ایران پر حملہ؛ امریکا کو پہلے 100 گھنٹوں میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا: رپورٹ

ایران کے خلاف جنگ امریکا کو یومیہ اوسطاً تقریباً 2 کھرب 47 ارب روپے کی پڑ رہی ہے۔
شائع 06 مارچ 2026 01:34pm

امریکی تھنک ٹینک مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے یومیہ لاکھوں ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں، جس میں اسلحہ، دفاعی نظام اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل مدتی جنگ امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران پر جاری حملوں کے صرف پہلے 100 گھنٹے ہی امریکا کو بہت مہنگے پڑے اور اس پر تقریباً 3 اعشاریہ 7 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

یہ رقم تقریباً 10 کھرب 28 ارب روپے بنتی ہے جو پاکستان کے سالانہ دفاعی بجٹ (تقریباً 21 کھرب) کا تقریباً آدھا حصہ ہے جو امریکا نے صرف 100 گھنٹوں یعنی چار روز میں جنگ کی نذر کر ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں امریکا کے یومیہ اوسطاً 891.4 ملین ڈالر اخراجات آرہے ہیں، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 2 کھرب 47 ارب 80 کروڑ روپے بنتی ہے۔

سی ایس آئی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی ایران پر جنگ کی ابتدائی فضائی اور زمینی کارروائیوں پر کافی زیادہ لاگت آئی، جس میں جدید اور سادہ اسلحہ شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر ابتدائی فضائی حملوں میں لاگت زیادہ آئی کیوں کہ اس میں جدید ہتھیاروں کا استعمال ضروری تھا تاہم وقت کے ساتھ امریکی فوج کم قیمت والے ہتھیاروں کی طرف منتقل ہو جائے گی جس سے اخراجات میں کمی آئے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہی تو امریکی محکمہ دفاع کو اضافی فنڈز کی ضرورت پڑے گی کیوں کہ موجودہ بجٹ میں جنگ کے مکمل اخراجات شامل نہیں ہیں۔

سی ایس آئی ایس کے مطابق بجٹ میں کمی کے ذریعے جنگ کی مالی معاونت کرنا سیاسی اور عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ جنگ اسی شدت سے جاری رہی تو امریکا کے مجموعی فوجی اخراجات 40 ارب سے 95 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔