مہنگائی بدستور عوام کا سب سے حساس مسئلہ

.
شائع 21 جولائ 2026 02:11pm

ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے مطابق مئی 2026 میں صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد رہی، جو اپریل 2026 کی 10.9 فیصد شرح سے 0.8 فیصد پوائنٹ زیادہ اور جون کی شرح سے 0.6 فیصد پوائنٹ بلند تھی۔ ماہرینِ معاشیات مئی میں اس اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران قرار دیتے ہیں، جس کے باعث تیل، جیٹ ایندھن، کھاد اور ہیلیم سمیت اہم معدنیات کی رسد شدید متاثر ہوئی۔ ہیلیم کمپیوٹر چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک اہم جزو ہے۔

پاکستان کے اعدادوشمار کی ساکھ، بالخصوص مہنگائی سے متعلق اعدادوشمار، پر 2024 میں اس وقت سوالات اٹھے جب آئی ایم ایف نے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری کے موقع پر نشاندہی کی کہ ”مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ حکومتی مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔ حکومت فنڈ کی تکنیکی معاونت کے ذریعے جی ایف ایس اور نئے پیداواری قیمت اشاریے (پی پی آئی) سے متعلق ان کمزوریوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔“

پی پی آئی ایک اہم معاشی اشاریہ ہے، جو ملک میں تیار ہونے والی اشیا اور خدمات کی فیکٹری گیٹ (کارخانے سے فروخت) کی سطح پر قیمتوں میں وقت کے ساتھ آنے والی اوسط تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں نقل و حمل کے اخراجات اور ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔ فنڈ نے ادارۂ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے تجویز کردہ پی پی آئی کے طریقۂ کار میں مزید ترامیم کی سفارش کی تاکہ اسے زیادہ معتبر اور مستند بنایا جا سکے۔ اسی وجہ سے اس ضمن میں فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کی مدت، جو جون کے آخر میں مکمل ہونا تھی، بڑھا کر رواں سال اکتوبر تک کر دی گئی۔

ادارۂ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے ایک عہدیدار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جدید پیداواری قیمت اشاریہ (پی پی آئی) حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد دے گا کہ پیداواری لاگت اور آخری صارف تک پہنچنے والی قیمت میں غیرمعمولی فرق یا اچانک اضافے یا کمی کی صورت میں آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کا کردار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیا پی پی آئی تجارتی اور نقل و حمل کے مارجن کی نگرانی کے ذریعے آڑھتیوں کے کردار کا بھی سراغ لگانے میں مدد دے گا، کیونکہ پاکستان میں زرعی پیداوار کو منڈی تک پہنچانے میں درمیانی واسطہ رکھنے والے افراد کا کردار انتہائی اہم ہے۔

تشویشناک طور پر عہدیدار نے اعتراف کیا کہ زرعی شعبے کے حوالے سے اب تک نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ بن چکی ہے اور صوبوں کے کراپ رپورٹنگ سروسز کے اداروں میں پی پی آئی کی ضروریات پوری کرنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں۔

اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) کی تیاری میں خوراک اور غیرالکحل مشروبات کو دیا گیا 34.58 فیصد وزن (جس میں جلد خراب ہونے والی اشیا کا حصہ 29.60 فیصد ہے) اور پی پی آئی کے حساب کے طریقہ کار میں مستقبل میں نظرثانی کی جا سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کی استعداد کار میں اضافے پر ہوگا۔

مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ زرعی پیداوار کے تخمیناً 80 فیصد حصے پر آڑھتیوں کی گرفت اور قیمتوں پر ان کا اثر اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہیں کیا جاتا۔

صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں دوسرا سب سے زیادہ وزن رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے شعبے کو دیا گیا ہے، جو 23.63 فیصد بنتا ہے۔ رہائش کے حصے کو، جو غالباً مجموعی وزن کا ڈیڑھ فیصد سے بھی کم ہوگا، چھوڑ کر باقی تمام مدیں آئی ایم ایف کی اس شرط کے تابع ہیں جس کے تحت خدمات کی مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنانا لازم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اس عمل کو نسبتاً نرم انداز میں ”انتظامی اقدامات“ قرار دیتا ہے، جس سے مراد لاگت بڑھنے کی صورت میں یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کرنا ہے، خواہ اس کی وجہ درآمدی ایندھن کی مہنگائی ہو یا شعبے کی اپنی نااہلی اور غیر مؤثر کارکردگی۔

توانائی کے شعبے سے متعلق یہ اقدامات بنیادی طور پر گردشی قرضے میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں، جو اس شعبے کی انتہائی کمزور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی کمزوری کے باعث حکومت کو یا تو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سبسڈی دینا پڑتی ہے یا پھر مارکیٹ سے قرض لینا پڑتا ہے۔ رواں سال حکومت نے 1.25 کھرب روپے قرض حاصل کیا، جس پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی صارفین پر منتقل کیا جانا تھا۔

یوں سی پی آئی کا 58 فیصد سے زیادہ وزن ایسی اشیا اور خدمات پر مشتمل ہے جو ایس بی پی کے براہِ راست دائرۂ اثر سے باہر ہیں، جبکہ توانائی کے شعبے کی بڑی پیداواری لاگت نہ صرف بین الاقوامی قیمتوں بلکہ روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ سے بھی وابستہ ہے، جس کے باعث پاکستان میں توانائی کی قیمتیں خطے کے دیگر حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

ایسی صورتِ حال میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی مہنگائی میں کمی کی بنیادی ذمہ داری ایس بی پی پر ڈالتا ہے اور اس مقصد کے لیے پالیسی ریٹ میں ردوبدل کو مؤثر ذریعہ قرار دیتا ہے۔

مزید برآں، اگر اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ مقامی کمرشل بینکوں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کا تقریباً 75 فیصد حکومت کے ذمہ محفوظ ہوتا ہے، اور حکومت ان رقوم کا بڑا حصہ جاری اخراجات پر خرچ کرتی ہے، جو خود مہنگائی بڑھانے والی پالیسی ہے، تو پھر صرف پالیسی ریٹ کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی مزید غیر منطقی محسوس ہوتی ہے۔

صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں جنوری سے فروری کے دوران 1.92 فیصد اضافہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پہلے ہوا تھا اور اس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت طے پانے والی قیمتوں میں ردوبدل تھا۔ خاص طور پر بجلی اور گیس کے سرکاری نرخوں میں اضافہ، نیز پٹرولیم لیوی بڑھانے کے باعث نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ اس کی اہم وجوہات تھیں۔ پٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جس میں صوبوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال سے اب تک جاری ہونے والے تمام مانیٹری پالیسی بیانات (ایم پی ایس) میں درمیانی مدت کے لیے 5 سے 7 فیصد مہنگائی کے تخمینے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ہدف شاید آئی ایم ایف کی جانب سے طے کیا گیا ہے، اگرچہ اس سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی بھی کی جاتی رہی ہے۔

26 جنوری کے ایم پی ایس میں کہا گیا تھا کہ ”مجموعی طور پر کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 2026 اور 2027 میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستحکم رہے گی، اگرچہ رواں کیلنڈر سال کے دوران چند ماہ کے لیے یہ اس حد سے اوپر جا سکتی ہے۔“

اس کے بعد مارچ سے اپریل کے دوران سی پی آئی میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا، جس پر مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم 27 اپریل کے ایم پی ایس میں بھی کہا گیا کہ ”کمیٹی کے جائزے کے مطابق موجودہ رسدی جھٹکے کے باعث آئندہ چند ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسوں میں جا سکتی ہے، تاہم بعد ازاں اس میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 2027 کے بیشتر عرصے میں مہنگائی کے 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔“

نتیجتاً، حکومتیں سیاسی وجوہات کی بنا پر مہنگائی کے معاملے میں غیر معمولی حساس ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مہنگائی سے متعلق ایسے درست اور قابلِ اعتماد اعدادوشمار مرتب کیے جائیں جو عوامی تجربات سے ہم آہنگ ہوں اور حکومت کو مالیاتی، زری اور شعبہ جاتی پالیسیوں کے حوالے سے باخبر اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد دیں۔


نوٹ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔