امریکا نے نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کیے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ غائب ہوگیا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے نیٹو کے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے، لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑی تو نیٹو غائب رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں نیٹو اور برطانیہ سے متعلق گفتگو کے دوران برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے بہت مایوس کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے جنگ جیتنے کے بعد جنگی طیارے بھیجنے کا اعلان کیا، جو کہ بروقت اقدام نہیں تھا۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی اور جلد اپنے اختتام کو پہنچے گی۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ دنیا میں جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ تنازع اب آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں اب کچھ باقی نہیں رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات تیزی سے کسی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے اندرونی حالات پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو پُرتشدد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے اور اگر اس کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ اسے امریکا کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور ان کی اطلاعات کے مطابق ایران کا نیا سپریم لیڈر بھی ممکنہ طور پر زندہ نہیں رہا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خارگ جزیرے میں موجود تیل کے ذخائر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خارگ جزیرے میں پڑے ذخیرے کا کچھ کرنا ہوگا، جو کہ ایران کی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔












