ایرانی شہر پردیس میں زیرِ زمین ملٹری تنصیبات پر بمباری، ایرانی حملے میں 7 اسرائیلی زخمی

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں مبینہ طور پر دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے۔
شائع 03 مارچ 2026 07:16pm

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی دارالحکومت تہران کے قریب واقع شہر پردیس پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا، جس میں زیر زمین فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے تہران میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ فوری طور پر نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں مبینہ طور پر دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ مقامات ایسے گروہوں کے تھے جو ایران میں دراندازی اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم عراقی کرد حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسی دوران ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے وسطی علاقوں میں بھی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملوں میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے۔

یہ حملے بنی براک، جو تل ابیب کے مشرق میں واقع ہے، اور روش ہاعین کے علاقے میں ہوئے۔

عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا کہ میزائلوں اور ان کے ٹکڑوں سے عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل وسطی اسرائیل میں گرے ہیں اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں ہنگامی امدادی عملے کے ساتھ متاثرہ مقامات پر کام کر رہی ہیں۔ فوج کے مطابق حملوں کی نوعیت اور اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔