ایران کے قریب مزید تین تجارتی بحری جہازوں پر حملے

جنگ کے آغاز سے اب تک متاثر ہونے والے جہازوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔
شائع 11 مارچ 2026 06:11pm

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے بدھ کے روز اسرائیل اور خطے کے دیگر مقامات پر حملے کیے جب کہ خلیج میں کم از کم تین تجارتی بحری جہاز نامعلوم حملوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔

میری ٹائم سیکیورٹی کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق خلیج میں 3 مزید تجارتی بحری جہاز نامعلوم پروجیکٹائلز کے ذریعے نشانہ بنائے گئے ہیں، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک متاثر ہونے والے جہازوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اہداف پر حملے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود تہران اب بھی جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہفتے کے آغاز میں تیزی دیکھی گئی تھی تاہم بعد ازاں قیمتوں میں کچھ کمی آئی اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی۔

سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کوئی راستہ نکال سکتے ہیں تاہم زمینی صورت حال میں کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے محفوظ ہونے کے حوالے سے اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق منگل کے روز ایران پر کیے گئے حملے جنگ کے آغاز سے اب تک کے سب سے شدید حملے تھے۔

دوسری جانب تہران میں ایک بینک کے دفاتر پر حملے کے بعد ایران کی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ وہ ان بینکوں کو نشانہ بنا سکتی ہے جو امریکا یا اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں جب کہ بیان میں لوگوں کو بینکوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ادھر ایران میں فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی نمازِ جنازہ کے موقع پر بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے جب کہ شرکا نے تابوت اٹھائے اور مقتول رہنما علی خامنہ ای اور ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔