کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک
کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے کراچی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اہم کمانڈر سمیت چار انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ شہر قائد میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کارروائی کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن ملیر میں کی گئی، جہاں 17 فروری کو گرفتار دہشتگردوں سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر ان کا محاصرہ کیا گیا۔
آپریشن کے دوران دہشتگردوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چار دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں سے تین کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ چوتھے کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات کے بعد ایک اہم دہشتگرد کی شناخت سہیل بلوچ عرف گرک کے نام سے ہوئی، جو بی ایل اے کا اہم کمانڈر تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق سہیل بلوچ عرف گرک ”فتنہ الہندوستان“ کا بدنام دہشتگرد تھا، جو پہلے بلوچ لبریشن فرنٹ سے وابستہ رہا اور بعد ازاں 2022 میں بی ایل اے میں شامل ہوا۔ وہ تنظیم میں بطور اہم کمانڈر سرگرم تھا اور متعدد بڑی دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا۔
حکام نے بتایا کہ سہیل بلوچ دہشتگردوں کو اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کا ذمہ دار تھا اور پنجگور کے ڈپٹی کمشنر کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھا۔
اس کے علاوہ وہ 50 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں بھی مطلوب تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق سہیل بلوچ کا دہشتگرد رہنماؤں رحمان گل، ملا امین اور ڈاکٹر مکھو کے ساتھ براہِ راست رابطہ تھا، جبکہ جعفر ایکسپریس حملے کے لیے پانچ خودکش بمبار بھی اسی نے روانہ کیے تھے۔ مزید برآں وہ ناکے لگا کر لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سہیل بلوچ کی ہلاکت دہشتگرد نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا ہے اور اس کامیاب کارروائی کے ذریعے کراچی میں ممکنہ بڑے دہشتگرد حملے کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا گیا ہے۔

















