پاکستان کے بیرونی معاشی استحکام کی حقیقت توقع سے زیادہ نازک
پاکستان نے مالی سال 2026ء کا اختتام بظاہر مضبوط بیرونی معاشی اشاریوں کے ساتھ کیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محض 139 ملین ڈالر رہا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ استحکام ابھی نازک بنیادوں پر قائم ہے اور بیرونی مالی معاونت، قرضوں کی ادائیگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔
پاکستان کا یہ ظاہری بیرونی سکون برآمدات میں کسی پائیدار اضافے یا پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مسابقت میں کسی نمایاں بہتری پر مبنی نہیں ہے۔ یہ تمام تر دارومدار بیرونِ ملک سے آنے والی ریکارڈ ترسیلاتِ زر (ریمنٹس) اور انٹربینک مارکیٹ سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی مسلسل خریداری پر ہے۔ اسی لیے اندرونی حساب کتاب اس قدر شاندار نہیں ہے جتنا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی سرخیوں سے دکھائی دیتا ہے۔مالی سال 2026ء میں، پاکستان کو اشیاء اور خدمات کی تجارت میں تقریباً 35.5 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس میں پرائمری انکم کا خسارہ بھی شامل کیا گیا (جو کہ زیادہ تر سود اور منافع کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے) تو یہ خسارہ بڑھ کر تقریباً 44 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس بڑے فرق کو سیکنڈری انکم کی صورت میں آنے والے 43.8 ارب ڈالر کے فنڈز نے پورا کیا، جس میں 41.6 ارب ڈالر سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے تھے۔ اس سال اشیاء کی برآمدات میں کمی جبکہ امپورٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ برآمدات کی بدولت ادائیگیوں کے توازن میں آنے والی کوئی بہتری نہیں تھی بلکہ یہ ترسیلاتِ زر کے سرمائے سے امپورٹ کی صلاحیت میں کیا جانے والا اضافہ تھا۔اسٹیٹ بینک اپنے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے انٹربینک مارکیٹ سے مستقل ڈالر خرید رہا ہے۔ پچھلے بحران کے دوران بیرونی ذخائر کے تقریباً ختم ہو جانے کے بعد یہ پالیسی سمجھ میں آتی ہے، لیکن ذخائر کے اس اکٹھا ہونے کو پاکستان کی بیرونی آمدنی کی صلاحیت میں کوئی قدرتی مضبوطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ مرکزی بینک دراصل غیر معمولی ترسیلاتِ زر سے پیدا ہونے والی کیش کی سہولت کو اپنے پاس محفوظ کرکے اسے سرکاری ذخائر میں تبدیل کر رہا ہے۔
یہ بنیادیں اب مزید کمزور ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی خطرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہتی ہے یا پھیلتی ہے تو ایسی صورت میں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سب سے فوری خطرہ ہیں۔ پاکستان پٹرولیم کی امپورٹ پر شدید انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کے تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے پاس سے گزرتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں، مال برداری کے کرایوں یا انشورنس کے اخراجات میں کوئی بھی مسلسل اضافہ براہِ راست امپورٹ بل، ملکی مہنگائی اور توانائی پر حکومتی اخراجات کو بڑھا دے گا۔ تاہم خطرات صرف تیل تک محدود نہیں ہیں۔پاکستان بیرونِ ملک مقیم اپنے کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔ یہ آمدنی تین سال پہلے کے تقریباً 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 41.6 ارب ڈالر ہو چکی ہے، یعنی 14 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہواہے۔ اسی عرصے کے دوران ڈالر کی شکل میں اشیاء کی برآمدات جمود کا شکار رہیں اور معیشت کے حجم کے لحاظ سے ان میں کمی آئی۔پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 54 فیصد حصہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آتا ہے۔ مالی سال 2026ء کے دوران سعودی عرب نے تقریباً 9.8 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات نے 8.8 ارب ڈالر اور دیگر خلیجی معیشتوں نے 3.9 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔ سعودی عرب کو نکال کر بھی سالانہ تقریباً 12.7 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر ان خلیجی ممالک سے آتی ہیں جو علاقائی تجارت، ہوا بازی، سیاحت، تعمیرات اور غیر ملکی ملازمتوں کے شعبے میں کسی بھی ممکنہ خرابی کی زد میں آ سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ تیل کی بلند قیمتیں خود بخود ترسیلاتِ زر کو کم کر دیتی ہیں۔ ماضی میں تیل کی اچھی آمدنی سے خلیجی ممالک میں روزگار، سرکاری اخراجات اور ترسیلاتِ زر کو سہارا ملتا رہا ہے لیکن موجودہ خطرہ مختلف ہے۔ ایک علاقائی تنازع جو تجارتی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ کے رابطوں، مالیاتی ذرائع یا غیر ملکی لیبر مارکیٹ کو متاثر کرے وہ تیل کی زیادہ قیمتوں سے ہونے والے فائدے کو دبا سکتا ہے۔اصل کمزوری ایک ہی جگہ پر انحصار میں ہے۔ پاکستان ملکی تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے چند غیر ملکی معیشتوں پر انحصار کر رہا ہے۔ غیر سعودی خلیجی ممالک کی ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد کمی بھی بیرونی اکاؤنٹ سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کم کر دے گی اور پاکستان کے پاس اس کی جگہ لینے کے لیے برآمدات کا کوئی متبادل انجن تیار نہیں ہے۔
توانائی کا طویل بحران پاکستان کی بڑی برآمدی مارکیٹوں میں ڈیمانڈ کو بھی کمزور کر دے گا۔ ایندھن کی زیادہ قیمتیں یورپ اور امریکہ میں سود کی شرح کم کرنے کے عمل کو مشکل بنا دیں گی، جس سے وہاں کے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی اور امپورٹڈ ٹیکسٹائل، ملبوسات اور تیار شدہ اشیاء کی طلب کم ہو جائے گی۔ یوں پاکستان کو ایک ہی وقت میں زیادہ امپورٹ بل، کم ترسیلاتِ زر اور برآمدات کی کم طلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی ایک جھٹکے کے بجائے یہ تمام عوامل کا ایک ساتھ جمع ہو جانا موجودہ صورتحال کو خطرناک بناتا ہے۔تاہم داخلی معاشی پالیسی بالکل غلط سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کے بار بار دعووں کے باوجود پاکستان نے برآمدات کے شعبے کو بتدریج غیر پرکشش بنا دیا ہے۔ اشیاء کی برآمدات مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کے تقریباً 8.5 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026ء میں تقریباً 6.8 فیصد رہ گئی ہیں۔ برآمد کنندگان کو اب نارمل کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس اور ماضی کی کئی مراعات کی واپسی کا سامنا ہے، جبکہ وہ توانائی کے بھاری اخراجات، مہنگے قرضوں، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور ناقابلِ بھروسہ انفرااسٹرکچر کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ایکسچینج ریٹ (شرحِ مبادلہ) کی پالیسی بھی حد سے زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا جاری کردہ ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) جون میں تقریباً 106.4 تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کئی برسوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔ 100 سے اوپر آر ای ای آر کا ہونا خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ روپیہ بنیادی طور پر حد سے زیادہ مہنگا ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔برآمدات بڑھانے کی حکمتِ عملی کے ساتھ اس سمت کا میل بیٹھنا مشکل ہے، خاص طور پر جب برآمد کنندگان پہلے ہی کم منافع اور بڑھتے ہوئے ملکی اخراجات کا سامنا کر رہے ہوں۔ پاکستان برآمدات پر مبنی معیشت کے نتائج تو چاہتا ہے لیکن ان قیمتوں، مراعات یا پالیسی کے ڈسپلن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو ایسی معیشت بنانے کے لیے درکار ہیں۔اس کے برعکس انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور بزنس سروسز کے شعبے کی صورتحال کافی واضح ہے۔ ان سرگرمیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ترجیحی ٹیکس، آسان ادائیگی کے انتظامات اور نرم ریگولیٹری ڈھانچہ ہے۔ جہاں مراعات برآمدی ترقی کے موافق ہوتی ہیں وہاں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمدنی مثبت ردِعمل دیتی ہے۔
اصل مسئلہ حجم کا ہے۔ خدمات (سروسز) کی برآمدات مالی سال 2026ء میں بڑھ کر تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن یہ اشیاء کی تجارت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے اب بھی ناکافی ہیں۔ پاکستان صرف سافٹ ویئر کی برآمدات کے ذریعے 33 ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ پورا نہیں کر سکتا، خصوصاً اس وقت جب زراعت، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کی مسابقت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو۔امپورٹ میں ہونے والی بحالی کی نوعیت بھی اتنی ہی تشویشناک ہے۔ غیر تیل امپورٹ بحران کے بعد کی نچلی سطح سے تیزی سے اوپر آئی ہے اور اب اپنی پرانی بلندی کے قریب پہنچ رہی ہے، حالانکہ معاشی ترقی کی شرح اب بھی 4 فیصد سے کم ہے۔اس بحالی کا کم از کم ایک بڑا حصہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے عام استعمال کی اشیاء پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ گاڑیوں کے اسیمبلنگ پارٹس کی امپورٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے حالانکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری اب بھی اپنی پرانی بلندی سے کم ہے، جو مہنگی گاڑیوں اور امپورٹڈ سامان کی طرف رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح کے رجحانات اسمارٹ فونز اور دیگر صارفین کی اشیاء میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ملکی پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں استعمال کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ وہ صورتحال ہے جس کا پاکستان کو ماضی کے بیرونی شعبے کے بحرانوں سے پہلے بار بار سامنا کرنا پڑا ہے۔اگر بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو پالیسی ساز ایک بار پھر نام نہاد غیر ضروری امپورٹ پر انتظامی پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ پاکستان یہ تجربہ پہلے بھی کر چکا ہے۔ یہ صنعتی پیداوار کو دباتا ہے، اشیاء کی قلت پیدا کرتا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور برآمدی آمدنی کی بنیادی کمی کو حل کیے بغیر عارضی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ کو تو قابو کر لیتا ہے لیکن مستقل حل فراہم نہیں کرتا۔طویل مدتی بنیادی عوامل بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہیں۔ میکرو اکنامک استحکام کی سرخیوں کے باوجود سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر کمزور ہے۔ مالی سال 2026ء میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) گر کر تقریباً 1.6 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ ملکی بچت ملک کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ مائننگ (کان کنی) کے شعبے میں مواقع کا بہت چرچا کیا گیا لیکن وہ اب بھی بڑے پیمانے پر سرمائے کی آمد میں تبدیل نہیں ہو سکا، جس کی ایک وجہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال ہے جو منصوبوں کی لاگت بڑھاتی اور سرمایہ کاروں کو دور رکھتی ہے۔یورپی مارکیٹوں تک پاکستان کی رسائی کے حوالے سے خود پالیسی سازوں کا پیدا کردہ ایک خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کے حالیہ جائزے میں ایک بار پھر شہری آزادیوں، میڈیا کی آزادی، جبری گمشدگیوں اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستان کی جی ایس پی پلس مراعات کو فوری طور پر ختم کیے جانے کا خطرہ تو نہیں، لیکن یہ قریبی جانچ پڑتال اس معیشت کے لیے ایک اور غیر ضروری خطرہ پیدا کرتی ہے جس کی برآمدات پہلے ہی یورپی مارکیٹ میں حد سے زیادہ مرکوز ہے۔چنانچہ پاکستان کے حالیہ بیرونی استحکام کو ایک مستقل تبدیلی کے بجائے صرف چند دن کی مہلت سمجھا جانا چاہیے۔ حالیہ اعداد و شمار اس فرق کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء اور 2026ء کو ملا کر دیکھا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہا۔ پاکستان نے کوئی بڑا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جمع نہیں کیا۔ اس نے ایک بڑے تجارتی خسارے کے دوران ترسیلاتِ زر اور سرکاری ذخائر جمع کیے۔یہ ذخائر قیمتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور متوازن کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی معیشت کی بنیادی مضبوطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اشیاء کی مضبوط برآمدات، زیادہ سرمایہ کاری اور ایک مسابقتی پیداواری معیشت کے بغیر پاکستان اب بھی تارکینِ وطن کارکنوں، مرکزی بینک کی مداخلت اور سازگار بیرونی حالات پر منحصر رہے گا۔ اگر عالمی جغرافیائی ماحول معمولی سا بھی ناموافق ہوا تو یہ ظاہری استحکام سرخیاں بنانے والے اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے غائب ہو سکتا ہے۔لہٰذا مالی سال 2027ء کے لیے معیشت کا اصل چیلنج صرف یہ نہیں ہے کہ کیا پاکستان 4 فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کر سکتا ہے بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ملک غیر ملکی زرِ مبادلہ کو دوبارہ ختم کیے بغیر اس ترقی کو برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

















