گلگت بلتستان انتخابات: کون سے عوامل نتائج پر اثر انداز ہوں گے؟

ان انتخابات میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، نوجوانوں کے لیے روزگار، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی اور سی پیک جیسے منصوبے ووٹرز کے لیے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں.
اپ ڈیٹ 07 جون 2026 08:46am

گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے چار ماہ کی تاخیر کے بعد سات جون کی تاریخ مقرر کیے جانے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے گلگت میں ڈیرے ڈال دیے ہیں.

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں، جو کل امیدواروں کا تقریباً دو تہائی حصہ بنتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سب سے آگے ہے جس نے 23 امیدوار نامزد کیے ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 22 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی 15 امیدواروں کے ساتھ تیسرے نمبر پر، پاکستان مسلم لیگ 11 امیدواروں کے ساتھ چوتھے نمبر پر، جبکہ اسلامی تحریک پاکستان اور پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10، 10 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے نو، مجلس وحدت المسلمین کے سات، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے چھ، چھ جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے چار امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ، تحریک تحفظ پاکستان پارٹی جی بی، پاکستان مسلم لیگ (ق)، سنی اتحاد کونسل اور تحریک لبیک پاکستان نے ایک، ایک امیدوار نامزد کیا ہے۔

دوسری جانب آل پاکستان مسلم لیگ، پاکستان راہِ حق پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (کوثر گروپ)، پاکستان عام آدمی موومنٹ، جی بی ڈیموکریٹک پارٹی اور پاکستان عوامی لیگ کوئی امیدوار میدان مں نہیں لا سکیں۔

خواتین امیدواروں کی تعداد مجموعی طور پر آٹھ ہے، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان نیشنل پارٹی کی ایک، ایک خاتون امیدوار شامل ہیں، جبکہ پانچ خواتین آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

سال 2009 میں پہلی بار یہاں باقاعدہ انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی اور مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے. اس کے بعد 2015 میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی اور حافظ حفیظ الرحمان وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جبکہ 2020 کے تیسرے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی اور خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے.

تاہم، جولائی 2023 میں گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالت نے خالد خورشید کو نااہل قرار دے دیا۔ جس کے بعد تحریک انصاف کے ناراض دھڑے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے مل کر ایک مخلوط حکومت بنائی، جس نے حاجی گلبر خان کو نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا۔ 24 نومبر 2025 کو اسمبلی کی پانچ سالہ مدت پوری ہوئی۔

اس کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور چیئرمین گلگت بلتستان کونسل، ”گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48-A(2)“ کے تحت اسی دن ریٹائرڈ جسٹس یار محمد کو گلگت بلتستان کا نگران وزیراعلیٰ مقرر کر دیا۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے مطابق، اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد 60 دنوں کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے۔ 12 دسمبر کو صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے لیے 24 جنوری کو پولنگ کا دن مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدارتی حکم کے بعد چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اور طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بلدیاتی انتخابات دونوں کا شیڈول جاری کیا۔

18 دسمبر کو متعدد سیاسی جماعتوں کے اجلاسوں اور پارٹی سربراہان کی اکثریتی رائے کے بعد، چیف الیکشن کمشنر نے شدید موسم کی وجہ سے انتخابات ملتوی کر دیے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ دونوں انتخابات کے لیے پولنگ کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دونوں انتخابات کا شیڈول ”مئی کے آخری ہفتے یا جون کے اوائل“ کے لیے جاری کیا جائے گا، جب موسم معمول پر آ جائے گا۔

اب چونکہ انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے اور تیاریاں بھی زور شور سے جاری ہیں تو موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ سوال عام ہے کہ اس بار کس کا پلڑا بھاری رہے گا. تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بار بظاہر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے زور و شور سے مہم شروع کی ہے اور سب سے زیادہ امیدوار بھی انہی دونوں جماعتوں نے کھڑے کیے ہیں.

پیپلز پارٹی نے تمام 24 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر کے سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن 22 حلقوں میں اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہے اور دو حلقوں میں اس نے دوسری جماعتوں سے اتحاد کیا ہے.

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انتخابی مہم میں دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گلگت پہنچے تو انہیں ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے گلگت سے باہر یہ کہہ کر کردیا گیا کہ انہوں نے انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔

اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان بھی جاری نہیں ہوا اور ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔

پہلی بار استحکامِ پاکستان پارٹی بھی گلگت بلتستان میں سرگرم نظر آ رہی ہے اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے.

بظاہر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مقابلہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں شخصی ووٹ بھی اثر انداز ہوں گے، جس سے استحکام پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے.

گلگت بلتستان کے انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کی سیاست یہاں پر گہرا اثر ڈالتی ہے. تاریخ بتاتی ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے اور جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے، ماضی میں اسی جماعت کو انتخابات میں کامیابی ملی ہے، گزشتہ تین انتخابات میں یہی دیکھنے کو ملا اور اس بار بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے.

یوں اس بار ن لیگ کو فائدہ پہنچتا نظر آرہا ہے کیونکہ مرکز میں اس کی حکومت ہے. تاہم، کچھ حلقوں، جیسے استور سے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ امیدوار ہیں، جس سے ہمدردی کے ووٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں.

سیاسی وابستگیوں کے علاوہ مقامی سطح پر برادری اور رشتہ داری کا نظام بھی جیت اور ہار کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. گلگت بلتستان میں انتخابات باقی ملک کی نسبت ذرا مختلف ہوتے ہیں، یہاں رشتہ داری، برادری، مذہب اور علاقائیت کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پارٹیوں کا ووٹ بینک بھی موجود ہے.

ان انتخابات میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، نوجوانوں کے لیے روزگار، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی اور سی پیک جیسے منصوبے ووٹرز کے لیے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں.