ایران کا اسرائیل میں پالماہیم اور عودہ ایئربیسز، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران اور حزب اللہ کے حملوں کے باعث تل ابیب اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی شہری پناہ گاہوں میں محصور
اپ ڈیٹ 12 مارچ 2026 06:17pm

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے پالماہیم اور عودہ ائربیسز کے ساتھ داخلی سلامتی ایجنسی شِن بیت کو بھی ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ جنگ کے تیرہویں دن بھی کشیدگی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

پاسداران انقلاب نے ’بیت المقدس کے نام‘ سے اسرائیل پر آپریشن وعدہ صادق کی 41 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس تازہ کارروائی میں تل ابیب اور مقبوضہ بیت القدس میں صیہونی اہداف کے علاوہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ہائپرسونک اور بھاری میزائلوں سمیت جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں کی تازہ لہر میں اسرائیلی فوجی اڈے پالماہیم اور عودہ ایئربیسز کے علاوہ داخلی سکیورٹی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر شِن بیت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اسرائیل کے فوجی ڈھانچے، نگرانی ٹاورز، رن ویز اور ہینگرز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ جس کا مقصد اسرائیل کی فوجی اور داخلی سلامتی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانا تھا۔

ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں دشمن کے ریڈار نظام کے کچھ حصے تباہ کر دیے گئے ہیں جس کے بعد ایرانی افواج کے لیے کارروائیاں مزید آسان اور مؤثر ہو گئی ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق جاری آپریشنز اب پہلے سے زیادہ درستگی کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے 28 فروری سے جاری جنگ میں اب تک کم از کم 13 افراد ہلاک اور تقریباً دو ہزار افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پالماہیم ائربیس تل ابیب کے قریب واقع ہے اور یہ اسرائیل میں سٹیلائٹس اور میزائل ٹیسٹ لانچ کرنے کا مرکزی مقام ہے۔ عودہ ائربیس اسرائیلی فضائیہ کا ایک اسٹریٹجک اور تربیتی فضائی اڈہ ہے جب کہ شِن بیت اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی کا مرکز ہے۔ یہ ایجنسی سیکیورٹی آپریشنز کی کمانڈنگ، اہم شخصیات اور تنصیبات کی حفاظت کی کوآرڈی نیشن کی ذمہ دار ہے۔

اسرائیل کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں یروشلم میں الارم بج اٹھے اور فوج نے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ رات کے وقت ایران اور حزب اللہ کی جانب سے میزائل حملوں کے باعث تل ابیب اور لبنان کے شمالی سرحدی علاقوں میں شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران کی اہم نیوکلیئر سائٹ ’طالقان 2‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کے قریب واقع اس نیوکلیئر سائٹ پر ہتھیار بنائے جارہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سائٹ کو خفیہ نگرانی اور سائنس دانوں کی نقل و حرکت پر مبنی معلومات کے بعد کیا گیا۔