سعودی ساحل کے قریب ایران کا بحری جہاز پر حملہ، پاسدارانِ انقلاب کا کئی جدید ڈرونز گرانے کا دعویٰ

تل ابیب میں دھماکے، اسرائیلیوں کی دوڑیں لگ گئیں
شائع 07 مارچ 2026 07:24pm

ایران اسرائیل جنگ کے دوران خلیج میں ایک اور بحری جہاز پر حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے ’یو کے ایم ٹی او‘ کے مطابق سعودی عرب کے شہر جبیل کے شمال میں تقریباً دس ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک بحری جہاز پر حملے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

ادارے کے مطابق یہ اطلاع تیسرے فریق کی جانب سے دی گئی اور واقعے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

اس اطلاع کے سامنے آنے سے کچھ ہی دیر قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خلیج میں مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے تلے چلنے والے آئل ٹینکر لوئیس پی کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ جہاز سعودی عرب کے ساحلی علاقے جبیل کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب اسرائیل میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ تل ابیب میں ایک بار پھر زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد شہر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق خطرے کے سائرن بجنے کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جاری کشیدگی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 82 ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہی 13 جدید ڈرون تباہ کیے گئے۔

ایرانی فوج کے مطابق گرائے جانے والے ڈرونز میں ایم کیو 9، ہرمیس اور آربیٹر جیسے ماڈلز شامل ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کو مشترکہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔