شدید دباؤ کے باوجود ایران کے نہ جھکنے پر صدر ٹرمپ مایوس ہیں: اسٹیو وٹکوف
امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ایران نے شدید دباؤ اور ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باوجود اب تک جوہری معاہدے پر رضامندی نہیں دکھائی، اس بات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ تجسس کا شکار ہیں۔
اسٹیو وٹکوف نے ہفتے کے روز فاکس نیوز پر صدر ٹرمپ کی بہو لارا ٹرمپ کو انٹرویو میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود ایران نے ہتھیار کیوں نہیں ڈالے اور جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے آمادگی کیوں نہیں دکھائی۔
امریکا اور ایران کے درمیان رواں ہفتے عمان کی ثالثی میں جنیوا میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں، جن کا مقصد ممکنہ فوجی کارروائی سے بچاؤ ہے۔
اس سے قبل واشنگٹن نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خطے میں دو طیارہ بردار بحری بیڑے، جنگی طیارے اور دیگر ہتھیار منتقل کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ یہ سوال کر رہے ہیں کہ ’اتنے دباؤ اور خطے میں ہماری بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود وہ ہمارے پاس آکر یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہتھیار نہیں رکھنا چاہتے اور امریکا کی بات ماننے کرنے کو تیار ہیں۔
امریکی صدر کے مشیر اسٹیو وٹکوف کا کہنا تھا کہ میں لفظ مایوس استعمال نہیں کرنا چاہتا کیونکہ صدر ٹرمپ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں لیکن وہ یہ جاننے کے لیے تجسس رکھتے ہیں کہ ایران نے اب تک امریکی دھمکیوں کے آگے ہار کیوں نہیں مانی۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار ہونے کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ اسٹیو وٹکوف نے انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ ایران کو امریکی شرائط پر رضامند کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کا مسودہ چند روز میں تیار ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ ایک بار پھر یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ پر رضامندی کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 دن کا وقت ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کی یہ تیاریاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایک بڑی جنگ کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پرشکیان نے گزشتہ روز سرکاری ٹی وی سے خطاب میں کہا کہ عالمی طاقتیں ایران کو سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں لیکن ہم تمام مسائل کے باوجود سر نہیں جھکائیں گے۔














