرمیلا فاروقی نے مزید کہا کہ حکومت اپنی نااہلی اور کرپشن کا بوجھ سولر صارفین پر منتقل کر رہی ہے۔
اویس لغاری نے مزید بتایا کہ حکومت نے ایک سال میں 780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کیا اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرِ ثانی سے تین ہزار 400 ارب روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
















