حکومت ڈھٹائی سے منافع خوری پر اتر آئی
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جسے بعض حلقے عوام پر مزید مالی بوجھ قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے برعکس فیصلے اور لیوی میں اضافہ عوام اور معیشت پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔
دکان دار، تاجر اور ٹرانسپورٹرز کی تو کوئی اوقات ہی نہیں رہی، ہمارا تو حکومت پاکستان کو جھک کر سو سو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے کہ پرانی قیمت پر خریدے گئے پٹرول کو نئی قیمت پر بیچنا شروع کردیا اور وہ بھی بھاری منافع پر۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ عوام کا بے انتہا خیال ہے، کہیں وہ پریشان نہ ہوجائیں۔
پیٹرول کی قیمت بڑھانے سے پہلے وزیراعظم، نائب وزیراعظم تو بس رونے ہی والے تھے کہ عوام پر اور کتنا بوجھ ڈالیں۔ پیٹرول کی قیمت بڑھائی تو بڑھائی ساتھ میں لیوی بھی بڑھا دی، البتہ ڈیزل پر لیوی کم کی۔ وفاقی وزرا کی نیوز کانفرنس کیا تھی، غلط اعداد وشمار کا گورکھ دھندا تھی۔ وفاقی وزیرپٹرولیم نے پٹرول 106اور ڈیزل 150 ڈالر فی بیرل ہونے کا بتایا حالانکہ گزشتہ روز فی بیرل ریٹ 93 سے 94 ڈالر کے درمیان تھے۔
یہ سوال تو جائز بنتا ہے کہ جو پیٹرول ذخیرہ تھا، اس کی قیمت کیونکر بڑھائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت نے اعداد و شمار غلط کیوں پیش کیے؟ عوام کو کیا اتنا بے وقوف سمجھ رکھا ہے کہ اسے عالمی قیمت کا پتا ہی نہیں چلے گا۔ اگر حکومت خام تیل آج خریدنے کا فیصلہ کرتی ہے تو موجودہ قمیت پر پٹرول پندرہ بیس دن یا مہینے بعد آئے گا تو آج کیوں قیمت بڑھا دی۔
ساتھ وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ قیمت کم ہوتے ہی فوراً کم کردیں گے۔ تالیاں بجائیں یا ڈھول پیٹیں؟ انھوں نے اپنے جملے پر غور کیا ہے کہ کہہ کیا رہے ہیں؟ ٹرانسپورٹ کا کرایہ بڑھ جائے گا تو کیا کم کرا دیں گے؟ آٹا، دال، چاول، گھی کی قیمت بھی بڑھے گی، کیا اسے بھی کم کرادیں گے؟ کیا آج سے پہلے کبھی قیمت کم ہوسکی ہے؟ سوائے آٹے کے درمیانے سائز کی کمپنی والی ڈبل روٹی 120روپے کی ملتی ہے، عام بیکری اسی سائز کی 130میں بیچ رہی ہے۔ کیا آپ نے قیمت کم کرا دی؟ ڈبل روٹی کی قیمت تو آج تک کم نہ کرا سکے، باقی کیا کرسکیں گے۔
بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے کہا تیل کی قیمت بڑھاؤ، ہم نے فوراً بڑھا دی۔ جون ختم ہونے تک لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے جو جمع کرنا ہیں۔ اصل بات یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھی اصل یہ ہے کہ لیوی بڑھانا تھی تاکہ ہدف کے مطابق رقم جمع ہوسکے۔ صرف پیسا جمع کرنا ہی تو حکومت کا کام ہے۔
حکومت بار بار کہتی ہے معیشت استحکام کی طرف گامزن ہے، ایسے استحکام کا کیا اچار ڈالنا ہے جو صرف حکومت کو نظر آتا ہے عوام کو نہیں۔ حکومت کی نظر میں استحکام کا مطلب ٹیکس اور لیوی لگا لگا کر عوام کی جیب سے رقم نکالنا ہے۔ گیس اور بجلی کے بل ہی دیکھ لیں، فکسڈ چارجز کے نام پر لوٹ سیل لگا رکھی ہے۔ اگر واقعی استحکام آگیا ہے تو پھر عوام پر ٹیکس پر ٹیکس کیوں لگایا جارہا ہے۔
حکومت کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں۔ خسارے میں چلنے والوں اداروں کو بیچ دیا جائے گا۔ بڑی کوششوں کے بعد پی آئی اے کو ہی فروخت کیا جاسکا ہے۔ باقی اداروں کا اب تک کیا ہوا، اسی طرح خسارے پر خسارا دیے جارہے ہیں۔
ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہے، وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 میں سرکاری ملکی اداروں کا خالص خسارا 300 فیصد بڑھ گیا یعنی 25 اداروں کا مجموعی نقصان 832 ارب روپے تک جا پہنچا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا نقصان 295 ارب کے قریب رہا۔ بجلی کمپنیاں بھی نقصان میں رہیں۔ اور سالانہ اربوں کھربوں کا کا خسارا دینے والے ادارے آج بھی چل رہے ہیں۔
اداروں کا خسارا تو اپنی جگہ حکومتی قرض کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ آج یہ قرض 79 ہزار 322 ارب کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ایک سال میں قرض میں 7 ہزار 198 ارب روپے کا اضافہ ہوا، یہ ڈیٹا بھی اسٹیٹ بینک بتا رہا ہے۔ کوئی بتائے گا کہ یہ پیسا آخر گیا کہاں؟
پیسوں کی بات آئی ہے تو یہ بھی جان لیں کہ ملک میں تنخواہ دار واحد طبقہ ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز، ریٹیلرز، ایکسپورٹرز کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے نے 352 فیصد زیادہ ٹیکس دیا ہے۔ 2024 میں تنخواہ داروں نے 391 ارب روپے براہ راسٹ ٹیکس دیا۔
یہ وہ لوگ ہیں جو مختلف اداروں میں رات دن خون پسینا ایک کرتے ہیں اور انھیں مناسب مشاہرہ تک نہیں ملتا۔ نہ میڈیکل کی سہولت ہوتی ہے اور نہ کوئی اور۔ یہی لوگ سفید پوش یا متوسط طبقہ کہلاتے ہیں اور اسی عوام کے لیے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر وصولی شروع کردی گئی ہے۔ وصولی، منافع خوری یا بھتا، جو لفظ اچھا لگے، ہم یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔ تیل کی قیمت بڑھنے کا اصل خسارا تو اسی طبقے یعنی عوام کو ہوگا۔
عوام کی جیب سے پیسے پر پیسا نکالا جا رہا ہے اور دوسری طرف حکومت چاہتی ہے کہ ارکان پارلیمان کے اثاثے تک عوام کو پتا نہ چلیں۔ حکومت نے الیکشن ترمیمی بل لانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ارکان کا مال و اسباب محفوظ بنایا جائے، کس کے پاس کتنا مال ہے، یہ بات عوام کو نہ پتا چلے۔
جب کہ اسی حکومت نے سول سرونٹس یعنی عوام ہی کی ایک قسم کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ سمیت رشتہ داروں سمیت سب کے اثاثے ظاہر کریں گے۔ یہ کیسی دہری پالیسی ہے کہ ارکان پارلیمان کے اثاثے چھپا لو، عوام کے اثاثے ظاہر ہونے چاہئیں، تاکہ ان پر ٹیکس بھی لگایا جائے۔ نا صرف ٹیکس لگایا جائے بل کہ بھرپور ٹیکس لگایا جائے۔ ارکان پارلیمان میں کیا سرخاب کے پر لگے ہیں۔
حکومت بات تو عوام کی کرتی ہیں لیکن کیا اس سارے عمل میں کہیں عوام نظر آتے ہیں؟ ہاں، ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانا تو ہو حکومت کو عوام یاد آجاتے ہیں۔ لوٹ کا یہ سلسلہ کبھی رکے گا بھی۔ یا ہر بار قوم کو قربانی دینا ہوگی کا نعرہ لگا کر عوام کو لوٹا جاتا رہے گا۔ حکومت قرض لیتی رہے گی اور اقتدار کے مزے بھی لوٹتی رہے گی۔

















