آبنائے ہرمز بندش: ٹرمپ انتظامیہ ایرانی جزیرے ’خارگ‘ پر قبضے کا پلان بنا رہی ہے: امریکی ویب سائٹ کا دعویٰ
امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انکی انتظامیہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرنے کیلئے ’جزیرہ خارگ‘ پر قبضے یا اس کی ناکہ بندی کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ جزیرہ ایرانی ’آئل اکانومی‘ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سخت فوجی نگرانی کے باعث ایران میں اسے ’ممنوعہ جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے آگاہ چار ذرائع نے بتایا ہے کہ ’خارگ‘ امریکا کی ممکنہ حکمت عملی کا اہم ہدف بن سکتا ہے۔ ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی پراسیسنگ اور ایکسپورٹ اسی جزیرے سے ہوتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر اس مقصد کیلئے ’خارگ‘ پر قبضے یا ساحلی علاقوں پر شدید حملوں کے آپشنز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جب تک یہ صورت حال برقرار رہے گی، اس وقت تک صدر ٹرمپ کیلئے جنگ کو اپنی شرائط پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ’خارگ‘ پر قبضے کی کوشش امریکی فوجیوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال سکتی ہے، اسی لیے امریکا ایسی کسی بھی کارروائی سے قبل ایران کی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کیلئے حملے جاری رکھ سکتا ہے۔
اس ممکنہ آپریشن کیلئے اضافی امریکی فوجیوں کی ضرورت ہوگی، تین میرین یونٹس پہلے ہی خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں جبکہ مزید نفری بھیجنے پر بھی غور جاری ہے۔
امریکی فوج کے ریٹائرڈ رئیر ایڈمرل مارک مونٹگمری کے مطابق اس اقدام سے امریکی فوج کو غیر ضروری خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکا نے 13 مارچ کو خارگ پر درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا، اس کے ساتھ ہی میڈیا رپورٹس میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس جزیرے پر فوجیں اتارنے اور قبضہ کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت کی ہے۔
ایگزیوس نے بھی اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خارگ پر قبضہ، بحری ناکہ بندی یا دیگر عسکری آپشنز پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے، پینٹاگون کے قانونی ماہرین سے بھی ان اقدامات کی قانونی حیثیت پر مشاورت کی جا چکی ہے۔
ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ خطے میں جن امریکی میرینز کو بھیجا جارہا ہے انہیں ’خارگ‘ پر اتارنے کے علاوہ دیگر ممکنہ مشنز، جیسے خطے میں موجود سفارتی عملے کے انخلا کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔













