کام نہ کرنے کے باوجود مسلسل تھکن کیوں محسوس ہوتی ہے؟
آج کل بہت سے لوگوں کو زیادہ جسمانی مشقت کیے بغیر بھی مسلسل تھکن اور کمزوری محسوس کرنے کی شکایت رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف عام تھکن نہیں بلکہ بعض اوقات جسم میں وٹامن بی12 کی کمی کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
بعض افراد صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد بھی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں، جسم بھاری لگتا ہے اور معمولی سا کام کرنے پر بھی سانس پھولنے لگتی ہے۔
ماہر غذائیت سونیا نرنگ کے مطابق اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی ہو سکتی ہے۔ یہ وٹامن جسم میں خون بنانے اور توانائی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب جسم میں اس اہم وٹامن کی کمی ہو جاتی ہے تو یہ خون کی کمی (انیمیا) کا باعث بنتی ہے، جس سے خلیات کو مناسب توانائی نہیں مل پاتی اور انسان کو ہر وقت تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
وٹامن بی 12 کی کمی کی صورت میں جسم میں کئی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ متاثرہ افراد کو مسلسل تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے اور معمولی سا کام کرنے پر بھی سانس پھولنے لگتی ہے۔
بعض اوقات جلد کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے یا بدلنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ زبان میں سوجن یا جلن کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔ ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ محسوس ہونا بھی اس کمی کی ایک عام علامت ہے۔
بعض لوگوں کو توجہ مرکوز کرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ چونکہ یہ علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اس لیے بہت سے لوگ ابتدا میں انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علامات وقت کے ساتھ بڑھتی ہیں، اس لیے انہیں نظر انداز کرنا اعصابی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق وٹامن بی 12 کی کمی کئی وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات جسم اس وٹامن کو صحیح طریقے سے جذب نہیں کر پاتا کیونکہ معدے میں بننے والا ایک خاص پروٹین کم ہو جاتا ہے جو اس کے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
کچھ افراد میں آٹو امیون مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں جن میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے معدے کے خلیات کو متاثر کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض ادویات کا طویل عرصے تک استعمال بھی وٹامن بی 12 کی سطح کو کم کر سکتا ہے۔ کئی بار خوراک میں وٹامن بی 12 سے بھرپور غذاؤں کی کمی بھی اس مسئلے کا سبب بن جاتی ہے۔
اگر کسی شخص کو طویل عرصے تک کمزوری، تھکن یا سانس پھولنے جیسی علامات محسوس ہوں تو ڈاکٹر مختلف ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔ ان میں وٹامن بی 12 لیول ٹیسٹ، فولیٹ ٹیسٹ اور سی بی سی یعنی مکمل خون کا ٹیسٹ شامل ہیں۔
ان ٹیسٹوں کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جسم میں خون یا وٹامن کی کمی تو موجود نہیں۔
اگر معائنے کے بعد وٹامن بی 12 کی کمی کی تصدیق ہو جائے تو ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق علاج شروع کرتے ہیں۔ عام طور پر ابتدا میں وٹامن بی 12 کے انجیکشن دیے جاتے ہیں تاکہ جسم میں اس وٹامن کی مقدار جلدی بڑھائی جا سکے۔
اس کے بعد ضرورت کے مطابق گولیاں یا سپلیمنٹس بھی تجویز کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خوراک میں بھی تبدیلی کی جاتی ہے اور ایسی غذائیں شامل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جن میں وٹامن بی 12 وافر مقدار میں موجود ہو، جیسے دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء، مچھلی، گوشت اور فورٹیفائیڈ سیریلز شامل کر کے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے تاکہ طویل مدتی اعصابی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وٹامن بی 12 کی کمی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ طویل عرصے تک شدید کمزوری، اعصابی نظام کے مسائل اور خون کی کمی جیسی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے اگر کسی کو مسلسل تھکن، جسم میں کمزوری یا سانس پھولنے کی شکایت ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
















