امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے کے پیچھے ایران کی کیا حکمتِ عملی ہے؟
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے جاری کوششوں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنے اور اندرونی حالات کو مستحکم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک عبوری معاہدے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کا بنیادی مقصد جوہری پروگرام پر کسی حتمی اور بڑی رعایت سے گریز کرتے ہوئے وقت حاصل کرنا، مالی ریلیف کا حصول یقینی بنانا اور درپیش معاشی خطرات پر فوری قابو پانا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقتی طور پر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے کسی بھی ناقابلِ واپسی فیصلوں سے گریز اور اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر مذاکرات کو زندہ رکھا جائے۔
ایرانی حکام اس محدود معاہدے کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے متنازع ترین مسائل کو چھیڑے بغیر بھی مالی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی کوشش یہ ہے کہ فی الحال ایک ’عارضی معاہدہ‘ ہو جائے جس کے ذریعے اسے معاشی پابندیوں میں کچھ نرمی ملے، برآمدات کے راستے کھل جائیں اور فوری مالی مشکلات میں کمی آسکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالیہ دنوں میں فریقین کے درمیان دوبارہ جھڑپوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کی اس ابتدائی معاہدے میں دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ قلیل مدتی مالی فوائد کا حصول ہے۔ رواں سال جنوری میں معاشی مسائل کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔
فوری مالی ریلیف سے ایرانی حکومت کو معیشت کا پہیہ چلانے اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کی امید ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ عارضی معاہدے کے ذریعے وہ اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو روکے بغیر عسکری اور معاشی دباؤ کو کم کرے، تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جاری جنگ کا خاتمہ ہو، اسے اربوں ڈالر کی تیل کی آمدنی تک رسائی ملے، خام تیل کی برآمدات پر چھوٹ دی جائے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے لیے آبنائے ہرمز سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔ تہران اسے صرف سفارتی سودے بازی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مستقل طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی عارضی معاہدے کے تحت اگر بحری تجارت بحال بھی ہو جائے تو ایران اس راستے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عارضی معاہدہ نہ صرف ایران کا معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ نظامِ حکومت کی مجموعی بقا اور استحکام کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ وقتی نوعیت کا ہو گا، ایران اور امریکا کے درمیان اصل اختلافات خصوصاً جوہری پروگرام کا معاملہ پھر بھی اہم ترین اور حل طلب ہی رہے گا۔















