امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے: اصفہان میں روسی قونصلیٹ کی عمارت کو نقصان

دونوں فریق سفارتی دفاتر اور عملے کی حفاظت یقینی بنائیں: روس کا مطالبہ
شائع 11 مارچ 2026 01:16pm

روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کا کہنا ہے کہ ایران کے شہر اصفہان میں حملے کے دوران روسی قونصلیٹ جنرل کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ روس نے دونوں فریقین سے سفارتی عمارتوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ 8 مارچ کو اصفہان کے گورنر کے دفتر پر حملے میں روسی قونصلیٹ جنرل کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان کے مطابق دھماکوں کے باعث دفتر کی عمارت اور رہائشی اپارٹمنٹس کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان یا زخمی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے جس کا اثر براہ راست یا بالواسطہ دیگر ممالک اور ان کے شہریوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ جب کہ غیر ملکی سفارتی مشنز اور قونصلیٹ بھی نشانے پر آ رہے ہیں۔

روس نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریقین سفارتی دفاتر اور عملے کی حفاظت کریں کیوں کہ ان پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے فوری خاتمے کے لیے سیاسی اور سفارتی تصفیے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں۔