کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت اور قریبی سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تلخی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔
کویتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان ”وحشیانہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں“۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت شہری اور اہم تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک فرد کی موت واقع ہوئی ہے اور کم سے کم 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، سفارتی مشنز سمیت اہم املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
کویت نے واضح کیا ہے کہ وہ ان بار بار کی ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے کا اپنا مکمل اور موروثی حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے پیچھے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کویت اور بحرین کو خطے میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایران نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کویت اور بحرین ان امریکی حملوں کی براہِ راست اور واضح ذمہ داری اٹھائیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے مرکز کو نشانہ بنانے سمیت ہر دستیاب طریقہ استعمال کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون پر گالیاں دیے جانے اور لعن طعن کی خبریں بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں، لیکن ماہرینِ سیاست نے ان خبروں پر شک کا ظہار کیا ہے۔
حال ہی میں ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک فون کال کے دوران انتہائی سخت الفاظ کہے اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں پر انہیں شدید جھاڑ پلائی.
تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ غصے کی ان خبروں کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان تعلقات میں خرابی کی خبریں سامنے آئی ہوں.
اس سے قبل جنوری 2024 میں جب غزہ میں جنگ جاری تھی، تب اس وقت کے صدر جو بائیڈن کے بارے میں بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان کا صبر جواب دے رہا ہے.
اب ٹرمپ کے دور میں بھی بالکل اسی نوعیت کی خبریں میڈیا کو خفیہ ذرائع سے فراہم کی جا رہی ہیں.
اس صورتحال پر نیشنل ایرانی امریکن کونسل ایکشن کے پالیسی ڈائریکٹر رائن کوسٹیلو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تو سیاسی مبصرین امریکی صدور کے نیتن یاہو پر بند کمروں میں غصہ ہونے کی رپورٹس کا مذاق اڑانے لگے ہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ عملی طور پر زمین پر کیا ہو رہا ہے.
حقوق انسانی کی تنظیم ڈاؤن سے وابستہ ازابیل ہیسلپ بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ٹرمپ کی غصیلی فون کالز کی کہانیاں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں.
انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسے طاقتور رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فون اٹھا کر نیتن یاہو کو امریکی پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈانٹتا ہے، لیکن یہ بات عملی پالیسی کے نتائج سے بالکل الٹ ہے کیونکہ نیتن یاہو کو وہی کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا اسرائیلی اقدامات پر کوئی آخری اختیار نہیں ہے اور اپنے پیشرو رہنماؤں کی طرح وہ بھی امریکی مفادات کو ترجیح دینے میں مکمل ناکام رہے ہیں اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ خواہشات کے آگے جھک رہے ہیں.
یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے اندرونی طور پر سخت دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے.
ناقدین کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں امریکا کو گھسیٹنے کی اجازت دی جو واشنگٹن کے مفاد میں نہیں ہے.
دوسری طرف ٹرمپ نے عوامی سطح پر ہمیشہ نیتن یاہو کی تعریف کی ہے اور انہیں ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے.
اس تضاد پر بات کرتے ہوئے سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینیئر فیلو نگار مرتضوی کہتی ہیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کال کی یہ خبر جان بوجھ کر اس لیے باہر لائی گئی ہو گی تاکہ ٹرمپ کو اسرائیل کے خلاف سخت دکھایا جا سکے اور جنگ پر امریکی عوام کے غصے کو کم کیا جا سکے.
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ دیکھو ہم اسرائیل سے بہت ناراض ہیں، ہم ان پر چلاتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اصل چیز بیانیے سے زیادہ پالیسی ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زمین پر حقائق بدلتے ہیں؟
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک کثیر الجہتی جنگ ہے جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ انٹیلیجنس، بیانیے اور معلومات کی بھی جنگ ہے جس میں آدھی سچائیوں اور سٹریٹجک لیکس کا سہارا لیا جا رہا ہے.
دوسری جانب، ان خبروں کو چھاپنے والے ادارے نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے.
ایگزیوس کے ترجمان جیمی ولکنز کا کہنا ہے کہ ہم اپنی رپورٹنگ پر قائم ہیں اور ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح بھی کیا تھا کہ ماضی میں بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایران اور دیگر اہم معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں.
پالیسی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکا کی طرف سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور سفارتی تحفظ ملنا بند نہیں ہوتا، تب تک ایسی خبریں محض زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں.
اسرائیل کے آئرن ڈوم اینٹی میزائل سسٹم سے داغے جانے کے فوراً بعد ایک ناقص انٹرسیپٹر میزائل جنوبی لبنان کے اوپر فضا میں ہی تباہ ہو گیا (تصویر: رائٹرز)
مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے وحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیوں میں اب تک 17 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ صیہونی فورسز نے نبطیہ، شقین، کفر طیبنیت اور تبنین کے علاقوں کو توپ خانے اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے.
نبطیہ خردالی روڈ پر ایک گاڑی پر ہونے والے ڈرون حملے میں دانتوں کے ایک ڈاکٹر اپنے دو بچوں سمیت جاں بحق ہو گئے، جبکہ صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں چھ افراد کی جان چلی گئی.
اس کے علاوہ جیبچٹ قصبے میں دو شامی باشندے مارے گئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہیں.
ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں دو لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.
لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سخت لہجہ اختیار کیا ہے.
ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے.
انہوں نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.
اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں.
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.
دوسری طرف، ان تمام دھمکیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے.
بنجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.
ایک طرف جہاں یہ خونی جھڑپیں اور بیانات کا تبادلہ جاری ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے اور آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں. دونوں جانب سے ان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے.
ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے.
پاسداران انقلاب کے حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.
ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا۔
ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.
دوسری طرف، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک الگ موقف پیش کیا ہے.
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں.
امریکی فوج کے مطابق ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا.
امریکی کمانڈ نے مزید کہا کہ ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔
امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے.
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.
اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور خطے میں امن و امان کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے منقطع ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے ختم ہونے یا مذاکرات رک جانے سے متعلق رپورٹس غلط اور گمراہ کن ہیں۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی روز سے مسلسل رابطے اور بات چیت جاری ہے، جب کہ دونوں فریق آج بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے، تاہم انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتِ حال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
صدر ٹرمپ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن سفارتی راستے کو کھلا رکھے ہوئے ہے، تاہم ایران کو بھی معاملات کے حل کے لیے عملی پیش رفت کرنا ہوگی۔
ان سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور بعض معاملات پر پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض ایسے پہلوؤں پر آمادگی ظاہر کی ہے جن پر وہ ماضی میں رضامند نہیں تھا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی نظر میں مذاکرات کی اہم شرائط میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی بھی شامل ہے اور ایران کو واضح طور پر اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کا اعلان کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی ٹھوس وعدے کرنا ہوں گے، جب کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔ مارکو روبیو کے مطابق صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دینا پابندیوں میں نرمی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرمیاں تیز کی جا رہی ہیں، جسے واشنگٹن سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل اور گیس کی ترسیل میں محدود پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج سے باہر نکل گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایل این جی ٹینکر نے گیس کا کارگو بھی لوڈ کر لیا ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو ٹینکر تیل کی مصنوعات لے کر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے، جب کہ ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات میں کارگو لوڈ کیا۔ اگرچہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی تجارتی جہاز خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم ایران اور امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی ترسیل اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ’’سی وکٹریئس‘‘ نامی افرا میکس ٹینکر کم از کم 80 ہزار ٹن ہائی سلفر فیول آئل لے کر ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔ یہ جہاز عراق کی خور الزبیر بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور توقع ہے کہ جون کے دوسرے نصف میں ملائیشیا پہنچ جائے گا۔
اسی طرح ’’ایس ٹی آئی ایلیسیز‘‘ نامی ایک اور ٹینکر بھی جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ یہ جہاز کویت سے صاف شدہ تیل کی مصنوعات لے کر روانہ ہوا تھا، تاہم اس کی حتمی منزل کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’میری گولڈ‘‘ ایل این جی ٹینکر نے 24 اور 25 مئی کو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ ٹرمینل سے گیس کا کارگو لوڈ کیا۔ شپنگ تجزیاتی ادارے ووَرٹیکسا کے مطابق اس جہاز نے 3 مئی کو اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) بند کر دیا تھا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کی نقل و حرکت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی نیوی) سے پیشگی اجازت حاصل کی تھی اور ان کی نقل و حرکت متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت انجام پائی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ’’ذہانت پر مبنی کنٹرول‘‘ مکمل اختیار کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ بیان کے مطابق آئی آر جی سی نیوی بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے جبکہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مقررہ قواعد، پیشگی اجازت اور باہمی رابطے کے تحت جاری رکھی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شرپسند غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی اور خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق بعض تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اپنی شناختی نشریات عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی لیے اس آبی راستے کی صورتحال پر عالمی توانائی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔
دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔
اس لیے رواں جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔
بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔
چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔
ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔
حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔
رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔
اسی چکر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔
دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔
ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ سال سے ملازمین کا کنٹری بیوشن (حصہ داری) لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم کسی ایسکرو اکاؤنٹ یا پنشن فنڈ میں رکھی جا رہی ہے یا فنڈز کی منتقلی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اسے اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے مستقبل میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔
اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔
دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔
تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
نوٹ: یہ تحریریکم جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
واشنگٹن سے ایران جنگ کے بارے میں آنے والی خبریں روزانہ اکتا دینے کی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل طے شدہ معیارات (اہداف) کو بھی تبدیل کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور نئے الفاظ کے گورکھ دھندے کے ساتھ ان مطالبات کو بار بار دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ چکے تھے اور اس تمام لیت و لعل کے ساتھ مزید فوجی جارحیت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی منطقی انجام کے بغیر ٹرمپ کے نئے اور پرانے مطالبات کے روزمرہ کے مینو پر بھروسہ کرنے میں حق بجانب طور پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
اس کی بنیادی وجہ صرف ٹرمپ کی ذاتی انفرادی خصلتیں ہی نہیں ہو سکتیں بلکہ درحقیقت جنگ کے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقاصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی ناکامی ہے، جن میں سب سے اہم مقصد وہاں کی حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) تھا۔قدرتی طور پر یہ بات ایرانی عوام کو اس فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت (امریکہ) اور سب سے زیادہ جارح مزاج طاقت (اسرائیل) کا مقابلہ کیا اور دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھا۔
31 مئی 2026ء کو ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بڑے پیمانے پر طے شدہ معاہدہ قرار دیا تھا، یہ اقدام بظاہر اس ڈیل کو ”مزید سخت“ بنانے کے لیے تھا، اس کے جواب میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک بیان دیا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور الفاظ اور وعدوں کے بجائے ٹھوس نتائج کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہمارا واحد معیار یہ ہے کہ ہم بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے پہلے ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ انہوں نے مزید اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔
سی این این نے رپورٹ کیا کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں کے گرد مزید سخت زبان استعمال کرنے پر اصرار کیا (جبکہ ایران کئی دہائیوں سے مسلسل اس بات کی توثیق کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا) اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اس کے عزم پر بھی زور دیا (ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگی ہرجانے کے اپنے مطالبے کی تکمیل تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر عارضی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے)۔
جبکہ ایران پر ٹرمپ کی یہ مسخرہ بازی جاری ہے، لگتا ہے کہ اسرائیل کو اس کی حزب اللہ مخالف مہم کے حصے کے طور پر جنوبی لبنانی علاقے میں اپنی جارحیت جاری رکھنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات یاد دلانے کے قابل ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جنگ کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ لازمی ہے۔
مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور الاقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیزیاں، یہ سب اب اسرائیل کی جانی پہچانی توسیع پسندانہ عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا کر 70 فیصد تک کر دے۔ غزہ جنگ بندی کا تو بس یہ حال ہے۔ دوسری طرف غزہ کے لیے ٹرمپ کا بہت زیادہ چرچا ہونے والا بورڈ آف پیس جسے غزہ کو میڈیٹیرین ریویرا (بحیرہ روم کا تفریحی ساحل) میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اس کا فنڈز کا برتن بالکل خالی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی عجیب و غریب اسکیمیں جو بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ان کی اس دیوانی صدارت کا خاصہ ہیں۔
ٹرمپ کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی اس افراتفری کے نتیجے میں دنیا تیل کی سپلائی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت میں عدم استحکام کی وجہ سے لرز رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی اس دیوانہ وار مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔
جنوبی لبنان میں ایک تاریخی قلعے بیوفورٹ یا قلعت الشقیف پر اسرائیل کا قبضہ سنہ 2000ء میں اس ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا اعادہ ہے۔ فرانس اب یہ محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی اس پیش قدمی اور قلعے پر قبضے کی مذمت محض زبانی جمع خرچ ہی رہی، جس کا کوئی ٹھوس اثر نہیں ہوا۔ اس میں سے کوئی بھی چیز اسرائیل کے خونی ہاتھ روکنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کے خلاف ماضی میں احتجاج کی جو لہریں اٹھی تھیں اب ایسا لگتا ہے کہ وہ سب سسکیاں بھرتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔
آج دنیا کو مظلوم فلسطینیوں اور ان کے لبنانی مجاہد بھائیوں کی بقا کی خاطر اسرائیلی توسیع پسندی اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے آگے ایک ایسی مضبوط دیوار بننے کی ضرورت ہے جیسی یکجہتی ماضی میں ویتنام جنگ اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف دیکھی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اب بھی بیدار ہوگی یا پھر بین الاقوامی یکجہتی کا سنہری دور ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکا ہے؟
نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے روکنے کے اعلان پر اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کھل کر کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعلان کی توثیق کی بعد ان کی کابینہ کے متعصب ترین وزیر نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل کےسخت گیر نظریات رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں مجوزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کریں اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بن گویر نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپ نے خود کہا تھا کہ ایک مضبوط وزیراعظم امریکی صدر کو جہاں ممکن ہو ’ہاں‘ اور جہاں ضروری ہو ’نہیں‘ کہتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہا جائے۔
انہوں نے لکھا کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہہ کر صاف انکار کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں جنگ بندی کے بجائے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اقدامات کیے جائیں جو ضروری ہیں، حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے، ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ کھولے جائیں اور شمالی اسرائیل میں سکیورٹی بحال کی جائے‘۔
اتمار بن گویر اسرائیلی کابینہ کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی جنگ بندی کی مختلف تجاویز کی مخالفت کر چکے ہیں۔
بن گویر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی حکومت کے بعض سخت گیر وزرا اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔
اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان پر حملے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس فیصلے پر اسرائیل میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے علاوہ کابینہ کی جانب سے بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس معاملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’یروشلم، بیت شمس، لبنان یا غزہ، جگہیں بدلتی ہیں لیکن ایک ہی کہانی ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جس نے اسرائیلی خودمختاری پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے‘۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تاریخ میں شاید ہی کوئی وزیراعظم ایسا ہوا ہو جو نامناسب مطالبے پر اس حد تک جھکا ہو۔
حکمران جماعت لیکود کے رکنِ پارلیمنٹ ڈین ایلوز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کوئی بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو اپنے دفاع سے نہیں روک سکتا۔
دوسری جانب ایران کے مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لبنان پر جارحیت جاری رکھی، تو تہران براہِ راست اس جنگ میں کود پڑے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے جاری کوششوں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنے اور اندرونی حالات کو مستحکم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک عبوری معاہدے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کا بنیادی مقصد جوہری پروگرام پر کسی حتمی اور بڑی رعایت سے گریز کرتے ہوئے وقت حاصل کرنا، مالی ریلیف کا حصول یقینی بنانا اور درپیش معاشی خطرات پر فوری قابو پانا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقتی طور پر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے کسی بھی ناقابلِ واپسی فیصلوں سے گریز اور اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر مذاکرات کو زندہ رکھا جائے۔
ایرانی حکام اس محدود معاہدے کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے متنازع ترین مسائل کو چھیڑے بغیر بھی مالی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی کوشش یہ ہے کہ فی الحال ایک ’عارضی معاہدہ‘ ہو جائے جس کے ذریعے اسے معاشی پابندیوں میں کچھ نرمی ملے، برآمدات کے راستے کھل جائیں اور فوری مالی مشکلات میں کمی آسکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالیہ دنوں میں فریقین کے درمیان دوبارہ جھڑپوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کی اس ابتدائی معاہدے میں دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ قلیل مدتی مالی فوائد کا حصول ہے۔ رواں سال جنوری میں معاشی مسائل کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔
فوری مالی ریلیف سے ایرانی حکومت کو معیشت کا پہیہ چلانے اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کی امید ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ عارضی معاہدے کے ذریعے وہ اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو روکے بغیر عسکری اور معاشی دباؤ کو کم کرے، تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جاری جنگ کا خاتمہ ہو، اسے اربوں ڈالر کی تیل کی آمدنی تک رسائی ملے، خام تیل کی برآمدات پر چھوٹ دی جائے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے لیے آبنائے ہرمز سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔ تہران اسے صرف سفارتی سودے بازی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مستقل طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی عارضی معاہدے کے تحت اگر بحری تجارت بحال بھی ہو جائے تو ایران اس راستے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عارضی معاہدہ نہ صرف ایران کا معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ نظامِ حکومت کی مجموعی بقا اور استحکام کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ وقتی نوعیت کا ہو گا، ایران اور امریکا کے درمیان اصل اختلافات خصوصاً جوہری پروگرام کا معاملہ پھر بھی اہم ترین اور حل طلب ہی رہے گا۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ۔
امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔
ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی۔ تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔
پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات تقریر نویس (اسپیچ رائٹرز) خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پریس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔
صحافیوں اور پینٹاگون کے درمیان کشیدگی
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہے۔
روایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔
نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔
عدالتی تنازع
گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں۔ اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہو۔
بعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تاہم امریکی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔
امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ تنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں.
اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.
مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے.
کچھ مظاہرین کے پاس ایسے بورڈز بھی تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے.“
اس کے علاوہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“
اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے، جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے.
تاہم، اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.
اب یہ رعایتی قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لبنان پر حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ اسرائیلی حملے خطے میں امن کی کوششوں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں. انہوں نے پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے.
اسی دوران، سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے.
ایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتکاری میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا.
انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی.
اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ کو موجودہ صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا.
اسحاق ڈار نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور موجودہ مفاہمت کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل خطے میں مزید کشیدگی اور بحران سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے.
اس معاملے پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی اپنے ملک کا مؤقف سامنے لائے ہیں.
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، کسی ایک محاذ پر کارروائی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی.
ایرانی وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی.
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا.
رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا.
ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.
اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ میں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان لبنان کی صورتِ حال پر ہونے والی ایک فون کال میں شدید تلخ کلامی ہوئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کی لبنان میں بڑھتی ہوئی جارحیت پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور نیتن یاہو سے انتہائی بدزبانی سے پیش آئے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق اس معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ہونے والی فون کال میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔
اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔
ٹرمپ کو خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے بیروت پر ممکنہ حملے کے منصوبے پر اعتراض تھا۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل لبنانی دارالحکومت پر حملہ کرتا ہے تو وہ دنیا میں مزید تنہا ہو کر رہ جائے گا۔
ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر چیختے ہوئے کہا کہ ’تم پاگل ہو گئے ہو، یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ان کے خلاف کرپشن مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچایا تھا۔ ایک امریکی اہلکار نے ٹرمپ کی گفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر کا کہنا تھا ’میں تمہیں بچا رہا ہوں لیکن تمہاری حرکتوں کی وجہ سے آج سب تم سے نفرت کرتے ہیں اور اب پوری دنیا اسرائیل سے بھی نفرت کرنے لگی ہے‘۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حزب اللہ اسرائیل پر حملے کر رہی ہے اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن ان کا خیال ہے حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے حد سے تجاوز کیا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے محض ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو زمین بوس کرنے کے اسرائیلی طریقہ کار پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔
ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کی شدید برہمی کی بنیادی وجہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث ایران کی امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کرنے کی دھمکی تھی۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیوں کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ بحث ایک ممکنہ معاہدے میں لبنان میں لڑائی کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ واشنگٹن کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس تلخ ٹیلی فونک کال کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اب بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔
تاہم اس کال کے بعد نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک رسمی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے حملے نہ روکے تو اسرائیل بیروت پر حملے شروع کر دے گا۔
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے دو ایرانی بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
قطر کے نشریاتی ادارے ْالجزیرہ‘ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 11 بجے ایران کی جانب سے کویت میں موجود امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے دو بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی دفاعی نظام نے دونوں میزائلوں کو فوری طور پر تباہ کر دیا اور حملے سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج پوری طرح چوکنا ہیں اور خطے میں اپنے اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بناتی رہیں گی۔
امریکی فوج نے مزید کہا کہ وہ جاری جنگ بندی کی حمایت کے ساتھ ساتھ ایرانی جارحیت کے خلاف اپنی افواج کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران کو ان علاقائی اڈوں اور عسکری تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے جو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے حالیہ حملوں کے بعد ایران نے اپنے حقِ دفاع کے تحت اقدامات کیے ہیں۔
دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں ایران کے گورک اور جزیرہ قشم میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران نے امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں سست روی کا ذمہ دار اعتماد کے فقدان، واشنگٹن کے متضاد مؤقف اور خطے میں جاری اسرائیلی حملوں کو قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ موجودہ ماحول میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا ابھی ممکن نہیں ہو سکا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ ایرانی مذاکراتی وفد اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ شدید شکوک و شبہات اور باہمی عدم اعتماد کے ماحول میں جاری ہے، جس کے باعث مذاکرات مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔
انہوں نے کہا کہ مخالف فریق کی جانب سے بار بار مؤقف تبدیل کرنے، نئے اور بعض اوقات متضاد مطالبات سامنے لانے کے باعث مذاکراتی عمل طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا آغاز اعتماد کی موجودگی کا مطلب نہیں ہوتا اور موجودہ مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام کی تفصیلات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر متضاد بیانات امریکا کی مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ ہیں تو یہ ایران کے ساتھ کامیاب نہیں ہو سکتے، اگر یہ صورتِ حال امریکی انتظامیہ کے اندر پائی جانے والی بے ترتیبی کی عکاس ہے تو واشنگٹن کو جلد از جلد واضح اور حتمی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جارحانہ کارروائیاں جنگ بندی کے منافی ہیں اور انہی حملوں کے نتیجے میں ایران کو ان مقامات کے خلاف جوابی کارروائی کرنا پڑی جو حملوں کے لیے استعمال ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے اڈوں اور عسکری وسائل کو نشانہ بنانا ایران کے حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا وسائل کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کے حالیہ مؤقف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حقِ دفاع پر سوال اٹھانے والے یورپی بیانات منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوام متحدہ کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے اور غیر قانونی حملوں کا جواب دینے والے ممالک کو مورد الزام ٹھہرانا بند کرنا چاہیے۔
لبنان کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ تہران خطے میں اسرائیلی اقدامات کو امریکا سے الگ نہیں دیکھتا۔ ان کے مطابق لبنان میں صہیونی حکومت کے جرائم کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے اور لبنان میں جنگ بندی کسی بھی ایسے معاہدے کا لازمی حصہ ہونی چاہیے جو امریکا کے ساتھ جنگی کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پائے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر دوبارہ حملوں کا حکم دیا ہے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اب بھی اپنے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی کے بنیادی مطالبے پر قائم ہے اور اس معاملے کو مذاکراتی عمل کا اہم جزو سمجھتا ہے۔
دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں کویت میں واقع ایک امریکی اڈے پر حملہ کیا گیا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کویتی حکام سے مطالبہ بھی کیا کہ زیر حراست چار ایرانی شہریوں کے معاملے پر جلد از جلد وضاحت فراہم کی جائے۔
اسماعیل بقائی نے خطے کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنی سرزمین یا صلاحیتوں کو ایران کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دیں۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی ’’واضح طور پر تمام محاذوں بشمول لبنان پر لاگو ہوتی ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی درحقیقت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر نئے حملوں کا حکم دیا ہے، جس پر ایران نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
قبل ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کے جنگی جرائم میں اضافہ اور بحری محاصرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ ہر فیصلے اور ہر اقدام کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بالآخر اس کا حساب دینا پڑتا ہے۔ قالیباف کے بقول وقت آنے پر تمام معاملات اپنی جگہ پر آ جائیں گے اور موجودہ اقدامات کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی مبینہ خبروں نے ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایران انٹرنیشنل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر نے اتوار کے روز رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کو اپنا استعفا بھجوا دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر پزشکیان نے اپنے استعفے میں ملک کے اہم فیصلوں میں حکومت کے کم ہوتے کردار اور اقتدار کے ڈھانچے میں پاسدارانِ انقلاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے اپنے خط میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ صدر اور حکومت کو بڑے قومی فیصلوں سے عملی طور پر الگ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پاسدارانِ انقلاب یعنی آئی آر جی سی نے ریاستی معاملات پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے۔
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ان موجودہ حالات کے تحت وہ حکومت کو مؤثر طریقے سے چلانے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں، اسی لیے انہوں نے فوری طور پر اپنے عہدے سے الگ ہونے کی اجازت مانگی ہے۔
دوسری جانب، ایران کے صدارتی دفتر نے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔
ایران کے سرکاری حکام نے استعفے کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے غیر ملکی میڈیا پر من گھڑت خبریں پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔
میکسیکو میں قائم ایرانی سفارت خانے ایک پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ”پزشکیان کا استعفا محض ایک افواہ ہے۔“
آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایک باخبر حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور اپنی صدارتی ذمہ داریاں معمول کے مطابق نبھا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، صدارتی دفتر کے شعبہ مواصلات اور اطلاعات کے ڈپٹی ہیڈ سید مہدی طباطبائی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان جاری کرتے ہوئے ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کو سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔
سید مہدی طباطبائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک بدنام غیر ملکی نیٹ ورک کی جانب سے افواہ سازی دراصل ماضی کے مضحکہ خیز میڈیا گیمز کا ہی تسلسل ہے اور انہوں نے حقیقت کے بجائے اپنی خواہشات کو خبر بنا کر پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر پزشکیان عوام کی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ایرانی قوم یکجہتی اور مزاحمت کے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ایران کے صدارتی دفتر کے مطابق ایسی افواہیں صرف ایک جھوٹا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے موقف میں ایک اور یوٹرن لیا ہے اور تہران کو تبدیل شدہ سخت تجاویز ارسال کی ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان نئی اور سخت تجاویز کا بنیادی مقصد ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔
دوسری جانب نیوز سائٹ ’ایگزیوس‘ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سچوئیشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران ان تجاویز میں خود کئی اہم تبدیلیاں کرائی تھیں۔
ٹرمپ نے تجاویز میں کیا تبدیلیاں کیں، وہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عزم کے حوالے سے مزید سخت زبان شامل کرنے پر اصرار کیا ہے۔
خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کو بھی ان مشاورتوں کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس معاملے سے واقف ایک غیر ملکی اہلکار نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ یہ تبدیلیاں بنیادی نوعیت کی نہیں ہیں بلکہ ان کا زیادہ تر مرکز اِن مسائل پر یقین دہانی حاصل کرنے کی امریکی خواہش ہے۔
ٹرمپ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کو کس قسم کا مالیاتی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ اوباما دور کے جوہری معاہدے کے تحت دیے جانے والے ”کیش کے کنٹینرز“ جیسے امداد کے موازنے سے بچنا چاہتے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ معاہدہ قریب ہونے کی وجہ سے اب مزید فوجی حملوں کا امکان نہیں ہے، اور خطے میں موجود اتحادی بھی نہیں چاہتے کہ جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوں۔
ان سخت تجاویز کے بھیجے جانے کے باوجود، صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حیران کن طور پر مثبت اشارے بھی دیے ہیں۔
انہوں پرامید لہجے میں کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی اچھی ڈیل طے نہ پائی تو دوبارہ فوجی آپریشن کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ تو ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی ایٹم بم خریدے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیل پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
امریکی صدر کا ماننا ہے کہ اس وقت سارے پتے امریکا کے پاس ہیں اور ایران بہت بری پوزیشن میں ہے۔
ایران کی جانب سے ان بیانات پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی قسم کا کوئی حتمی تاثر قائم کر لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ محض قیاس آرائیاں ہیں، ان باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔
دوسری طرف، ایرانی مذاکرات کار باقر قالیباف نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے پارلیمنٹ کے اجلاس سے ورچوئل خطاب میں صاف کہہ دیا کہ ٹھوس اور عملی اقدامات کے بغیر امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر اعتماد نہیں کرتے۔
ایرانی فوج کی اعلیٰ ترین آپریشنل کمانڈ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا ایران کے نافذ کردہ سسٹم میں خلل ڈالنے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج مکمل اختیارات کے ساتھ آبنائے ہرمز کا انتظام چلا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر لازم ہے کہ وہ ایران کے متعین کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق صرف مقررہ راستہ اختیار کریں اور ٹرانزٹ کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے پیشگی اجازت کا حصول یقینی بنائیں۔
ایرانی فوج نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت یا نیوی گیشن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز اس راستے پر محفوظ سفر نہیں کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سمندر کے راستے سپلائی ہونے والے پیٹرولیم اور خام تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد گزرتا ہے۔
ایران نے اس گزرگاہ کو امریکا اور اس کے اُن اتحادی ممالک کے بحری جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت میں حصہ لیا یا اس کی حمایت کی تھی۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی غیر قانونی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اس گزرگاہ پر اپنا سخت کنٹرول نافذ کیا تھا۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کو امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا، جسے اب امریکا نے ختم کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے جمعرات کے روز ٹریکنگ سسٹم بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے امریکی آئل ٹینکر کو واپس جانے پر مجبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حالیہ بیان میں ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سلامتی کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یکم مارچ سے ایران کے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے، ایران اپنے پڑوسی ملک عمان کے ساتھ اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی اور محفوظ جہاز رانی کے لیے نیا مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر رہا ہے۔
ایران نے مغربی ممالک کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم اور سخت زبان کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران ’یہ کرنا چاہیے‘ یا ’یہ کرنا ہوگا‘ جیسی زبان قبول نہیں کرتا اور اپنے فیصلے صرف اپنی قوم کے مفادات اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی اور جہاز رانی کی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ناکہ بندی ختم کرنا کوئی سفارتی رعایت نہیں، بلکہ یہ محض ایک غیر قانونی عمل کا خاتمہ ہوگا جو سرے سے شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد یکم مارچ سے آبنائے ہرمز ایران کے ’خصوصی اقدامات‘ کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو صرف ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران اور عمان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ساحلی ممالک نے خطے کی سلامتی، قومی مفادات اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان ایسے طریقہ کار وضع کریں گے جو ایک جانب دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور دوسری جانب عالمی جہاز رانی کے محفوظ تسلسل کی ضمانت بھی فراہم کرے گا۔
ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا ذکر کیا گیا تھا۔
اس متعلق سوچھے گئے سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ صرف اور صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’اس مرحلے پر یورینیم کی افزودگی کی تفصیلات اور افزودہ یورینیم کے حوالے سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران حالیہ تجربات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ایران اور عمان کی جانب سے مستقبل میں اختیار کیے جانے والے کسی بھی انتظامی طریقہ کار کا مقصد قومی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے قشم جزیرے کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک دشمن ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی یونٹس نے قیشم جزیرے کے اوپر پرواز کرنے والے دشمن ملک کے ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
بیان کے مطابق تباہ کیا جانے والا ڈرون ایک چھوٹا اور ہلکا ’اوربیٹر‘ ڈرون تھا، جسے ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی فوج کا اثاثہ قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی بروقت نشاندہی کے بعد اس ڈرون کو تباہ کر دیا گیا۔
ایرانی فوج کا مزید کہنا ہے کہ یہ کارروائی فوج کے مشترکہ فضائی دفاعی فورس کے تحت کام کرنے والے فضائی دفاع کے سسٹم کے ذریعے انجام دی گئی، جس کا مقصد ایران کی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اس سے قبل 26 مئی کو بھی ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے خلیج فارس کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی ’ایم کیو 9‘ ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی مداخلت پسندانہ سرگرمیوں کے تحت ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس نگرانی کے بعد ایرانی فضائی دفاعی یونٹس نے ڈرون کی شناخت کی اور ملکی فضائی حدود کے دفاع کے دوران اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایرانی فورسز نے ایک ’آر کیو 4‘ ڈرون اور ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ’ایف 35‘ لڑاکا طیارے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم دونوں مبینہ طور پر ایرانی فضائی حدود سے واپس چلے گئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی یا فضائی حدود میں دراندازی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنے قریبی شراکت دار ممالک چین اور روس کو خصوصی تجارتی و بحری سہولتیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی اور چینی جہازوں کے ساتھ خصوصی تعاون کیا جائے گا۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ تہران اپنے تمام شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا تاکہ باہمی اقتصادی اور تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ابراہیم عزیزی نے پاکستان اور ایران کے سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مشاورتی اجلاس انتہائی اہم اور تعمیری رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، انہوں نے جاری بین الاقوامی مذاکرات کے حوالے سے ایک بڑے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مذاکرات میں افزودہ یورینیئم کی کسی دوسرے ملک منتقلی کا معاملہ بالکل بھی زیرِ بحث نہیں آیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورینیئم کی منتقلی کا یہ معاملہ امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی قسم کے رابطوں یا پیغامات میں بھی شامل نہیں ہے، اور ایران اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری طرف، ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محسن رضائی نے موجودہ صورتحال پر سخت موقف اپناتے ہوئے امریکی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ میں تیسری بار سفارت کاری کے ساتھ غداری کر رہے ہیں۔
انہوں نے موجودہ زمینی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی اب بھی بدستور جاری ہے، جو ان کے امن کے دعوؤں کے برعکس ہے۔
محسن رضائی نے امریکا کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ان مذاکرات میں ایران کے سامنے بہت زیادہ سخت اور ناقابلِ قبول مطالبات رکھے ہیں۔
انہوں نے امریکی نیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دراصل کسی پرامن ڈیل یا معاہدے میں سنجیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ ان مذاکرات کی آڑ میں خطے میں کوئی اور سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’بلومبرگ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں واقع ایک فوجی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں چند امریکی اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ وہاں موجود دو قیمتی ڈرون طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے حساس وقت پر ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں عارضی جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔
ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلومبرگ کو حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کویت کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے داغے گئے فاتح-110 میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، لیکن اس تباہ شدہ میزائل کا ملبہ علی السالم ایئر بیس پر جا گرا جس سے وہاں نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، ملبہ گرنے کے اس واقعے میں فوجی اڈے پر موجود تقریباً پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جن میں امریکی فوجی اہلکار اور نجی کانٹریکٹرز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایئر بیس پر کھڑے امریکا کے دو جدید ایم کیو-9 ریپر اسٹرائیک ڈرون طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے ایک ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ دوسرے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ ان میں سے ایک ڈرون طیارے کی مالیت لگ بھگ تین کروڑ امریکی ڈالر ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کویت میں ایک امریکی فوجی تنصیب پر ایران کے میزائل حملے میں پانچ امریکی اہلکار زخمی ہوئے اور ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوا ہے۔
ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد کیا گیا۔
بلومبرگ کے مطابق، اس واقعے کے فوری بعد جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یہ میزائل حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اپریل سے نافذ العمل عارضی جنگ بندی کو بڑھانے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں، حالانکہ اس جنگ بندی کے دوران بھی دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔
جب رواں سال 28 فروری کو اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں نے مل کر ایران پر بمباری کی، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک دوسرے کے تاریخی فیصلوں کا جشن منایا تھا۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام کو یقین دلایا تھا کہ دونوں ممالک کا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ لیکن اس واقعے کے تین ماہ بعد، جو مہم ایک مشترکہ فوجی کارروائی کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب امریکا کی قیادت میں ایک سفارتی عمل میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے جس میں نیتن یاہو خود کو بالکل الگ تھلگ پا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے عوامی سطح پر تو صدر ٹرمپ پر تنقید کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق انہوں نے بند کمروں میں اعتراف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات پر اسرائیل کا اثر و رسوخ اب بہت محدود ہو چکا ہے۔
اپریل میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے نیتن یاہو مسلسل صدر ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دوبارہ بھرپور فوجی آپریشن شروع کریں تاکہ ایرانی حکومت کو گرایا جا سکے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے ان کی بات ماننے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کر لیا۔
اب اسرائیلی قیادت کو یہ فکر لاحق ہے کہ جو نیا معاہدہ سامنے آ رہا ہے، اس میں اسرائیل کے اصل تحفظات جیسے کہ ایران کا جوہری مواد، اس کا میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے مسلح نیٹ ورکس کو شامل نہیں کیا جا رہا، بلکہ الٹا تہران پر سے معاشی دباؤ کم کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال پر ایک اسرائیلی اہلکار نے ’سی این این‘ سے گفتگو میں کہا کہ ” اسرائیل کو تشویش ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے عارضی معاہدے پر راضی ہو جائیں گے جو اسرائیل کے لئیے برا ہوگا“۔
اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اگر اس معاہدے کے ذریعے ایران سے جوہری مواد کو واقعی نکال لیا جائے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر یہ صرف باتوں کی حد تک ہوا تو ایرانی امریکیوں کو چکمہ دے سکتے ہیں اور آخر میں جوہری مواد بھی وہیں رہے گا۔
اسرائیل اس بات پر بضد تھا کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے اور اس کی تیل کی تنصیبات پر حملے کیے جائیں تاکہ وہاں کی حکومت ملازمین اور فوج کو تنخواہیں نہ دے سکے اور اندرونی طور پر کمزور ہو جائے۔
لیکن معاہدے کی صورت میں امریکا یہ ناکہ بندی ختم کر سکتا ہے جس سے ایران کو دوبارہ فنڈز ملنے شروع ہو جائیں گے۔
اس صورتحال پر ایک اور اسرائیلی ذریعے نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں سمجھ آ رہی ہے کہ کیسا محسوس ہوتا ہے جب ٹرمپ ہمیں بیچ چوراہے پر اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ لبنان کا معاملہ بھی ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے جہاں ایران چاہتا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان کی جنگ بندی بھی شامل ہو، جبکہ حزب اللہ نے حال ہی میں اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنی فوج کو لبنان میں کارروائیاں بڑھانے کا حکم تو دیا ہے، لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے ان کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسند اتحادیوں جیسے کہ اتمار بن غویر اور بیزلیل اسموٹریچ نے ان پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں جب باراک اوباما نے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا، تو نیتن یاہو نے امریکی کانگریس میں جا کر اس کی سخت مخالفت کی تھی۔
لیکن صدر ٹرمپ کے معاملے میں وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے اپنی تمام تر سیاست ٹرمپ کے ساتھ تعلقات پر لگائی ہوئی ہے اور ان سے پنگا لینا سیاسی طور پر خودکشی کے مترادف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو خود براہِ راست ٹرمپ پر تنقید کرنے کے بجائے سارا ملبہ امریکی مذاکرات کاروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر ڈال رہے ہیں۔
نیتن یاہو کے حامی ٹی وی چینل 14 کے اینکر یعقوب بردوگو نے اس حوالے سے کہا کہ کشنر، وٹکوف اور جے ڈی وینس نے ہمارے وجود کی جنگ کے مقابلے میں تجارتی دنیا کو ترجیح دی ہے۔ وہ جو معاہدے کر رہے ہیں ان کا پورا احترام کرتے ہیں، لیکن یہاں ہم نے رہنا ہے، انہوں نے نہیں۔
دوسری طرف امریکی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل صورتحال کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ وہ ایران میں حکومت بدلنے کے خواب دیکھ رہا تھا جبکہ واشنگٹن میں حکومت بدل چکی تھی اور صدر ٹرمپ یہ تاثر دور کرنا چاہتے تھے کہ اسرائیل امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے۔
خود ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ بی بی ایک اچھا آدمی ہے، وہ وہی کرے گا جو میں اسے کہوں گا۔
ماہرین اور سابق اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ جنگ کو کب روکنا ہے اور وہ فوجی کامیابیوں کو کسی پائیدار سیاسی فائدے میں تبدیل نہیں کر پاتے۔ اس جنگ کے بعد بھی ایران کی حکومت قائم ہے اور اس کا جوہری پروگرام جوں کا توں ہے۔
حالیہ عوامی سروے کے مطابق آدھے سے زیادہ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کو کامیابی نہیں ملی۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس نقصان کے بدلے نیتن یاہو کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بحال کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نیتن یاہو کی سخت پسند حکومت کی وجہ سے وہاں بھی کوئی بڑی پیش رفت ممکن نظر نہیں آتی۔
انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر محقق ڈینی سیٹرینووچ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ نیتن یاہو نے اپنی پوری سیاسی شناخت ’مسٹر ایران‘ کے طور پر بنائی تھی جو کہتے تھے کہ ایران کو صرف طاقت سے روکا جا سکتا ہے، لیکن اب وہ ایک ایسے معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جو نہ صرف ایرانی حکومت کو جائز قرار دیتا ہے بلکہ نیتن یاہو کے تین دہائیوں پرانے نظریے کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات اگرچہ ایک ممکنہ معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن تہران کی جانب سے مسلسل ایسے اشارے دیے جا رہے ہیں کہ اگر یہ سفارت کاری ناکام ہوئی اور دونوں ممالک دوبارہ جنگ کی طرف لوٹے، تو اس بار صورتحال ماضی سے بالکل مختلف اور انتہائی بھیانک ہوگی۔
امریکی حکام کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پا چکا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری کا منتظر ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر فوجی تناؤ ختم نہیں ہوا ہے۔
اس ہفتے امریکا نے چند ہی دنوں کے اندر ایران پر دوسری بار حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی دونوں اطراف سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ایران کے حکام ان مذاکرات کے دوران بھی اس اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کہ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں ان کے پاس فوجی کارروائی کے بڑے متبادل موجود ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ کوئی بھی نیا تنازع صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ بہت دور تک پھیلے گا اور مخالفین کو ایسے مقامات پر تباہ کن وار اور مکمل بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
یہ انتباہ ایک ایسی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران نے امریکی اڈوں، اسرائیلی شہروں اور خلیجی ممالک کے اہم ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے پوری دنیا کو توانائی کے بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس حوالے سے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ہماری طرف سے کی جانے والی کسی بھی جوابی کارروائی میں بہت سے نئے سرپرائزز یعنی حیران کن حربے شامل ہوں گے۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی واضح کیا کہ ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے اس دورانیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ اعلیٰ ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے اس سخت بیان کا مقصد مزید حملوں کو روکنا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تہران کے پاس صورتحال کو مزید خراب کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔
چونکہ ایران روایتی جنگ میں امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے وہ عالمی معیشت کو نقصان پہنچا کر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس بار ایران آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کے ذریعے باب المندب کے راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جہاں سے دنیا کا 10 فیصد سے زائد تیل گزرتا ہے۔
جارج میسن یونیورسٹی کے توانائی کے ماہر امود شکری نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز میں ایک ساتھ پیدا ہونے والا بحران انتہائی سنگین ہوگا، جس سے بحیرہ احمر کی تجارت اور خلیج فارس سے تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی، اور دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں اور مہنگائی آسمان کو چھونے لگیں گی۔
تاہم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ باب المندب کو پوری طرح بند کرنا مشکل ہوگا، اس لیے وہاں تجارتی جہاز رانی کو اتنا خطرناک بنا دیا جائے گا کہ کمپنیوں کے لیے کام کرنا ناممکن ہو جائے۔
اگر صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل کی ریفائنریوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر عمل کیا، تو ایران خلیجی ممالک کے تیل کے کنوؤں پر براہ راست حملے کر سکتا ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن احمد بخشائیش اردستانی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ارادہ کچھ ایسا کرنے کا ہے کہ ہمارے پاس تیل نہ رہے، تو ہم ان کی پائپ لائنوں پر حملہ نہیں کریں گے، بلکہ ہم ان کے تیل کے کنوؤں پر حملہ کریں گے تاکہ ان کے پاس بھی تیل نہ رہے اور پوری دنیا کے لیے ایندھن مہنگا ہو جائے۔
اس کے علاوہ ایران خطے کے دیگر ممالک میں پینے کے پانی کے پلانٹس اور سول انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ابوظہبی کے جوہری پاور پلانٹ اور سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی صورت میں دیکھا گیا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس بار ایران کے حملوں کا دائرہ کار یورپ تک بڑھ سکتا ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو فرزین ندیمی کے مطابق، اگر ایران نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا، تو وہ یونان کے جزیرے کریٹ، برطانیہ میں امریکی فضائی اڈوں جیسے آر اے ایف فیر فورڈ، یا جرمنی میں امریکی لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
پیرس کی سائنسز پو یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر نکول گراجیوسکی نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ بحیرہ روم کا علاقہ ایران کی پہنچ سے باہر ہے، یہاں اصل مسئلہ صرف میزائلوں کے نشانے کی درستگی کا ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اگلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ڈرون طیاروں کے جھنڈ، آواز کی رفتار سے تیز چلنے والے کروز میزائل اور سیٹلائٹ سگنلز کو جام کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کر سکتا ہے تاکہ مغربی ممالک کے دفاعی نظام کو چکمہ دیا جا سکے۔