جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 9 شہری جاں بحق
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ لبنانی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے مختلف علاقوں میں کیے گئے جن میں 23 افراد زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے ڈرون حملے میں کم از کم 12 فوجی زخمی ہوئے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق لبنان کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ علاقے میں خوف و ہراس کی صورتِ حال ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور عام شہریوں، طبی عملے، سول ڈیفنس، امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں گھروں اور عبادت گاہوں کی تباہی کے ساتھ ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر عون نے بتایا کہ اب تک تقریباً 17 امدادی کارکن اور پیرامیڈکس ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ صحافی بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 15 قصبوں کے رہائشیوں کو تازہ دھمکی جاری کرتے ہوئے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جن قصبوں کو نشانہ بنانے یا خالی کرنے کی وارننگ دی گئی ہے ان میں جِبشیت، حبّوش، حروف، کفر جوز، اپر نبطیہ، عبا، عدشیت الشقیف، عرب سلیم، تلت الخوری، اپر ہومین، المجدل، ارزون، دوئین، الحمیری اور معروب شامل ہیں۔
اسی دوران شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے ایک ڈرون حملے میں کم از کم 12 اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملہ اسرائیل-لبنان سرحد کے قریب شومیرا کے علاقے میں ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
فوجی حکام کے مطابق زخمیوں میں دو کی حالت درمیانی جب کہ کم از کم 10 کو معمولی زخم آئے ہیں۔ اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس کی جانب سے جاری تصویر میں ایک فوجی گاڑی کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے جس سے شدید دھواں اٹھ رہا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ لبنان کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے کم از کم چار بار انٹرسیپٹرز فائر کیے گئے۔ فوج کے مطابق بیشتر اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا تاہم کچھ حملوں کے نتائج کا جائزہ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق حزب اللہ حالیہ عرصے میں کم لاگت اور مؤثر حکمت عملی کے طور پر ڈرون ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال کر رہی ہے، جس کے ذریعے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اگرچہ بظاہر فائر بندی موجود ہے، لیکن اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ فرنٹ لائنز پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 2,500 سے زائد افراد ہلاک اور 7,900 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ صورتِ حال مسلسل بگڑ رہی ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں سرحدی حملوں اور فضائی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فائر بندی کے باوجود دونوں طرف سے حملے جاری رہنے سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔













