ایک ایسا ملک جہاں لوگ کھڑکیوں پر پردے لگانے سے ڈرتے ہیں
اگر آپ شام کے وقت ایمسٹرڈیم یا نیدرلینڈز کے کسی بھی رہائشی علاقے میں چہل قدمی کریں تو جیسے ہی گھروں میں لائٹس جلتی ہیں، کھڑکیوں کے شیشوں سے اندر کا منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ صوفے، لیمپس، ڈائننگ ٹیبل اور بعض اوقات خاندان کے افراد کھانا کھاتے ہوئے بھی نظرآ جاتے ہیں, یہاں عموماً کھڑکیوں پر پردے نہیں ہوتے، لیکن نیدرلینڈز میں لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
ہم سب ہی جانتے ہیں کہ تمام ہی ممالک میں لوگ اندھیرا ہوتے ہی پردے ڈال دیتے ہیں، کیونکہ گھر کی لائنٹس میں باہر سے اندر کا منظر صاف نظر آتاہے لہٰذا پردے ڈال دیے جاتے ہیں، لیکن نیدرلینڈز میں یہ روایتی طور پر کم دیکھا جاتا ہے۔ دن کے وقت بھی بہت سی کھڑکیاں بغیر پردے کے کھلی رہتی ہیں اور یہاں لوگ اکثر پردے نہیں لگاتے۔
یہ روایت برسوں سے غیر ملکیوں کے لیے تجسس کا باعث رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ لوگ مختلف وجوہات پیش کرتے ہیں، کچھ اسے مذہبی روایات سے جوڑتے ہیں، کچھ تاریخی اثرات قرار دیتے ہیں، اور بعض موسم کی وجہ بتاتے ہیں۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈچ لوگ اجنبیوں کو اپنے گھروں میں جھانکنے کی اجازت نہیں دیتے، گلی سے گزرتے ہوئے سرسری نظر معمول کی بات ہے، مگر گھورنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کھلی کھڑکیاں کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ نجی اور عوامی زندگی کے توازن سے جڑی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روایت ڈچ تاریخ میں ایک اہم مذہبی روایت سے جڑی ہوسکتی ہے۔ اس کے مطابق پردے کے بغیر کھڑکیاں دیانت داری اور شفاف زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں، تاہم آج کے دور میں، جب معاشرہ کافی حد تک سیکولر ہو چکا ہے، یہ واحد وجہ نہیں۔

ایک اور نظریہ دوسری جنگِ عظیم سے جڑا ہے، جب جرمن قبضے کے دوران رات کو مکمل بلیک آؤٹ لازمی تھا اور روشنی باہر نکلنے پر جرمانہ ہوتا تھا۔ جنگ کے بعد آزادی کے احساس نے لوگوں کو پردے کھولنے کی ترغیب دی، لیکن یہ روایت کی مستقل بنیاد نہیں۔
نیدرلینڈز میں سورج کی روشنی محدود ہوتی ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب دن چھوٹے اور آسمان اکثر ابر آلود ہوتا ہے۔ قدرتی روشنی کی اہمیت کے سبب لوگ گھروں میں پردے کم لگاتے ہیں تاکہ روشنی اندر داخل ہو اور کمرے روشن رہیں۔ پھر بھی یہ وجہ رات کے وقت پردے نہ ہونے کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔
جب یہ تمام وجوہات مستند نہیں تو پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے، یہ بات بہرحال تجسس پیدا کرتی ہے کہ آخر کیوں اپنے گھر کا منظر اور پرائیویسی کونظر انداز کرکے ہر آنے جانے والے کی چاہے ایک سرسری نظر ہی سہی کیوں بےنقاب کیا جائے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے مضبوط وجہ سماجی رویہ اور پڑوسیوں سے تعلقات ہیں۔ کھلے پردے محلے اور گلی کے ساتھ جڑے رہنے کا احساس دیتے ہیں۔ باہر کیا ہو رہا ہے اور کون گزر رہا ہے، سب کچھ ایک نظر میں معلوم ہو جاتا ہے، جس سے تحفظ اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یوں کھڑکیاں اندر اور باہر کے درمیان ایک نرم حد کا کردار ادا کرتی ہیں۔
ڈچ گھروں میں بڑی کھڑکیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پردے لگانے سے کمرے چھوٹے اور اندھیرے محسوس ہو سکتے ہیں، اس لیے لوگ جان بوجھ کر اپنے گھروں کو اس انداز میں سجاتے ہیں کہ جزوی طور پر باہر سے نظر آ سکیں۔
یہاں ایک خاموش سماجی معاہدہ بھی کام کرتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سب کے پردے کھلے ہوں تو کہاں رکنا ہے اور کیسے برتاؤ کرنا ہے۔ یعنی پردے نہ ہونے کا مطلب فضول تجسس نہیں بلکہ معاشرتی آداب کے تحت رازداری کی حفاظت ہے۔
مجموعی طور پر اور کچھ رپورٹ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیدرلینڈز میں پردے نہ لگانے کی روایت کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ تاریخ، سماجی اعتماد، گھریلو ڈیزائن اور روزمرہ زندگی کا مجموعہ ہے۔ جو چیز سیاحوں کے لیے عجیب لگتی ہے، وہ ڈچ لوگوں کے لیے ایک کھلی، پُرسکون اور معمول کی زندگی کی علامت ہے۔
















