Live
Iran Israel War

امریکا کی نئی تجاویز زیرِ غور ہیں، ابھی جواب نہیں دیا: ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا۔
شائع 18 اپريل 2026 10:12pm

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

یاد رہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو قزاقی اور وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا ہے۔ ایرانی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ریڈیو پیغام کے ذریعے اس اہم بحری راستے کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے اس کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا، اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رہے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک 23 جہازوں کو امریکی احکامات پر واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تحت نئے مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تاحال رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سرکاری حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران نے جمعہ کے روز تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے اس راستے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے جنگ کے عرصے تک تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ تمام نکات پر 100 فیصد نہ ہونے تک امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کی مکمل ناکہ بندی جاری رکھے گی۔

پاسدارانِ انقلاب نے بھارت کے دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا

بھارت نے ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 08:44pm

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بھارت نے اس واقعے پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔

بھارت نے ان واقعات پر نئی دہلی میں ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایران سے بھارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اقدامات درخواست کی، جس پرایرانی سفیر نے بھارت کے تحفظات ایرانی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے۔

سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی بھیجا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا اور اس گزرگاہ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔

ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا لیکن آپ نے ہمیں نظرانداز کیا۔ اب آبنائے ہرمز کی بندش کا مزہ لیں‘۔

دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے خلاف اپنی اعلان کردہ ’بحری ناکہ بندی‘ پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان کے مطابق امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس کینبرا‘ اس وقت بحیرہ عرب میں گشت کر رہا ہے اور اب تک 23 جہازوں کو امریکی احکامات پر واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے جمعہ کے روز تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے اس راستے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے جنگ کے عرصے تک تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ تمام نکات پر سو فیصد نہ ہونے تک امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کی مکمل ناکہ بندی جاری رکھے گی۔

امریکا سے مذاکرات کا دوسرا دور، ایران کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ: ایرانی میڈیا

ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا، حکام
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 07:31pm

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تحت نئے مذاکراتی دور پر تاحال رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔ حکام کی جانب سے سخت امریکی مطالبات اور حالیہ بیانات کو مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی۔ متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

تسنیم کے مطابق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے۔

سعید خطیب زادہ کے مطابق درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی، لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیا، بین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے۔

کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں، بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ معلومات بحری سلامتی اور شپنگ کے تین مختلف ذرائع نے فراہم کیں، تاہم واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتِ حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کر دیتا۔

ایرانی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کے لیے مکمل تیار ہے: مجتبیٰ خامنہ ای

امریکی منصوبوں کے خلاف ہماری فورسز ڈٹ کر رہیں، ایران کو توڑنے والوں کی خواہش کو ناکام کردیا: ایرانی سپریم لیڈر
شائع 18 اپريل 2026 05:26pm

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، ایرانی مسلح افواج، بالخصوص بحریہ، خطے میں کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور ملک کی خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے یومِ فوج کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی فوج نے حالیہ مسلط کردہ جنگ میں بھی ماضی کی طرح بہادری سے وطن کا دفاع کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے میں جرات و استقامت کے ساتھ اپنی سرزمین، سمندر اور قومی پرچم کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی حمایت اور مضبوط صف بندی کے ساتھ ایرانی فوج نے دیگر مسلح افواج کے شانہ بشانہ دشمن قوتوں کا مقابلہ کیا اور دنیا پر ان کی کمزوری و ذلت واضح کر دی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایرانی فوج کے ڈرونز امریکی اور صہیونی مجرموں پر بجلی بن کر گرتے ہیں جب کہ بحریہ دشمنوں کو نئی شکستوں کا مزہ چکھانے کے لیے ہر وقت تیار ہے، امریکی منصوبوں کے خلاف ہماری فورسز ڈٹ کر رہیں، ایران کو توڑنے والوں کی خواہش کو ناکام کردیا۔

انہوں نے یومِ فوج کے موقع پر تمام فوجی اہلکاروں، ان کے اہل خانہ اور ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کی۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی کامیابی ایرانی فوج کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جس کے بعد فوج نے شاہی نظام کے اثر سے نکل کر عوام کے درمیان اپنی اصل جگہ حاصل کی۔

اپنے پیغام کے اختتام پر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ 40 روزہ جنگ میں ایرانی فوج نے بھرپور دفاع کیا اور خطے میں دشمن تنصیبات پر متعدد کامیاب جوابی کارروائیاں کیں جب کہ فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان مکمل ہم آہنگی نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا مگر آپ نے توجہ نہیں دی، اب آبنائے ہرمز کی پرانی حالت میں واپسی کا مزہ چکھیں۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر خلیجی پانیوں اور اہم بحری راستوں کے حوالے سے سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی پورٹ کی ناکہ بندی غیرقانونی ہے اور ایران کا دفاع پورے خطے کے لیے ہے۔

سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا بدھ تک معاہدہ نہیں ہوا تو فوجی کارروائی کی طرف جائیں گے، ٹرمپ نے ایک ہی بیان میں دو متضاد باتیں کیں، ٹرمپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ امریکی عوام فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دفاع کو جاری رکھنا چاہیے، ہم اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھیں گےجب تک آخری ایرانی فوجی زندہ ہے، جنگ کے مثبت نتائج نہیں ہو سکتے، امریکیوں کویہ بات سمجھ لینی چاہیے۔

ایران میں فضائی سرگرمیاں بحال: تہران سمیت چھ بڑے شہروں کے ہوائی اڈے کھل گئے

تمام متعلقہ ائر لائنز اب ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے دوبارہ آغاز کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہی ہیں: حکام
شائع 18 اپريل 2026 02:45pm

ایران میں کشیدگی کے بعد بند کیے گئے فضائی راستوں اور ہوائی اڈوں کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے بعد ملک کے چھ اہم ہوائی اڈوں پر آپریشنز بحال ہو گئے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف ایرانی ائر لائنز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک کے مشرقی حصے کی فضائی حدود کے ایک حصے کو پہلے ہی کھول دیا گیا تھا اور اب دارالحکومت تہران سمیت دیگر شہروں کے ہوائی اڈوں کو بھی پروازوں کے لیے تیار قرار دے دیا گیا ہے۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’تسنیم’ نے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اب جن ہوائی اڈوں سے فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع ہو رہا ہے ان میں تہران کے دو اہم ترین ہوائی اڈے یعنی امام خمینی انٹرنیشنل ائرپورٹ اور مہر آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ شامل ہیں۔

ان کے علاوہ مشہد، بیرجند، گرگان اور زاہدان کے ہوائی اڈوں پر بھی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ائر لائنز اب ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے دوبارہ آغاز کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہی ہیں تاکہ مسافروں کی آمد و رفت کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ائر لائنز اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ان ہوائی اڈوں کے کھلنے سے نہ صرف تہران بلکہ مشہد اور زاہدان جیسے دور دراز شہروں کے مسافروں کو بھی بڑی سہولت ملے گی جو گزشتہ کچھ عرصے سے فضائی حدود کی بندش کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔

ماہرین اس پیش رفت کو خطے میں صورتحال کے بتدریج معمول پر آنے کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں کیونکہ فضائی سفر کی بحالی سے معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو دوبارہ تقویت ملے گی۔

ایران امریکا جنگ 60 دنوں میں ختم ہونے کا امکان

سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی یہ کوششیں خطے کو ایک بڑی جنگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 01:58pm

سات ہفتے قبل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے بند رہنے والی اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے ہفتے کے روز تیل بردار جہازوں کے پہلے بڑے قافلے نے گزرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم پاسدارانِ انقلاب نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سمندری گزرگاہ کر دوبارہ بند کردیا ہے۔

میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز مائع پیٹرولیم گیس اور کیمیائی مواد لے جانے والے چار بڑے جہازوں کو ایرانی پانیوں سے ہوتے ہوئے گزرتے ہوئے رہکارڈ کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ خلیج سے مزید ٹینکرز بھی ان کے پیچھے آ رہے ہیں۔

تاہم، اس کے کچھ ہی دیر بعد پاسدارانِ انقلاب نے دوبارہ آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کردیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے کچھ ”اچھی خبروں“ کا اشارہ دیا، تاہم انہوں نے اس کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ معاملات بہت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہفتے کے آخر میں مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، کیونکہ یہ معاملہ ہر چیز پر مقدم ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بدھ تک کوئی طویل مدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔

ایران کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک سے وابستہ فوجی یا تجارتی جہازوں کو اب بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں دو ٹوک کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو بھی زیادہ دیر تک کھلا نہیں رکھا جائے گا۔

پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں تین روزہ مذاکرات مکمل کر کے واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔

بگرطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک سے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت سامنے آ سکتی ہے، جس کے بعد ساٹھ دنوں کے اندر مکمل امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا رواں ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست اعلیٰ سطح کی ملاقات ہو سکے گی یا نہیں۔

ایٹمی پروگرام اب بھی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نکال لے جائے گا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک کہا ہے کہ یہ مواد کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

ایران میں جمعہ کے اجتماعات کے دوران سینیئر علماء نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا ہے، علامہ احمد خاتمی کا کہنا تھا کہ ہماری قوم ذلت کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کرتی۔

ان اختلافات کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دس فیصد کمی دیکھی گئی ہے اور سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی یہ کوششیں خطے کو ایک بڑی جنگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

ایران امریکا امن منصوبے کے 3 صفحات، فیصلہ کن مذاکرات کی اندرونی کہانی

اسلام آباد میں ٹرمپ اور تہران کے درمیان 20 ارب ڈالر کا بڑا سودا طے پانے کے قریب ہے۔
شائع 18 اپريل 2026 11:14am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے تین صفحات پر مشتمل ایک اہم منصوبے پر خفیہ مذاکرات جاری ہیں جس میں سب سے بڑا نکتہ ایران کے ایٹمی ذخیرے کے بدلے منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دو امریکی حکام اور مذاکرات سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 20 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز اس شرط پر جاری کرنے کو تیار ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم کر دے۔

اگرچہ اس ہفتے مذاکرات میں مسلسل پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بڑے خلیج موجود ہیں جنہیں پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو بیان دیا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ممکنہ طور پر اس ہفتے کے آخر میں بات چیت کے دوسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے تاکہ اس معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

توقع ہے کہ یہ مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں ہوں گے، کیونکہ پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کو اس کے زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات میں موجود 2000 کلوگرام افزودہ یورینیم، خاص طور پر 60 فیصد تک افزودہ 450 کلوگرام مواد تک رسائی سے روکا جائے، جبکہ ایران کو اس وقت اپنی معیشت سہارا دینے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شروع میں امریکا نے خوراک اور ادویات جیسی انسانی ضروریات کے لیے 6 ارب ڈالر جاری کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن ایران نے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دونوں فریقین 20 ارب ڈالر پر بات کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے اسے امریکی تجویز قرار دیا جبکہ دوسرے نے اسے صرف بحث کا حصہ بتایا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی مواد کی منتقلی پر ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکا چاہتا تھا کہ تمام مواد اسے منتقل کر دیا جائے جبکہ ایران صرف اسے اپنے ملک کے اندر ہی ڈاؤن بلینڈ یعنی اس کی شدت کم کرنے پر راضی تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اب زیرِ بحث تجویز یہ ہے کہ کچھ مواد کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے گا اور باقی کو بین الاقوامی نگرانی میں ایران کے اندر ہی ضائع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایران سے 20 سال کے لیے ایٹمی افزودگی پر رضاکارانہ پابندی مانگی گئی ہے، لیکن ایران صرف پانچ سال پر راضی ہے۔

ایران امریکا ایٹمی مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو ہونے کا امکان، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت

سیکیورٹی ہائی الرٹ اور بس اڈے بند، وفود کی آمد کل متوقع ہے۔
شائع 18 اپريل 2026 09:30am

امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی مذاکرات کا دوسرا دور پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت میں ہونے کا امکان ہے جس کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کے درمیان ملاقاتوں کا ایک نیا دور پیر کو پاکستان میں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے مذاکراتی وفود اتوار کو اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ گزشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اگرچہ امریکا اور ایران کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے تھے، تاہم اب دوسرے دور سے عالمی سطح پر بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی آئندہ ہفتے کے شروع میں ختم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ بیٹھک انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اس بڑی بیٹھک کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کو پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت حاصل ہے اور شہر بھر میں سات ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

خاص طور پر ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی چیکنگ کی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے اندرونِ شہر کے تمام بس اڈے تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ایک طرف جہاں سیکیورٹی سخت ہے، وہیں دوسری طرف شہرِ اقتدار کو اس اہم سفارتی مشن کے لیے سجایا بھی جا رہا ہے۔

شاہراہوں کے گرد گرین بیلٹس پر نئے پھول لگائے جا رہے ہیں اور شہر کو دلکش بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔

امریکا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کی مشرقِ وسطیٰ میں واپسی

ایران امریکا جنگ کے دوران 12 مارچ کو جہاز کے لانڈری اور رہائشی حصے میں آگ لگنے سے نقصان ہوا تھا
شائع 18 اپريل 2026 09:27am

امریکا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ  مرمت کے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں داخل ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز، جو کچھ عرصہ قبل تک مشرقی بحیرہ روم میں تعینات تھا، نہر سویز سے گزرتے ہوئے بحر احمر میں پہنچ گیا ہے۔

اس کے ساتھ دو جنگی جہاز بھی شامل ہیں جن میں یو ایس ایس مہان اور یو ایس ایس ونسٹن ایس چرچل شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، دفاعی حکام نے حساس نوعیت کے معاملات کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ بحری جہاز ایک ماہ سے زائد عرصے بعد بحیرۂ احمر میں واپس آیا ہے۔

اس سے قبل مبینہ طور پر جہاز کے کپڑے دھونے کے حصے میں آگ لگنے کے باعث اسے مرمت کے لیے بندرگاہ واپس جانا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 600 اہلکاروں کو عارضی طور پر رہائش کی سہولت دستیاب نہیں رہی تھی۔

مزید یہ کہ اس ہفتے اس بحری جہاز نے ویتنام جنگ کے بعد طویل ترین تعیناتی کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

اس جہاز کی آمد کے بعد خطے میں امریکی بحری جہازوں کی تعداد دو ہو گئی ہے، جہاں پہلے ہییو ایس ایس ابراہم لنکن بحیرہ عرب میں موجود ہے۔

دفاعی حکام کے مطابق ایک اور امریکی بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش بھی اس خطے کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس وقت جنوبی افریقا کے ساحل کے قریب موجود ہے۔

ایران کا افزودہ یورینیم باہر بھیجنے سے صاف انکار: ایٹمی پروگرام پر ٹرمپ کے دعوے مسترد

آبنائے ہرمز کھولی دی گئی، لیکن جہازوں کے لیے نیا منصوبہ
شائع 18 اپريل 2026 08:49am

ایران نے ان تمام امریکی دعوؤں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران اپنا افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے واضح کیا ہے کہ تہران افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی اس حوالے سے اب تک کوئی وعدہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کو صفر کرنے یا اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے سے متعلق ہر بات کو ایران مکمل طور پر مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ ملک کی اسٹریٹجک ریڈ لائن ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کر دے گا۔

ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”امریکہ تمام ایٹمی مواد (ڈسٹ) حاصل کر لے گا۔“

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کو بتایا کہ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی مٹی کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی صورت میں کہیں بھی منتقل نہیں کیا جائے گا۔

تہران میں سینٹر فار مڈل ایسٹ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ماہر عباس اصلانی کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام کی مستقل معطلی قبول نہیں کرے گا بلکہ اسے افزودگی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسے ملک کے اندر ہی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکے۔

ایٹمی معاملے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تہران کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔

ابراہیم رضائی نے بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر روایتی طریقے سے کوئی فیس عائد نہیں کرے گا، بلکہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسا قانون تیار کر رہی ہے جس کے تحت ’آبنائے کی حفاظت‘ سے متعلق فیس لی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی لازمی ہوگی۔

ابراہیم رضائی کا کہنا تھا کہ دشمن ممالک بالخصوص امریکا اور اسرائیل کے فوجی جہازوں کو کسی بھی صورت گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ دوست ممالک کے جہاز پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے تحت گزر سکیں گے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی حفاظت یا انتظام میں کسی بھی امریکی کردار کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے کو لبنان میں جنگ بندی سے بھی جوڑا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ ان دونوں معاملات کے باہمی تعلق سے انکار کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب جب ایک رپورٹر نے آبناجئے ہرمز پر ایران کی پابندیوں یا ٹول ٹیکس (محصول) کے امکان کے بارے میں پوچھا، تو ٹرمپ نے اس خیال کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔

ٹرمپ نے کہا، ”نہیں۔ بالکل نہیں۔ ہرگز نہیں۔ نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کے ساتھ ٹول ٹیکس نہیں ہو سکتے۔ وہاں کوئی ٹول ٹیکس نافذ نہیں ہوں گے۔

عباس اصلانی کے مطابق ایٹمی معاملات میں باریکیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور یہی وہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات ہیں جہاں فی الحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں کو فیس کی ادائیگی کے بعد گزرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، مگر اس کا مکمل کنٹرول صرف ایران کے پاس رہے گا۔

ایران کا افزودہ یورینیم امریکا لایا جائے گا، اس پر مل کر کام کریں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

ایران کے ساتھ مل کر پورے احتیاط اور آرام سے کھدائی کرکے بڑی مشینری کے ذریعے جوہری مواد نکالیں گے: امریکی صدر
شائع 17 اپريل 2026 11:31pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کیا جائے گا، جس کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

جمعے کو برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا منظم مرحلے لیکن آہستہ رفتار سے آگے بڑھے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مل کر ان کے ملک میں پورے احتیاط اور آرام سے کھدائی کرکے بڑی مشینری کے ذریعے جوہری مواد نکالیں گے اور پھر اسے امریکا لے آئیں گے جب کہ انہوں نے اس عمل کو نیوکلیئر ڈسٹ سے بھی تعبیر کیا اور کہا کہ یہ وہ باقیات ہیں جو گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائی حملوں کے بعد بچی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے، جنگ کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔

خیال رہے کہ ایران کے پاس اس وقت 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود ہے، جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح 90 فیصد تک مزید افزودہ ہونے کی صورت میں ہتھیار بنانے کے قابل ہوسکتی ہے تاہم ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ حتمی ہونے تک ایران کے خلاف امریکی بحری پابندیاں برقرار رہیں گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق مزید مذاکرات کی ضرورت ہے جو ممکنہ طور پر ہفتے کے آخر میں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں وہ اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ امریکا ایران سے یورینیم کے بدلے 20 ارب ڈالر کی ادائیگی پر غور کر رہا ہے اور واضح کیا کہ کسی قسم کی مالی لین دین نہیں ہو رہی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے پر بھی کام کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ کسی بھی دشمن ملک کے جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان نے اس تمام عرصے میں خطے میں استحکام اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں اور بالاخر امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو سیز فائر پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے 8 اپریل کو دو ہفتے کے سیز فائر کا اعلان کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد اس سیز فائر کو جنگ کے مستقل خاتمے میں تبدیل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔

اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز کن شرائط پر کھولی گئی تھی؟

ایران سیزفائر کے فوری بعد معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے پر راضی تھا تاہم لبنان کے معاملے پر معاہدہ نافذ العمل نہ ہوسکا: ایرانی میڈیا
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 01:55pm

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے تین سخت شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک قریبی ذریعے کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز پر طے پانے والے مبینہ معاہدے کی تفصیلات سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جب کہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ دشمن ملک کے جہازوں یا ایسے جہاز جن پر دشمن ممالک کا سامان لدا ہوگا، انہیں یہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے ہی گزرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت ان جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کا استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا ہوگا۔

تسنیم نیوز کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابنید عائد کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ یہ راستہ جنگ بندی کے عرصے تک ’تجارتی جہازوں‘ کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن تجارتی جہازوں کے گزرنے کا روٹ بھی وضع کرچکی ہے۔

تاہم اس کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھل چکا ہے لیکن ایران پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک پوری طاقت سے برقرار رہے گی جب تک امریکا کی ایران کے ساتھ ڈیل 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتی۔

ایرانی صدر کے ترجمان نے بھی ٹرمپ کے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو بند نہ کرنے کی یقین دہائی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’مستقبل میں آبنائے ہرمز بند نہ کرنے کا وعدہ نہیں کیا‘: ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

آبنائے ہرمز کو مشروط اور محدود طور پر کھولنا خالصتاً ایران کا اپنا فیصلہ ہے: ایرانی صدر کے ترجمان سید محمد مہدی طباطبائی کا بیان
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 10:04pm

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا کہ ایران نے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو کبھی بند نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کے عرصے میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیانات جاری کیے تھے۔

ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں کرے گا۔

اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی صدر کے ترجمان سید محمد مہدی طباطبائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے ایک حصے کو مشروط اور محدود پیمانے پر کھولنا خالصتاً ’ایرانی اقدام‘ ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کے وعدوں کو آزمانا ہے۔

مہدی طباطبائی نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلانات کا مقصد ایرانی قوم سے ان عظیم کامیابیوں کا فخر چھیننا ہے جو انہوں نے اپنے ملک کے غیر متزلزل اور مضبوط دفاع کے ذریعے حاصل کی ہیں۔

ایرانی صدر کے ترجمان نے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے اپنے وعدوں سے روگردانی کی تو انہیں اس کے انتہائی سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

امریکا ایران کے ساتھ 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم معاہدے پر غور کر رہا ہے: امریکی میڈیا

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مجوزہ منصوبے پر بات چیت جاری ہے۔
شائع 17 اپريل 2026 09:10pm

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مجوزہ منصوبے پر بات چیت جاری ہے، جس کے تحت واشنگٹن تہران کے ساتھ 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم معاہدے پر غور کر رہا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران ایک تین صفحات پر مشتمل فریم ورک پر بات چیت کر رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی یا جنگ کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 20 ارب ڈالر جاری کرے گا، جس کے بدلے ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہوگا۔

ویب سائٹ کے مطابق ایران کے پاس زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں تقریباً 2 ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں 450 کلوگرام 60 فیصد تک افزودہ ہے اور امریکا اس ذخیرے کو اپنے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خدشہ قرار دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں امریکا ایران کو 6 ارب ڈالر جاری کرنے پر تیار تھا تا کہ ایران خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء خرید سکے تاہم ایران نے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق تازہ ترین بات چیت میں 20 ارب ڈالر کی رقم زیر غور ہے۔ 

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ امریکی تجویز ہے جب کہ دوسرے امریکی عہدیدار نے ’رقم کے بدلے یورینیم‘ کی تجویز کو ’کئی زیر بحث نکات میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اسی دوران امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا تمام جوہری مواد امریکا منتقل کرے جب کہ ایران نے صرف اسے اپنے ملک میں ہی ’ڈاؤن بلینڈ‘ (کم افزودہ) کرنے پر رضامندی ظاہر کی جب کہ ایک زیر غور تجویز یہ بھی ہے کہ زیادہ افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے جب کہ باقی یورینیم کو ایران میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت کم افزودہ کیا جائے۔

ویب سائٹ کے مطابق اس وقت زیرِ غور 3 صفحات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت  میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی پر ’رضاکارانہ‘ پابندی بھی شامل ہے۔

ویب سائٹ کا بتانا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے آخری دور میں ایران سے جوہری افزودگی پر 20 سالہ پابندی کا مطالبہ کیا تھا جب کہ ایران نے 5 سال کی مدت تجویز کی اور ثالث اب بھی اس حوالے سے اختلاف کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مفاہمتی یاد داشت کے تحت ایران کو طبی مقاصد کے لیے نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹرز رکھنے کی اجازت ہوگی تاہم وہ اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ اس کی تمام جوہری تنصیبات زمین کے اوپر ہوں گی جب کہ موجودہ زیرِ زمین تنصیبات غیر فعال رہیں گی۔

اس معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور بھی شامل ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت کا ذکر شامل ہے یا نہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں تاہم باضابطہ اعلان سے قبل کسی بھی پیش رفت کی تفصیلات میڈیا پر بیان نہیں کی جائیں گی۔

بہت ہو چکا! لبنان پر اب کوئی بمباری نہیں ہوگی: صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو خبر دار کردیا

جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان کے تمام علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
شائع 17 اپريل 2026 08:02pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بہت ہو چکا! لبنان پر اب کوئی بمباری نہیں ہوگی۔ جب کہ اسے امریکا کی جانب سے واضح طور پر روک دیا گیا ہے۔

جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹرتھ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو وہ تمام جوہری مواد حاصل ہوگا جو ان کے مطابق اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے ذریعے تیار کیا گیا ہے اور اس کے بدلے کسی قسم کا مالی لین دین نہیں ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے مطابق یہ معاملہ لبنان کی صورت حال سے الگ ہے اور امریکا لبنان کے ساتھ بھی علیحدہ طور پر تعاون کرے گا تاکہ وہاں موجود مسلح گروپ حزب اللہ کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان پر مزید بمباری کی اجازت نہیں ہوگی اور اسے امریکا کی جانب سے واضح طور پر روک دیا گیا ہے اور اب یہ عمل جاری نہیں رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے، اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا اور اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ حکام کے مطابق خطے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ مختلف فریقین صورتحال کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی مکمل نہیں ہوئی، نتین یاہو

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان میں مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور اسرائیل اپنے اہداف کے حصول تک آپریشن جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے اور اس حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہوئی ہے تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

اسرائیل کا لبنان کے تمام علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان

قبل ازیں اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود وہ جنوبی لبنان میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام علاقوں پر بدستور موجود رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ایک ”سیکیورٹی زون“ قائم کر لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے انخلا کا پابند نہیں بنایا گیا، جہاں اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی کے جنوب میں رہائشیوں کو نقل مکانی کا حکم دینے کے بعد متعدد دیہات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ یہ علاقہ لبنان کے تقریباً 8 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے دیہات میں گھروں کو مسمار کرتی رہے گی، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں حزب اللہ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ان تمام علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھے گی جنہیں کلیئر اور فتح کیا جا چکا ہے۔

اسرائیل کاٹز نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوب میں غیر مسلح کیا جانا چاہیے، چاہے یہ عمل سیاسی طریقے سے ہو یا پھر دوبارہ فوجی کارروائی کے ذریعے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید کشیدگی اور فوجی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔

لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خلاف ورزیاں جاری

دوسری طرف لبنان کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

فوج نے اسرائیل پر ’کئی جارحانہ اقدامات‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کے مختلف دیہات پر وقفے وقفے سے گولہ باری کی گئی، جس سے وہاں کے حالات متاثر ہوئے۔

لبنانی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر جنوبی علاقوں کے دیہات اور قصبوں میں واپسی مؤخر کر دیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

آبنائے ہرمز کھلنے پر صدر ٹرمپ کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ

آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ: صدر ٹرمپ کا بیان
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 09:11pm

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولے جانے کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے کئی بیانات جاری کیے ہیں۔ ان بیانات میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خلیجی ممالک کی تعریف کی، نیٹو پر شدید تنقید اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان پر حملوں سے باز رہے۔ ایک بیان میں انہوں نے ایران کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی کی جانب سے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر متحرک ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’دو لاجواب شخصیات‘ کہہ کر مخاطب کیا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل بیان میں انہوں نے لکھا کہ ’آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہے‘۔ کچھ دیر بعد انہوں نے ایک اور بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’امریکی بحریہ کی جانب سے ناکہ بندی بدستور نافذ رہے گی اور اس کا اطلاق صرف اور صرف ایران پر ہوگا‘۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو بند نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکا کی ایران کے ساتھ ’ڈیل‘ سو فیصد مکمل ہونے تک ایران کے تجارتی جہازوں پر یہ پابندی برقرار رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل ہونے کے بعد نیٹو نے ان سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی جسے انہوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’نیٹو نے ان سے رابطہ کیا ہے اور مدد کی پیشکش کی ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اب وہ اپنے جہازوں میں تیل بھروانا چاہتے تو جاکر بھروا لیں لیکن جب ان کی ضرورت تھی تب وہ بے کار اور ایک کاغذی شیر ثابت ہوئے‘۔

ایک اور مختصر پیغام میں امریکی صدر نے خلیجی ممالک کی تعریف کی۔ انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی زبردست بہادری اور مدد کا شکریہ‘۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ 40 روز تک جاری رہی۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دشمن ملکوں کے تجارتی جہازوں کو وارننگ جاری کی تھی۔

اس دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔

اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی مربوط راستے پر ہوگی جس کا اعلان ’ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ پہلے ہی کر چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایکپیغام میں یہ بھی کہا ایران اور امریکا درمیان جاری مذاکرات میں سو فیصد اتفاق ہونے تک ایران کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ چونکہ زیادہ تر نکات پر مذاکرات ہو چکے ہیں، اس لیے یہ عمل بھی جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

عالمی مارکیٹ میں سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 07:18pm

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق خبروں کے بعد سامنے آئی۔ عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات میں واضح کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا ایران جنگ کے دنوں میں تیل کی قیمتیں 114 ڈالرفی بیرل پرتھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 11 فی صد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو پہلے سے جاری کمی میں مزید اضافہ ہے۔ یہ کمی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق بیان کے بعد سامنے آئی۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت میں 11.12 ڈالر (11.2 فی صد) کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 88.27 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (وی ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 11.40 ڈالر (12 فیصد) گر کر 83.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت نے عالمی منڈی میں اس تاثر کو مضبوط کیا کہ توانائی کی سپلائی پر جاری شدید دباؤ میں کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے فوری ردعمل دیا۔

تاہم ماہرین کے مطابق یہ تمام پیش رفت مارکیٹ ری ایکشن اور ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر ہے اور صورتِ حال کے مزید واضح ہونے تک توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شکریہ کی پوسٹ کردی۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی انٹرسٹ ریٹ فیوچرز میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرحِ سود میں کمی کی توقع مضبوط ہو گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق مارکیٹ میں اب تقریباً 60 فی صد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دسمبر تک امریکی مرکزی بینک شرحِ سود میں کمی کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے یہ اعلان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے عالمی تجارت اور تیل کی بلا تعطل ترسیل کے حوالے سے انتہائی مثبت اور اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدرٹرمپ کی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایران کا لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کا خیر مقدم

جہازوں کی آمد و رفت ایران کے طے کردہ راستے پر ہوگی، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 08:37pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد ’آبنائے ہرمز‘ کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی مربوط راستے پر ہوگی جس کا اعلان ’ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ پہلے ہی کر چکی ہے۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے عالمی تجارت اور تیل کی بلا تعطل ترسیل کے حوالے سے انتہائی مثبت اور اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یکے بعد دیگرے کئی بیانات جاری کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہےاور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل آزاد ہے‘۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’دو لاجواب شخصیات‘ کہہ کر مخاطب کیا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر نے اپنے بیانات میں نیٹو کی مدد کی پیشکش کو ٹھکرایا ہے، وہیں خلیجی ممالک کی تعریف اور اسرائیل کو لبنان پر مزید بمباری کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔

ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد نیٹو نے اُن سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی ہے تاہم انہوں نے اس پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ صرف کاغذی شیر ہیں جو ضرورت کے وقت کام نہیں آئے۔

جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے رابطے کے بعد 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل تاہم امریکا اور اسرائیل نے لبنان میں جاری کارروائیوں کو امریکا-ایران جنگ بندی سے مستثنیٰ قرار دیا تھا جس کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان میں جنگ بندی کو بنیادی شرط قرار دیا تھا، ۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ کسی بھی دشمن ملک کے جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان نے اس تمام عرصے میں خطے میں استحکام اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں اور بالاخر امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو سیز فائر پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے 8 اپریل کو دو ہفتے کے سیز فائر کا اعلان کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد اس سیز فائر کو جنگ کے مستقل خاتمے میں تبدیل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔

اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم

وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت اور جنگ بندی کے اقدامات کو سراہا۔
شائع 17 اپريل 2026 05:58pm

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے سینئر مشیر سے ملاقات کی اور امن کوششوں پر بات چیت کی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور جنگ بندی اقدامات کو سراہا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی امن کوششوں اور مجوزہ تاریخی اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاک بھارت جنگ بندی میں ان کے کردار کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے جرات مندانہ فیصلے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انھوں نے لبنان میں جنگ بندی معاہدے پر بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی اور اسے خطے میں امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کی گئی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ جنگ بندی ممکن ہوئی جو امن کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امید ہے یہ جنگ بندی خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں مستقل امن کے لیے تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر تفصیلی بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔

تاہم اس پیش رفت کے باوجود اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود وہ جنوبی لبنان میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام علاقوں پر بدستور موجود رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ایک ”سیکیورٹی زون“ قائم کر لیا ہے۔

امریکا کی وعدہ خلافیاں خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، قالیباف

اسپیکر قالیباف کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا
شائع 17 اپريل 2026 10:10am

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بار بار وعدہ خلافیاں خطے میں پائیدار امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل وعدہ خلافیاں خطے میں دیرپا امن اور سیکیورٹی کے قیام میں بنیادی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

ملاقات کے دوران قالیباف نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو ایران کی مستقل اور اہم پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور ہم آہنگ حکومتی پالیسیوں کے باعث یہ تعلقات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف اپنے ملک بلکہ پورے خطے میں حقیقی اور جامع امن کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عناصر نے جنگ کا آغاز کیا، اب وہی اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا انہیں اپنے عملی اقدامات سے ماضی کی بداعتمادی کو ختم کرنا ہوگا۔

قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران مکمل امن اور سیکیورٹی کے حصول کے لیے پرعزم ہے، تاہم مخالف فریق اپنی وعدہ خلافیوں کے باعث ان کوششوں کو سبوتاژ کرتا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے ابتدائی جنگ بندی معاہدے میں تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ایک اہم شق ہے۔ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے ٹیلیفونک گفتگو میں بھی قالیباف نے لبنان کو اس جامع جنگ بندی کا اہم حصہ قرار دیا۔

ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی دراصل حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی اتحاد کی یکجہتی کا نتیجہ ہے، تاہم ایران اس جنگ بندی کو احتیاط کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور مکمل کامیابی تک اتحاد برقرار رکھے گا۔

انہوں نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی حکومت اور جنرل عاصم منیر کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے وعدوں پر قائم ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لبنان میں جنگ بندی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے نفاذ کی خود نگرانی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہم مشاورت جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ جلد اسلام آباد میں ایرانی قیادت سے دوبارہ ملاقات ہوگی۔

ایران نے بیشتر نکات پر اتفاق کرلیا، ڈیل ہوئی تو اسلام آباد جا سکتا ہوں: صدر ٹرمپ

ضرورت پڑی تو ایران کے ساتھ سیز فائر کی مدت بڑھائیں گے، ڈیل نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی، امریکی صدر
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 12:01am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور تہران بیشتر نکات پر رضامند ہو چکا ہے، ایران کے ساتھ اسی ہفتے کے آخر میں مذاکرات ہوسکتے ہیں، ڈیل ہوئی تو اسلام آباد جاسکتا ہوں۔

جمعرات کو واشگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ہم ایران کو اچھے سے ڈیل کررہے ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، ان سے بات چیت چل رہی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پہلے جن چیزوں پر تیار نہیں تھا، اب تیار ہے، اچھا لگتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ ڈیل کی طرف جارہے ہیں، ضرورت پڑی تو ایران کے ساتھ سیز فائر کی مدت بڑھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیل نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی، ایران کے ساتھ ڈیل ہوگئی تو میں اسلام آباد جاسکتا ہوں، پاکستان نے بہت زبردست کام کیا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مؤثر کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہورہی ہے اور ہم ڈیل کے بہت قریب ہیں، ایران کے ساتھ اسی ہفتے کے آخر میں مذاکرات ہوسکتے ہیں، ایران آمادہ ہوچکا ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا، ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے یہ اچھی بات ہوگی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی نیوی اور فضائیہ کو ختم کردیا ہے، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اچھے طریقے سے جاری ہے، ایران نے جوہری صلاحیت حاصل کرلی تو اٹلی سمیت ہر ملک کرلے گا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر جنگیں رکوانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تک دنیا میں 10 جنگیں رکوا چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 دن کے سیزفائر پر اتفاق ہوا ہے، لبنان کے ساتھ سیز فائر میں حزب اللہ بھی شامل ہوگی، وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کریں گے تاہم انہوں نے اس ملاقات کی تاریخ نہیں بتائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد کچھ اہم ہونے جارہا ہے، دنیا میں تیل کی قیمتیں نیچے جارہی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پوپ لیو سے ملاقات کرنا ضروری ہے، یہ بہت اہم ہے کہ پوپ لیو سمجھیں کہ ایران دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے، جس میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد نے شرکت کی تھی اور اب دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں تہران پہنچا تھا تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان

اسرائیلی وزیرِاعظم اور لبنانی صدر کو 34 سال بعد براہِ راست بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کروں گا: صدر ٹرمپ
اپ ڈیٹ 16 اپريل 2026 09:48pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس جنگ بندی کا اطلاق امریکی وقت کے مطابق آج شام 5 بجے سے ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سماجی پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر تفصیلی بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

اس پیش رفت سے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں عارضی وقفے کا امکان ہے، جو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی۔ یہ 34 سالوں میں پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے نمائندے کسی ایک میز پر بیٹھے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق انہوں نے اس 10 روزہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیم کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔ جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر حتمی امن معاہدے پر کام کریں گے۔

بیان کے آخر میں صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی سفارتی کامیابیوں کا دوبارہ تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں 9 جنگیں ختم کروانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ میری دسویں کامیابی ہوگی۔‘

ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ 1983 کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی بامعنی بات چیت ہوگی، جو خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ پیش رفت جلد ممکن ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل لبنانی صدر کے دفتر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کی تصدیق کی تھی، جس میں انہوں نے لبنان میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے لبنانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر جوزف عون نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ لبنانی صدر کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے قبل ہی لبنانی سفارت خانے نے واشنگٹن کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا۔

اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی رکن گِلا گاملیل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو کئی دہائیوں کے بعد لبنانی صدر سے پہلی بار براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم رائٹرز کے مطابق لبنانی حکام نے ان دعوؤں کی بھی نفی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لبنان نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے پہلے جنگ بندی کا نفاذ لازمی ہے جب کہ اسرائیلی افواج کا انخلا بھی ایک بنیادی شرط ہے تاکہ لبنانی فوج جنوبی علاقوں میں تعینات ہو سکے۔

لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ کے بعد اسرائیلی حملوں میں 2100 سے زائد افراد شہید اور 12 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ وہیں اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں مسلسل پیش قدمی جاری ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی پر قائم آخری پُل بھی تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک کے ایک بڑے حصہ کا باقی علاقوں سے رابطہ کٹ چکا ہے۔

رائٹرز نے ایک اور رپورٹ میں ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کا جنگ بندی کے دوران جنوبی لبنان سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سینیئر رکن حسن فضل اللہ نے بتایا کہ انہیں لبنان میں تعینات ایرانی سفیر کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ایک ہفتے کی جنگ بندی جمعرات کی شام سے شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار اسرائیل کی جانب سے مکمل طور پر جنگی کارروائیاں روکنے پر ہوگا، جب کہ انہوں نے ممکنہ جنگ بندی کا سہرا ایران کی سفارتی کوششوں کو دیا۔

امریکا کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر غور

سمندری راستے کی حفاظت کے لیے روبوٹس، ہیلی کاپٹرز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا امکان ہے، رپورٹ
شائع 16 اپريل 2026 07:46pm

امریکا نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں ڈرونز، روبوٹس اور سونار سسٹمز کے ذریعے خطرناک علاقوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے غور کرنا شراع کر دیا ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی بشمول ڈرونز، خودکار روبوٹس اور ہیلی کاپٹرز کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا آپریشن انتہائی پیچیدہ اور سست رفتار ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ روایتی مائن سویپنگ جہازوں کے بجائے اب جدید چھوٹے جہازوں، نیم خودکار زیرِ آب اور سطحی ڈرونز اور ریموٹ کنٹرول روبوٹس پر انحصار کر رہی ہے، جن کے ذریعے بارودی سرنگوں کی نشاندہی، شناخت اور انہیں ناکارہ بنانے کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران ڈرونز اور سینسرز کے ذریعے مشکوک اشیاء کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس کے بعد کنٹرول رومز سے انہیں غیر مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات آرچر فش جیسے خودکش روبوٹک نظام بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو دھماکا خیز مواد لے کر بارودی سرنگ کو تباہ کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، جن کے بارے میں درست مقام واضح نہیں ہے۔ اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ْٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے مائن بچھانے والے تمام جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق مزید خطرات اب بھی موجود ہیں۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا تھا کہ امریکی جہازوں یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور مائیکل مرفی نے آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے آپریشن کیا تھا جس پر ایرانی فوج کے کمانڈ مرکز خاتم الانبیاء کے ترجمان نے امریکی دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ درست نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگیں انتہائی سستی مگر انتہائی مؤثر ہتھیار ہیں، جو تجارتی بحری راستوں کو مکمل طور پر بند کر سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے صرف ان کی موجودگی کا خدشہ ہی بحری نقل و حمل کو متاثر کر دیتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود آبنائے ہرمز جیسے اہم اور حساس آبی راستے کو صاف کرنا ایک مشکل، وقت طلب اور خطرناک عمل ہوگا، جو کئی ہفتے بھی لے سکتا ہے، جب کہ ایرانی حملوں یا ممکنہ خطرات کی صورت میں بھی یہ عمل مزید سست ہو سکتا ہے۔

امریکی بحریہ کے حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کو تلاش کرنا اور ختم کرنا ایک وقت طلب اور خطرناک عمل ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور مکمل خودکار نظاموں کے ذریعے بارودی سرنگوں کی تلاش اور صفائی کو مزید تیز اور محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم فی الحال یہ عمل انسانی نگرانی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی کے امتزاج پر ہی منحصر ہے۔

یقین ہے ایرانی ٹیم ورلڈکپ کھیلنے امریکا ضرور آئے گی: فیفا چیف

فیفا کے صدر نے ایرانی فٹبال ٹیم کو امریکا میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے
شائع 16 اپريل 2026 07:29pm

فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے ایران کی ٹیم کو ورلڈکپ کے لیے امریکا آنے کی صورت میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ فیفا نے ایران کی ورلڈکپ کے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔

فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این بی سی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود ایران کے میچز امریکا میں ہی ہوں گے۔

فیفا نے امریکا میں ہونے والے ورلڈکپ میں ایرانی کھلاڑیوں اور عملے کو مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے کہا کہ حال ہی میں وہ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ایرانی ٹیم کے ٹریننگ کیمپ میں گئے تھے، جہاں کھلاڑیوں نے ان سے ورلڈ کپ میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایرانی ٹیم نے کوالیفائی کیا ہے، کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے اور وہ اپنے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس لیے ایرانی ٹیم کو امریکا آنا ہی ہوگا‘۔

گیانی انفینٹینو نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے تک خطے کے حالات مکمل طور پر پُرامن ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث ایران کے وزیرِ کھیل نے امریکا میں کھیلنے سے معذرت کی تھی، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی کھلاڑیوں کی سلامتی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ایرانی حکام نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے میچز امریکا کے بجائے ورلڈ کپ کے دوسرے شریک میزبان ملک ’میکسیکو‘ میں کروائے جائیں تاہم فیفا نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ ایران ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ابتدائی ٹیموں میں شامل ہے۔ شیڈول کے مطابق ایرانی ٹیم کے گروپ اسٹیج کے تمام میچز امریکا کے مغربی ساحل پر کھیلے جائیں گے۔

ایران کا پہلا میچ 15 جون کو نیوزی لینڈ اور 21 جون کو بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس میں شیڈول ہے جب کہ 26 جون کو اس کا مقابلہ مصر سے سیاٹل میں طے ہے۔ اگر ایرانی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرتی ہے، تو اس صورت میں بھی بقیہ تمام میچز امریکا ہی میں کھیلے جائیں گے۔

ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طاقت سے روکا جائے گا: سربراہ امریکی فوج

آبنائے ہرمز سے کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں، امریکی افواج ایک اشارے پر حملے کے لیے تیار ہے: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف
شائع 16 اپريل 2026 06:10pm

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ساحلی پٹی اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کررہے ہیں، سمندری ناکہ بندی ایران جانے والے تمام جہازوں کے لیے ہے، آبنائے ہرمز سے کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں، امریکی افواج ایک اشارے پر حملے کے لیے تیار ہے۔

واشنگٹن میں جمعرات کو نیوز بریفنگ کے دوران امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین  نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ان تمام جہازوں پر لاگو ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا وہاں سے نکل رہے ہیں اور ناکہ بندی کا نفاذ ایران کی علاقائی سمندری حدود کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پانیوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ تمام جہازوں پر لاگو ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ جنرل ڈین کین کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ایران کی مدد کرنے والے کسی بھی جہاز کا بھی تعاقب کیا جائے گا۔

جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے تاہم ابھی تک کسی جہاز کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، امریکی افواج ایک اشارے پر حملے کے لیے تیار ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے مزید کہا کہ بحری ناکہ بندی کا مقصد تیل کی سپلائی روکنا ہے، اب تک 13 جہازوں کو واپس بھیجا جاچکا ہے، ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات رک گئی ہیں۔

امریکا نے ایران پر بحری ناکہ بندی کا دائرہ بڑھا دیا

دوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایسے تمام جہازوں کو بھی شامل کرلیا ہے، جن پر ممنوعہ سامان کی ترسیل کا شبہ ہو، امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران جانے والے مشتبہ جہازوں کی تلاشی لی جائے گی اور قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق ایسے جہاز “بیلیجرنٹ رائٹ ٹو وزٹ اینڈ سرچ” کے تحت آئیں گے، جس کے تحت امریکی افواج کو انہیں روکنے اور جانچنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ ممنوعہ سامان میں اسلحہ، اسلحہ کے نظام، گولہ بارود، جوہری مواد، خام اور ریفائنڈ تیل، آئرن، اسٹیل اور ایلومینیم شامل ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران پر بحری ناکہ بندی نافذ کرچکا ہے، اور اب اس کے دائرہ کار کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔