اپوزیشن اتحاد کا عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ

محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کی: علی امین گنڈا پور
شائع 16 فروری 2026 11:44pm

اپوزیشن اتحاد کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن اتحاد کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری رہا جب کہ خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر بھی وزیر اعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے صوبائی اراکین کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی ، علامہ ناصر عباس ، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلیمان اکرام راجا و دیگر اراکین قومی اسمبلی پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر موجود ہیں۔

تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی تک دھرنا جاری رہے گا۔

اپوزیشن قیادت نے مطالبہ کررکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں شفا انٹرنیشنل میں آنکھ کا معائنہ کرایا جائے تاکہ بانی کی صحت کے حوالے سے اصل حقائق سامنے آسکیں۔

سابق وزیر اعلی خیبر پختونخواعلی امین گنڈا پور نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کی، محسن نقوی چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے، اتنی کوشش ان سب میں سے کسی نے بھی نہیں کی، یہ بات میں نے بانی پی ٹی آئی اور پارٹی سے بھی کہی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان اپنی مدد آپ کے تحت کئی دنوں سے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن دھرنا جاری ہے۔ آفیشل کال آئی تو عوام کو کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک گملہ تک نہ ٹوٹنا پی ٹی آئی کے پُرامن احتجاج کا ثبوت ہے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ عمران خان کا علاج ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں ہونا آئینی حق ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بانی کے علاج میں رکاوٹیں سنگین سوالات پیدا کر رہی ہیں، عمران خان کوئی عام قیدی نہیں، وہ سابق وزیراعظم اور بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کو نہ ملانے سے شکوک و شبہات مزید بڑھ رہے ہیں، عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، اگر رپورٹس درست ہیں تو ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کو ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ایک منظم سیاسی جماعت ہے، کوئی ہجوم نہیں، کال دینے کا اختیار صرف عمران خان کے نامزد کردہ قیادت کے پاس ہے۔