باجوڑ: افغانستان سے داغا گیا گولہ گھر پر گرنے سے 4 بھائی شہید

سالارزئی میں گھر پر گولہ گرنے سے پانچ سالہ بچہ شدید زخمی، وفاقی وزیر اطلاعات کی شدید مذمت
شائع 15 مارچ 2026 11:42pm

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے باجوڑ کے سالارزئی اور تبستہ لیٹئی علاقوں میں معصوم شہریوں پر دانستہ حملہ کیا، جس میں چار افراد شہید اور ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ آج دوپہر 3 بج کر 30 منٹ پر افغان طالبان نے سرحد پار سے باجوڑ کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں طالبان نے توپ خانے اور مارٹر فائرنگ کے ذریعے شہری آبادی کو ہدف بنایا، اور ایک گھر براہِ راست مارٹر گولے کی زد میں آیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ شہید ہونے والے چار بھائی ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ تھے۔ پانچ سالہ بچہ بھی شدید زخمی ہوا اور اسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے اس بزدلانہ حملے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور افغان طالبان کی مذمت کی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں اور فتنہ الخوارج جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے حملے نہ صرف انسانی اقدار بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ حملے کے ذمہ دار طالبان چوکیوں اور انفراسٹرکچر کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کی جا سکے۔