جنگ کا چھٹا روز: ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 1230 افراد شہید
ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہیں، اسپتالوں اور اسکولوں سمیت مختلف اہداف پر حملوں میں اب تک 1230 افراد شہید ہوگئے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں اور تہران سمیت ملک کے کئی شہروں میں بڑی مقدار میں دھماکوں اور فضائی بمباری کی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی افواج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں سیکیورٹی مراکز، میزائل سائٹس اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں عمارات کو نقصان پہنچا ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے متعدد علاقوں میں دھماکوں اور تباہ کاری کی ویڈیوز بھی نشر کی ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں ہلاک شدگان کی تعداد کم از کم 1,230 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ مختلف شہروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
اس دوران امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ قرارداد کا مقصد ایران پر حملے روکنا اور کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینا تھا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی امریکا اور اسرائیل کے خلاف جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں دس سے زائد ڈرون تباہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اسی تناظر میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن ایران پر رجیم چینج کی کوشش کرے گا تو وہ بڑے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل پر ایرانی حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں 6 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں حملوں سے 3 افراد جب کہ بحرین میں میزائل مار گرانے پر صنعتی علاقے میں آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔
اس کے علاوہ کویت میں ایرانی حملوں سے 2 کویتی فوجیوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ عرب میڈیا کے مطابق عمان کی بندرگاہ پر ٹینکر پر پروجیکٹائل حملے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔
خطے میں جنگ کے اثرات عالمی توانائی منڈی پر بھی شدت سے محسوس ہو رہے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے نزدیک عدم تحفظ کے باعث عالم گیر تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کی فراہمی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اس کے علاوہ فضائی حدود میں بندش کے باعث مختلف ملکوں بشمول پاکستان سے بھی متعدد پروازیں منسوخ ہیں۔ تناؤ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ، عالمی برادری میں خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ یہ تصادم مزید پھیل سکتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔













