ایران کے خلاف حملے 3 ہفتوں تک جاری رکھیں گے: ترجمان اسرائیلی فوج

میں ابھی ایران سے ڈیل کے لیے تیار نہیں ہوں: امریکی صدر
شائع 15 مارچ 2026 07:29pm

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں ابھی مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ایران میں اب بھی ہزاروں اہداف موجود ہیں جنہیں نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے کم از کم آئندہ تین ہفتوں تک اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ یہودی تہوار پاس اوور تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کے بعد بھی مزید کارروائیوں کے امکانات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج وقت کی پابندی کے مطابق نہیں بلکہ اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی حکومت اور اس کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی اس مہم کے دوران اسرائیلی فضائیہ ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں تقریباً 400 فضائی حملوں کی لہر چلا چکی ہے۔ ان حملوں میں بنیادی طور پر فوجی انفراسٹرکچر، دفاعی نظام اور ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترجمان ایفی ڈیفرن نے یہ بھی کہا کہ موجودہ جنگ نے خطے میں مزید فریقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ان کے مطابق لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے اس بار جنگ میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے جبکہ گزشتہ سال ہونے والی محدود جنگ کے دوران اس نے براہ راست کارروائی سے گریز کیا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق لبنان کی سرحد پر بھی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں اور اسرائیلی فوج شمالی سرحد کی طرف مزید دستے بھیج رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد حزب اللہ کو سرحد سے پیچھے دھکیلنا اور بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے وزیر توانائی کرس رائٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

امریکی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ یہ تنازع اگلے چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا جس کے بعد توانائی کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے امریکا کا ساتھ دینا چاہیے۔