اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا جاری، پولیس کی بھاری نفری موجود

عمران خان کی صحت کے معاملے پر جاری دھرنے میں محمود خان اچکزئی سمیت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت شریک ہے۔
شائع 13 فروری 2026 09:20pm

اپوزیشن اتحاد کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے معاملے پر پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا جاری ہے، پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا طبی معائنہ نہ کرانے اور فیملی و رفقا کو ملاقات سے روکنے پر اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنیٹ ہاؤس میں دھرنا جاری ہے، پارلیمنیٹ میں دھرنے کی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان نے دی۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت دھرنے میں شریک ہے۔ انتظامیہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے داخلی و خارجی دروازوں کو تالے لگا کر مکمل بند کر رکھا ہے۔

پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ لیڈی پولیس اہلکار بھی گیٹ پر تعینات ہے۔ مظاہرین کی طرف سے مسلسل نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اپوزیشن قیادت نے بانی پی ٹی آئی کو الشفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل نہ کرنے تک دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، باہر رہ جانے والے اراکین سمیت کسی کو بھی اب پارلیمنٹ کے اندر نہیں جانے دیا جارہا۔ حکام کی جانب سے پارلیمنیٹ کی بجلی بند کیے جانے کے باوجود پی ٹی آئی ارکانِ قومی اسمبلی و سینیٹ کا پارلیمنٹ کے اندر احتجاج جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان سے حکومت نمائندوں نے رابطہ بھی کیا تاہم اپوزیشن قیادت نے ون پوائنٹ ایجنڈا حکومتی نمائندے کے سامنے رکھا اور کہا کہ مطالبہ تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی نمائندوں نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا، جس میں محمود خان اچکزئی نے تین نامزد معالجین کی موجودگی میں صرف الشفاء انٹرنیشنل اسپتال میں معائنہ قابلِ قبول ہے کا موقف دھرایا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ون پوائنٹ ایجنڈا ہے۔

حکومتی نمائندے نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آنکھ کا مسئلہ ہے، جس جگہ سے کہیں گے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروائیں گے۔

ادھر خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر صوبائی اراکین اسمبلی کا بھی پر امن دھرنا جاری ہے۔