ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی تیاری، قیادت کو نشانہ بنانے اور رجیم چینج کے امکانات زیرِ غور

اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایک بڑی جنگ کے لیے تیار ہے: رائٹرز
اپ ڈیٹ 22 فروری 2026 10:28am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ تنازع اب ایک انتہائی حساس موڑ پر داخل ہو گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکام نے ایران کے خلاف مختلف فوجی آپشنز پر کام مکمل کر لیا ہے۔ ان منصوبہ بندیوں میں نہ صرف ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے بلکہ اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے اور وہاں کی حکومت تبدیل کرنے جیسے بڑے اہداف پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری سے مشروط ہوں گے۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج کی یہ تیاریاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایک بڑی جنگ کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ امریکا کئی ہفتوں پر محیط ایک طویل فضائی مہم چلا سکتا ہے جس میں ایران کے سیکیورٹی مراکز اور ایٹمی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، تاہم تازہ ترین معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اب منصوبہ بندی میں مزید گہرائی آگئی ہے اور صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے عوامی سطح پر بھی بات کی ہے۔

حکومت کی تبدیلی کی یہ پالیسی صدر ٹرمپ کے ان پرانے وعدوں سے مختلف نظر آتی ہے جن میں انہوں نے ماضی کی حکومتوں کی طرح دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے کی بات کی تھی۔

فی الحال امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی قوت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے جس میں زیادہ تر جنگی بحری جہاز اور جدید طیارے شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بڑی کارروائی ہوئی تو اس میں امریکی اڈوں سے اڑنے والے بمبار طیارے بھی حصہ لیں گے۔

امریکا پہلے بھی 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ایک حملے میں نشانہ بنا چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کی منظوری دی تھی۔ قاسم سلیمانی ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ تھے۔

دوسری جانب ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی جنگ کی پہل تو نہیں کرے گا لیکن اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ بھرپور جواب دے گا۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکا کے مشرق وسطیٰ میں اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ میں فوجی اڈے موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں علاقائی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں اپنے دفاع کے حق پر زور دیا ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سمندری راستوں کی بندش کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے جس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو امن کے راستے پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے ایک بار پھر یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کچھ دور ہوئے ہیں، لیکن اب بھی کئی اہم مسائل پر دونوں کے درمیان بڑے اختلافات موجود ہیں اور امریکا نے ایران کو کسی حتمی فیصلے کے لیے دس سے پندرہ دن کی مہلت دے رکھی ہے۔