’نہ ہدف واضح، نہ واپسی کا راستہ‘: امریکی سینیٹر نے ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کی بوکھلاہٹ آشکار کردی

نہ نیوکلیئر پروگرام کی تباہی اور نہ حکومت کی تبدیلی امریکی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے: سینیٹر کرس مرفی
شائع 11 مارچ 2026 07:25pm

امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکام کانگریس کو دی گئی خفیہ بریفنگ کے دوران کوئی بھی مربوط منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کرس مرفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے اس تنازع پر دو گھنٹے طویل بریفنگ میں شرکت کی اور وہ عوام کو یہ بتانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ قانون سازوں کو کیا بتایا گیا۔

مرفی نے لکھا: ”آپ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جنگ کے یہ منصوبے کس قدر غیر مربوط اور نامکمل ہیں۔“

مرفی کا کہنا تھا کہ یہ میٹنگ بند کمرے میں اس لیے رکھی گئی کیونکہ انتظامیہ عوامی سطح پر اپنی حکمتِ عملی کا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

انہوں نے مزید کہا: ”تمام بریفنگز خفیہ رکھی جا رہی ہیں کیونکہ ٹرمپ عوامی سطح پر اس جنگ کا دفاع نہیں کر سکتے۔ میں ظاہر ہے خفیہ معلومات فاش نہیں کر سکتا، لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ جنگی منصوبے کتنے ادھورے ہیں۔“

جنگی اہداف میں جوہری پروگرام شامل نہیں

مرفی کے مطابق، اس بریفنگ کا سب سے حیران کن انکشاف یہ تھا کہ جنگ کے مقاصد میں ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی شامل نہیں ہے۔

سینیٹر نے کہا کہ یہ اعتراف اس لیے چونکا دینے والا ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ہی اس جنگ کے جواز کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

مرفی نے مزید کہا: ”لیکن ظاہر ہے، ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ فضائی حملے ان کے ایٹمی مواد کو مکمل ختم نہیں کر سکتے۔“

مرفی نے یہ بھی بتایا کہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ تہران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ (رجیم چینج) بھی سرکاری حکمتِ عملی کا حصہ نہیں ہے۔

انہوں نے تبصرہ کہا: ”وہ آپ کے ٹیکس کے اربوں ڈالر خرچ کرنے جا رہے ہیں، بہت سے امریکیوں کو مروائیں گے اور آخر میں ایک سخت گیر حکومت جو کہ شاید پہلے سے بھی زیادہ امریکا دشمن ہوگی، پھر بھی اقتدار میں رہے گی۔“

جنگ کے خاتمے کی کوئی وضاحت نہیں

مرفی کے مطابق، حکام نے اشارہ دیا کہ جنگ کا بنیادی مقصد میزائل سسٹم، بحری اثاثوں اور ڈرون فیکٹریوں کو نشانہ بنا کر ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

تاہم، جب یہ پوچھا گیا کہ بمباری کی مہم ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا، تو حکام کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

مرفی نے لکھا: ”وہ سوال جس نے انہیں لاجواب کر دیا وہ یہ تھا: جب آپ بمباری روک دیں گے اور وہ دوبارہ پیداوار شروع کر دیں گے تو کیا ہوگا؟ انہوں نے مزید بمباری کی طرف اشارہ کیا، جس کا مطلب ہے نہ ختم ہونے والی جنگ۔“

آبنائے ہرمز کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں

سینیٹر مرفی نے یہ انتباہ بھی کیا کہ امریکا کے پاس اس وقت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ نہیں ہے۔ یہ ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ کے آغاز سے یہ آبی راستہ شدید متاثر ہوا ہے۔

مرفی نے لکھا: ”میں اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا کہ ایران کس طرح اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، لیکن اتنا کہنا کافی ہے کہ فی الحال وہ نہیں جانتے کہ اسے بحفاظت دوبارہ کیسے کھولا جائے۔“

انہوں نے اس صورتحال کو ناقابلِ معافی قرار دیا کیونکہ اس تباہی کا اندازہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سو فیصد لگایا جا چکا تھا۔