ٹرمپ کے مسلسل بدلتے پینترے، اپنے ہی بیانات سے مکرنے کا رجحان

.
شائع 02 جون 2026 03:44pm

واشنگٹن سے ایران جنگ کے بارے میں آنے والی خبریں روزانہ اکتا دینے کی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل طے شدہ معیارات (اہداف) کو بھی تبدیل کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور نئے الفاظ کے گورکھ دھندے کے ساتھ ان مطالبات کو بار بار دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ چکے تھے اور اس تمام لیت و لعل کے ساتھ مزید فوجی جارحیت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی منطقی انجام کے بغیر ٹرمپ کے نئے اور پرانے مطالبات کے روزمرہ کے مینو پر بھروسہ کرنے میں حق بجانب طور پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

اس کی بنیادی وجہ صرف ٹرمپ کی ذاتی انفرادی خصلتیں ہی نہیں ہو سکتیں بلکہ درحقیقت جنگ کے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقاصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی ناکامی ہے، جن میں سب سے اہم مقصد وہاں کی حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) تھا۔قدرتی طور پر یہ بات ایرانی عوام کو اس فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت (امریکہ) اور سب سے زیادہ جارح مزاج طاقت (اسرائیل) کا مقابلہ کیا اور دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھا۔

31 مئی 2026ء کو ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بڑے پیمانے پر طے شدہ معاہدہ قرار دیا تھا، یہ اقدام بظاہر اس ڈیل کو ”مزید سخت“ بنانے کے لیے تھا، اس کے جواب میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک بیان دیا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور الفاظ اور وعدوں کے بجائے ٹھوس نتائج کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہمارا واحد معیار یہ ہے کہ ہم بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے پہلے ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ انہوں نے مزید اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

سی این این نے رپورٹ کیا کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں کے گرد مزید سخت زبان استعمال کرنے پر اصرار کیا (جبکہ ایران کئی دہائیوں سے مسلسل اس بات کی توثیق کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا) اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اس کے عزم پر بھی زور دیا (ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگی ہرجانے کے اپنے مطالبے کی تکمیل تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر عارضی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے)۔

جبکہ ایران پر ٹرمپ کی یہ مسخرہ بازی جاری ہے، لگتا ہے کہ اسرائیل کو اس کی حزب اللہ مخالف مہم کے حصے کے طور پر جنوبی لبنانی علاقے میں اپنی جارحیت جاری رکھنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات یاد دلانے کے قابل ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جنگ کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ لازمی ہے۔

مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور الاقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیزیاں، یہ سب اب اسرائیل کی جانی پہچانی توسیع پسندانہ عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا کر 70 فیصد تک کر دے۔ غزہ جنگ بندی کا تو بس یہ حال ہے۔ دوسری طرف غزہ کے لیے ٹرمپ کا بہت زیادہ چرچا ہونے والا بورڈ آف پیس جسے غزہ کو میڈیٹیرین ریویرا (بحیرہ روم کا تفریحی ساحل) میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اس کا فنڈز کا برتن بالکل خالی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی عجیب و غریب اسکیمیں جو بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ان کی اس دیوانی صدارت کا خاصہ ہیں۔

ٹرمپ کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی اس افراتفری کے نتیجے میں دنیا تیل کی سپلائی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت میں عدم استحکام کی وجہ سے لرز رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی اس دیوانہ وار مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔

جنوبی لبنان میں ایک تاریخی قلعے بیوفورٹ یا قلعت الشقیف پر اسرائیل کا قبضہ سنہ 2000ء میں اس ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا اعادہ ہے۔ فرانس اب یہ محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی اس پیش قدمی اور قلعے پر قبضے کی مذمت محض زبانی جمع خرچ ہی رہی، جس کا کوئی ٹھوس اثر نہیں ہوا۔ اس میں سے کوئی بھی چیز اسرائیل کے خونی ہاتھ روکنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کے خلاف ماضی میں احتجاج کی جو لہریں اٹھی تھیں اب ایسا لگتا ہے کہ وہ سب سسکیاں بھرتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔

آج دنیا کو مظلوم فلسطینیوں اور ان کے لبنانی مجاہد بھائیوں کی بقا کی خاطر اسرائیلی توسیع پسندی اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے آگے ایک ایسی مضبوط دیوار بننے کی ضرورت ہے جیسی یکجہتی ماضی میں ویتنام جنگ اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف دیکھی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اب بھی بیدار ہوگی یا پھر بین الاقوامی یکجہتی کا سنہری دور ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکا ہے؟


نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔