جنگ کا ساتواں روز: امریکا کی ایران پر تباہ کن بمباری: بیلسٹک میزائل کے ذخیرے، 30 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

100مختلف اہداف میں بیلسٹک میزائل کے ذخائر، لانچرز اور بحری تنصیبات شامل ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ
شائع 06 مارچ 2026 08:56am

امریکا نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے 200 اہداف پر حملے کر کے بیلسٹک میزائل کے ذخیرے اور 30 سے زائد بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ بہتر گھنٹوں کے دوران ایران میں تقریباً دو سو مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں بیلسٹک میزائل کے ذخائر، لانچرز اور بحری تنصیبات شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ایران کے تیس سے زائد بحری جہاز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کاپر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان حملوں میں بی ٹو بمبار طیاروں کو استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق ان طیاروں نے درجنوں بنکر بسٹر بم گرائے، جو خاص طور پر زمین کے اندر گہرائی میں موجود مضبوط تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے ذریعے زیر زمین نصب ایرانی بیلسٹک میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایڈمرل بریڈ کاپر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے آغاز کے بعد ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے دن کے بعد سے ایران کی جانب سے ہونے والے بیلسٹک میزائل حملوں میں تقریباً نوے فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ڈرون حملوں میں بھی تقریباً چھیاسی فیصد کمی آئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ فوجی کارروائی اب اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نشانہ بنانے پر توجہ دی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس کی عسکری صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔

امریکی وزیر دفاع نے بھی اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کی میزائل پیداوار کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ اب تک کی کارروائیوں کے دوران ایران کے تیس سے زائد بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور متعدد دیگر فوجی اہداف کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق یا تفصیل سامنے نہیں آئی۔

امریکی حکام کے مطابق موجودہ فوجی مہم کچھ عرصہ جاری رہ سکتی ہے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ کارروائیاں ایک سے دو ماہ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔