ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی

اعلان ان کے ذاتی اکاؤنٹ سے جاری پیغام کے ذریعے کیا گیا۔
اپ ڈیٹ 18 مارچ 2026 09:15am

ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ اعلان ان کے ذاتی اکاؤنٹ سے جاری پیغام کے ذریعے کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا اور شہادت کا درجہ پا گیا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے مطابق علی لاریجانی گزشتہ رات ایک محفوظ مقام پر ہونے والے حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ، نائب سیکیورٹی افسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروہ کے ہمراہ شہید ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل اسرائیل نے انہیں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ہاتھ سے لکھا پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ایرانی حکام نے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

شہید علی لاریجانی عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے اور پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ایرانی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ طویل عرصے تک ایران کی داخلی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

علی لاریجانی انقلاب ایران کے بعد ابھرنے والی اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ صدارتی سیاست میں بھی متحرک رہے اور کئی بار صدارتی انتخابات میں مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔

انہوں نے بارہ برس تک مجلس شورٰی کی قیادت کی اور ایران کے جوہری پروگرام کے لیے چیف مذاکرات کار کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے علی لاریجانی کو ایک ممتاز اور قابل قدر شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی زندگی بھر مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں اور ملکی ترقی و قومی پالیسی سازی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، ایرانی صدر نے واضح کیا کہ علی لاریجانی کی شہادت کا سخت انتقام لیا جائے گا۔