آزاد کشمیر کے نوجوان کی گرفتاری: پاکستان نے معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھا دیا

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی وزارت خارجہ سے ذیشان میر تک قونصلر رسائی کی درخواست کردی۔
شائع 01 جون 2026 04:45pm

آزاد کشمیر کے نوجوان ذیشان میر کی بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے معاملے پر پاکستان نے باضابطہ طور پر بھارت سے رابطہ کر لیا ہے جب کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی وزارت خارجہ سے معاملہ اٹھاتے ہوئے گرفتاری کی تصدیق اور ذیشان میر تک قونصلر رسائی کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والا نوجوان ذیشان میر محبت کے باعث مقبوضہ کشمیر کے علاقے اُڑی پہنچ گیا تھا، جہاں اسے بھارتی فوج نے حراست میں لے لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ذیشان میر کی گرفتاری کے بعد پاکستان نے معاملے کو سفارتی سطح پر بھارت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی وزارت خارجہ سے رابطہ کرتے ہوئے ذیشان میر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق طلب کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی حکام سے درخواست کی ہے کہ ذیشان میر تک قونصلر رسائی فراہم کی جائے تاکہ اس کی صورت حال اور قانونی معاملات سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اس معاملے کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارتی حکام سے مزید تفصیلات کے حصول کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔

قبل ازیں پاکستانی نوجوان نے سوشل میڈیا پر ہونے والی محبت کی خاطر آزاد اور مقبوضہ کشمیر کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرلی، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب اڑی سیکٹر کے سلیکوٹ علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کے پار سے ایک نوجوان کو اپنی طرف آتے دیکھا، جسے مقبوضۃ کشمیر کی حدود میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی تفتیش کے دوران اس نوجوان نے اپنی شناخت ذیشان احمد میر ولد لال دین میر بتائی، جو مظفرآباد کے علاقے پائن کڈی کا رہائشی ہے، اور اس کے پاس سے ملنے والے پاکستانی شناختی کارڈ سے بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

نوجوان نے اڑی سیکٹر جیسے دنیا کے حساس ترین اور سخت پہرے والے سرحدی علاقے کو پار کرنے کی جو وجہ بتائی، اس نے سب کو حیران کر دیا۔

ذیشان نے بھارتی تفتیشی حکام کو بتایا کہ اس نے یہ خطرناک قدم اڑی کی رہنے والی اپنی محبوبہ ارم بانو سے ملنے کے لیے اٹھایا۔

ذیشان کے بیان کے مطابق، ان دونوں کی پہلی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل رابطے میں رہے اور اسی آن لائن دوستی کے بعد اس نے سرحد پار کرنے کا فیصلہ کیا۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ذیشان اور ارم بانو دونوں سے مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان کے دعوؤں کی حقیقت کا پتہ لگایا جا سکے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، ایجنسیاں اس وقت دونوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل پیغامات کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھا جا سکے۔